11ستمبر1948ء یومِ وفاتِ قائداعظم پاکستانی خواتین کا اظہارِ عقیدت

11ستمبر1948ء یومِ وفاتِ قائداعظم پاکستانی خواتین کا اظہارِ عقیدت

قائد اعظم نے فرمایا:

خوشی کی بات ہے کہ مسلمان خواتین میں بھی انقلابی تبدیلی ہو رہی ہے۔ یہ تبدیلی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ دنیا میں کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اُس قوم کے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی آگے نہ بڑھیں۔

مسلم کنونشن دہلی17اپریل 1942ء

آپ کے پاس اس سے بھی بڑی کامیابی کی کنجی ہے۔وہ کنجی ہے آپ کی آئندہ نسل۔ اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کیجئے کہ وہ پاکستان کے قابل فخر شہری اور موزوں سپاہی بن سکیں۔ آپ نے پاکستان کے لئے بہت سی قربانیاں دی ہیں، اُس پاکستان کے لئے جسے اب ساری دنیا ایک مسلمہ حقیقت تسلیم کرچکی ہے۔ بس ایک قدم اور آگے بڑھانا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب ساری دنیا کی قومیں پاکستان کی تعریف و توصیف کریں گی، انشاء اللہ۔

مسلم لیگ کے شعبۂ خواتین سے خطاب، کراچی6فروری 1948ء

قوم کی تعمیر اور اس کے استحکام کے عظیم کٹھن کام کے سلسلے میں خواتین کو انتہائی اہم کردار ادا کرنا ہے خواتین قوم کے نوجوانوں کے کردار کی معمار ہوتی ہیں جو مملکت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ حصول پاکستان کی طویل جدوجہد میں مسلمان خواتین اپنے مردوں کے پیچھے مضبوطی سے ڈٹی رہی ہیں۔ تعمیر پاکستان کی اُس سے بھی سخت اور بڑی جدوجہد ہیں، جس کا ہمیں اب سامنا ہے، یہ نہ کہا جائے کہ پاکستان کی خواتین پیچھے رہ گئیں یا اپنا فرض ادا کرنے سے قاصر رہیں۔

ریڈیو پاکستان، ڈھاکہ 28 مارچ 1948ء

11ستمبر کا دن مملکتِ پاکستان کے یادگاری ایام میں ایک ایسا دن ہے جو دکھ اور رنج و غم لئے ہوئے ہے۔ سال 1948ء کے ماہ ستمبر کی گیارہویں تاریخ تھی جب خالق پاکستان اور بابائے قوم محمد علی جناحؒ نے رحلت فرمائی تھی۔ قائد اعظم کی وفات کی اندوہناک خبر پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔ لوگوں کو یقین نہیں ہورہا تھا کہ اُن کا محبوب قائد اُن سے جُدا ہوگیا ہے۔ پاک و ہند کے ممتاز ادیب سعادت حسن منٹو نے اگلے روز امروز اخبار میں دِل گرما دینے والا ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ’یہ جھنڈے سرنگوں کرنے کا نہیں، جھنڈے سر بلند کرنے کا دن ہے‘۔منٹو نے مختصر سے مضمون میں اپنے قائد کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا اور عوام کی ہمت بندھائی کہ دکھ اور اَلَم کی ان گھڑیوں میں بھی اُس سفر کو جاری رکھنا ہے جس پر قوم اپنے عظیم قائد کی رہنمائی میں گامزن تھی۔ میرا دل رنج سے بھر جاتا ہے جب میں ایک تصویر دیکھتی ہوں جس میں میرے عظیم قائد کی ہمشیرہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اپنے بھائی کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے موجود ہیں۔ تحریک و تاریخ پاکستان میں محترمہ فاطمہ جناح کا کردار اس بات کی علامت تھا کہ قائد اعظم ان پر کس قدر بھروسہ رکھتے اور اعتماد کرتے تھے۔ بہن کی محبت سے وہ روحانی قوت پکڑتے تھے۔ محترمہ فاطمہ جناح ہی کی ذات تھی کہ جس نے تحریک پاکستان میں خواتین کو آگے بڑھنے کا نہ صرف حوصلہ بخشا تھا بلکہ ہمت دلائی تھی کہ وطن کے حصول کے لئے وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ کی پرواہ نہ کریں۔ بے شمار ایسی روشن مثالیں موجود ہیں جو پاکستان کے حصول کی تحریک میں مسلمان خواتین کے کارہائے نمایاں کی شاہد ہیں۔ تحریک کے آخری ایام میں سول سیکرٹریٹ لاہور کی عمارت پر یونین جیک کی جگہ سبز پرچم لہرانے والی ایک دھان پان میں لڑکی ہی تو تھی جس نے قوم کا سر بلند کردیا تھا۔

ہمارے عظیم قائد اعظم مسلم خواتین سے بہت سی امیدیں وابستہ رکھتے تھے۔ خواتین کی صلاحیتوں اور قوت کا وہ مکمل اِدراک رکھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ خواتین کی شمولیت، تحریک آزادی کو مزید قوت فراہم کرے گی۔

قائد اعظمؒ کی صدا پر صرف پڑھی لکھی خواتین ہی نے لبیک نہیں کہا بلکہ ناخواندہ دیہاتی عورتوں میں بھی تحریک کا پرچم تھامے آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا ہوا۔وہ دن عجیب کیفیات کے حامل تھے۔ زندگی کی پرواہ نہیں تھی اور موت کا خوف نہیں تھا۔ مرد، عورتیں اور بچے سبھی اُس منزل کی آرزو دِلوں میں بسائے ہوئے تھے جس منزل کے بارے میں ان کے صادق قائد نے انہیں خوشی خبری دی تھی۔ پڑھی لکھی اور خواندہ عورتوں نے مردوں کے شانہ بشانہ آزادی کی جنگ لڑی تھی۔ چمن سے چٹاگانگ تک خواتین نے گھروں کے اندر اور باہرمورچے سنبھال لئے تھے۔ جلسے جلوس میں جانے والے گھر کے افراد کو کھانا بناکر ساتھ دیتی تھیں اور ان کی کامیابی کے لئے دعا گو رہتی تھیں۔ صاحبِ ثروت خواتین نے اپنی کارروائیوں کو تنظیموں کی صورت دے رکھی تھی۔ انہوں نے مسلم آبادیوں میں کوئی دہلیز،کواڑ اور دروازہ نہیں چھوڑا جس پر پاؤں دھرا اور دستک نہ دی ہو۔ ان خواتین میں بڑے بڑے نام تھے۔ متمول گھرانوں کی مسلم خواتین نے غریب عورتوں کی تعلیم و تربیت سنبھال لی تھی۔ اُن علاقوں میں جو بالآخر پاکستان میں شامل ہوئے، نامور خواتین نے قائد کی رہنمائی میں تن دہی سے کام کیا تھا۔ شہروں اور دیہاتوں میں جہاں تک ان کی رسائی تھی، انہوں نے تحریکِ پاکستان کا پیغام پہنچایا اور سیاست سے نابلد خواتین میں اُس شعور کو بیدار کیا جس نے اُن پر آزادی کے معانی واضح کردیئے تھے۔

اس بات کا مجھے قلق ہے کہ میری پیدائش قیام پاکستان کے بعد ہوئی تاہم مجھے خوشی ہے کہ میرے دِل میں وطن کی محبت یقیناً ان عورتوں سے کسی طور کم نہ ہوگی جنہوں نے تحریکِ آزادی میں حصہ لیا تھا۔ قائد اعظم میرے پیدا ہونے سے پہلے رحلت فرما چکے تھے لیکن ان سے عقیدت ایسے ہے جیسے قدم بہ قدم میں اُن کے ہمراہ رہی ہوں۔ قائد اعظم اور پاکستان سے محبت میری عزیز ترین متاع ہے۔

11ستمبر کا دن اگرچہ یومِ افسوس ہے لیکن اِس عزم کے اظہار کا دن بھی ہے کہ پاکستان کی بہتری، فوزوفلاح، سالمیت، ترقی اور استحکام کے لئے دن رات محنت کریں اور اُن اصول و ضوابط کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں جو ہمارے عظیم قائد نے اپنے فرمودات کی صورت میں ہمارے لئے چھوڑے ہیں۔ ہمیں یادرکھنا چاہیے کہ کام، کام اور کام ہی سے ہم کامیابی حاصل کرسکیں گے اور یہ بھی کہ اتحاد، ایمان اور نظم ہی میں ہماری عافیت ہے اور اسے کسی بھی صورت ہمیں بھولنا نہیں چاہیے۔

11ستمبر کا دن ہر سال آتا ہے اور ہر سال ہمیں ثابت کرنا ہے کہ ہم نے گزشتہ سال کے مقابلے میں کیا ملک کو بہتر مقام دیا ہے، اس کی قدر بڑھائی ہے اور اس کی عزت و وقار میں اضافہ کیا ہے؟

مزید : ایڈیشن 1