کنٹونمنٹ بورڈ میں تجاوزات کی بھر مار ،راہ چلتے مسافروں کو مشکلات

کنٹونمنٹ بورڈ میں تجاوزات کی بھر مار ،راہ چلتے مسافروں کو مشکلات

پشاور(سٹی رپورٹر)کنٹونمنٹ بورڈ کی انتظامیہ کی جانب سے تجاوزات کے خاتمہ کے دعوؤں کے برعکس کینٹ بازاروں میں تجاوزات کی بھرمارہوگئی ہے جبکہ بعض شاہراہوں پر دکانداروں نے فٹ پاتھوں پر بھی دکانیں سجارکھی ہیں، شعبہ انسداد تجاوزات کے عملہ اور دکانداروں کی ملی بھگت سے بازار میں ریڑھیو ں اور چھابڑی ،فروشوں اور دکانداروں کی طرف سے سامان دکانوں کے باہر رکھنے سے شہریوں کا گزرنامحال ہوگیاہے۔کنٹونمنٹ بورڈپشاور کی جانب سے تجاوزات کیخلاف آپریشن تو کی جارہی ہے لیکن اسکے باوجود بازار وں میں تجاوزات ختم ہونے کے بجائے خطر ناک شکل اختیار کرلی ہے کیونکہ کنٹونمنٹ بورڈ بنے صدر روڈ پر پارکنگ کو جائز قراردیکر باقاعدہ ٹھیکہ دیدیاہے مین صدر روڈ پرگاڑیاں کھڑی کے باعث روڈ تنگ ہو چکی ہے جس سے دن بھر اس روڈ پر ٹریفک رینگ رینگ کر چلتی رہتی ہے ،جبکہ اندروں بازارفوارہ چوک،لیاقت بازار،نوتھیہ کی جانب سے جانے والے راستے اورگاڑی احاطہ سمیت دیگرمقامات پر چھابڑی فروشوں اورہتھ ریڑھیوں کیساتھ ساتھ رکشہ، سبزی یا پھل فروخت کرنیوالے بھی کسی سے پیچھے نہیں ہوتے ، جوروڈکے درمیان کھڑے ہو جاتے ہیں مگر کینٹ بورڈ کا عملہ بازاروں میں کم ہی نظر آتا ہے ،فوارہ چوک دیگر مارکیٹ اوراس سے ملحقہ بازاروں کی سڑکیں بھی تجاوزات کی زد میں آئی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کا جینا حرام ہو گیا ہے ،لیاقت بازار میں اور شفیع مارکیٹ میں چھابڑی فروشوں کا رش پھر بڑھ گیا ہے ۔جبکہ شعبہ انسداد تجاوزات کے عملہ پر چیک نہ ہونے کی وجہ سے کینٹ کے بازاروں میں تجاوزات میں آئے روز اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے ۔اس سلسلے میں شہریوں کا کہنا ہے کہ محض دکھانے کیلئے کینٹ کے دن میں ایک دو بازاروں میں ٹرک گھما کر دو چار ریڑھیاں اٹھانے کو عملہ اپنی کارکردگی سمجھنے لگا ہے ،حالانکہ اس کے برعکس صدر کے بازاروں میں شہری علاقوں سے زیادہ تجاوزات موجود ہیں۔ شہریوں کامزید کہنا ہے کہ عملہ کی مبینہ ملی بھگت کے بغیر کینٹ کے بازاروں میں ریڑھی کھڑی کرنے کا تصور بھی ممکن نہیں ہے مگر صدر کے اہم بازاروں میں جگہ جگہ ریڑھیاں کھڑی نظر آتی ہیں ، کینٹ بورڈ کے افسران تجاوزات کے خاتمہ کے حوالے سے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔اس سلسلے میں کنٹونمنٹ بورڈ کے متعلقہ شعبہ کے حکام کا کہنا ہے کہ تجاوزات کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر آپریشن کیا جاتا ہے ، ریڑھیاں بھی اٹھائی جاتی ہیں مگر پتہ نہیں یہ لوگ دوبارہ کہاں سے ریڑھیاں لے کر آجاتے ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر