’’ڈیم فنڈ‘‘ امریکہ میں پاکستانی سفارتخانہ متحرک مہم شروع کردی

’’ڈیم فنڈ‘‘ امریکہ میں پاکستانی سفارتخانہ متحرک مہم شروع کردی

واشنگٹن(آن لائن) پاکستانی سفارتخانے نے امریکہ میں مقیم اپنے ہم وطنوں سے دیامیربھاشا اور مہمند ڈیمز فنڈز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کردی۔دوسری جانب عوامی چندہ سے ڈیم بنانے کی بحث تاحال جاری ہے، حکومت نے امید ظاہر کی ہے چندہ کے ذریعے ڈیم کی تعمیر کیلئے بڑی رقم جمع کی جا سکتی ہے اور امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد صاحب ثروت ہے جن کے تعاون سے خطیر رقم جمع ہو سکتی ہے۔واشنگٹن کے تحقیقی ادارے ولسن سینٹر میں ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین کاکہنا ہے عمران خان کو امریکی معاشرے میں پا کستانیوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے،انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی معاشی صورتحال کی وجہ سے مہم میں زیادہ حصہ نہیں لے سکیں گے، تاہم انہوں نے ڈیم کی تعمیر سے متعلق اپیل کو ’پرعزم جذبہ‘ قرار دیا اور ٹوئٹ کیا کہ عمران خان بیرون ملک پاکستانیو ں کے حالات بہتر سمجھتے ہیں، انہوں نے دنیا کا سفر کیا اور فنڈ جمع کیا، انہیں چندہ جمع کرنے اور ہدف کی تکمیل سے متعلق ایک دہائی کا تجربہ ہے ، وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔دوسری جانب واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے نے خود کو اس بحث سے دور رکھا کہ چندہ سے ڈیم تعمیر کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔اس کے برعکس امریکہ میں مقیم پاکستانی تاجر برادری کو مراسلہ ارسال کیا گیا جس میں انہیں ڈیم کی تعمیر کیلئے کھلے دل سے چندہ دینے کی اپیل کی گئی۔مراسلے میں پاکستانیوں سے کہا گیا ہے نیویارک میں نیشنل بینک آف پاکستان کی برانچ میں اکاؤنٹ کھول دیا گیاہے،مراسلے میں بینک اکاؤنٹ سے متعلق ساری تفصیلات بھی درج ہیں ۔علاوہ ازیں مائیکل کوگلمین نے پانی بحران سے نمٹنے کیلئے حکومتی نقطہ نظر کی حمایت کی،ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ڈیم کی تعمیر کیلئے چندہ کرنے کے بجائے تربیلا ڈیم کے موجودہ ڈھانچے کو درست کرلیا جائے تو خرچہ بھی کم ہوگا اور مشکلات بھی زیادہ نہیں ہوں گی۔انہوں نے ورجینیا میں پی ٹی آئی کے رہنما جونی بشیر کے حالیہ بیان کے حوالے سے کہا کہ موجودہ نہری نظام کو بہتر کرکے غیر معمولی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔واضح رہے جونی بشیر نے کہا تھا حکومت جانتی ہے 12 ارب ڈالر کے چندے سے بھاشا ڈیم تعمیر نہیں کیا جاسکتا تاہم چندہ کے علاوہ بھی دیگر امور پر سوچا جارہاہے،اسلئے اپنا حصہ شامل کریں اگر نہیں کرنا چاہتے تو دوسروں کو مت روکیں۔

سفارتخانہ متحرک

مزید : صفحہ اول