محرم الحرام ، وزیر اعلٰی سندھ کا ضابطہ اخلاق مکمل طور پر نافذ کرنے کا حکم

محرم الحرام ، وزیر اعلٰی سندھ کا ضابطہ اخلاق مکمل طور پر نافذ کرنے کا حکم

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے محرم الحرام کیلئے حکومت سندھ کا مرتب کردہ ضابطہ اخلاق کو مکمل طور پر نافذ کرنے کا حکم دے دیا ہے، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے تحت کارروائی کی جائے، تمام مکاتب فکر کے اجتماعات کیلیے مقامی انتظامیہ سے اجازت لینا لازمی ہوگی، عوامی سطح پر ایسے اجتماعات کئے جائیں جن سے قومی یکجہتی اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ ملے، محرم الحرام کی آمد کے پیش نظر صفائی ستھرائی، صاف پینے کا پانی اور سڑکوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔ حساس اضلاع کی فضائی نگرانی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ انھوں نے یہ بات وزیراعلی ہاؤس میں صوبے میں امن و امان سے متعلق اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں صوبائی وزرا، سعید غنی، ناصر شاہ، وزیراعلی سندھ کے مشیر مرتضی وہاب ، چیف سیکریٹری سندھ میجر(ر) اعظم سلیمان، وزیراعلی سندھ پرنسپل سیکریٹری سہیل راجپوت، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ ، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری بلدیات، کمشنر کراچی ، بذریعہ وڈیو کانفرنس صوبے کے تمام ڈی آئی جیز و کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز اورانٹلی جنس اداروں کے سربراہان و متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں کراچی سمیت صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے سمیت محرم الحرام کی سیکیورٹی، مجموعی امان و امان کی صورتحال اور اسٹریٹ کرائم روکنے اور ضابطہ اخلاق پر بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں تمام شرکت کندہ کو وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے صوبے میں محرم الحرام کے پیش نظر ضابطہ اخلاق کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے احکامات دیتے ہوئے کہا کہ محترم الحرام انتہائی پرامن طریقے سے گزرنا چاہیے اور ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے ،خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے تحت کارروائی کی جائے ۔ انھوں نے کہا کہ دوران محرم الحرام سڑکوں کی صفائی ستھرائی، پینے کا پانی کی فراہمی، مساجد و امام بارگاہوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنایا جائے۔ انھوں نے سیکریٹری داخلہ قاضی کبیر کو ہدایت کی کہ حکومت کا جاری کردہ ضابطہ اخلاق سے متعلق عوام کو آگہی دیں۔ انھوں نے کہا کہ سندھ صوفیوں کی سرزمین ہے یہاں ہمیشہ ایک دوسرے کے خیالات کا احترام ہوتا رہا ہے اور اللہ کا کرم ہے کہ ہمارے مختلف فرقوں کے علما نے عوام میں محبت، یکجہتی و باہمی احترام کو فروغ دیا۔ وزیراعلی سندھ نے تمام ڈویزنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز کو اپنے علائقے 12 محرم الھرام سے قبل نہ چھوڑنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ضروری حالت میں وزیراعلی ہاس سیکریٹریٹ کو اطلاع دے کر متعلقہ ہیڈکوارٹرز چھوڑا جاسکتا ہے، محرم الحرام کے اختتام تک اپن اہیڈکوارٹر مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر نہ چھوڑیں۔ وزیراعلی سندھ نے سندھ پولیس کو کہا کہ گھروں میں مجالس کی بھی سیکیورٹی فراہم کریں، ساتھ میں انھوں نے عوام سے بھی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ گھروں پر مجالس سے متعلق متعلقہ تھانے کو مطلع ضرور کریں، عوام کے تعاون سے ہی حکومت بہترانداز میں سیکیورٹی فراہم کرے گی۔اجلاس کو ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں 1996 امام بارگاہیں ، 14699 مجالس، 3513 ماتمی جلوس، 786 تعزیتی مجالس ہوتی ہیں جن کے لیے کراچی میں 17 ہزار 558 اور پورے صوبے میں 69 ہزار 545 فورس تعینات ہوگی۔ انھوں نے مزید وزیراعلی سندھ کو بتایا کہ محرم الحرام میں امن عامہ قائم کرنے کے لیے جامع انتطامات کئے ہیں۔ امن و امان کی صورتحال پر نظر رکھنے کیلیے پولیس ہیڈ کوارٹر کراچی اورضلعی و تحصیل ہیڈکوارٹرز میں کنٹرول رومز قائم کیے جارہے جوکہ لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ کرتے رہیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ تمام شہروں میں محرم الحرام کے جلوسوں کی نگرانی سی سی ٹی وی اور ڈرون کیمروں کے ذریعے کی جائے گی ، انٹیلی جنس نیٹ ورک کے دائرہ کار کو مزید پھیلایا جارہا ہے اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ اور بھرپور تعاون حاصل ہے۔رینجرز سندھ کی جانب سے اجلاس کو بتایا گیا کہ محرم کے دوران 8007 رینجرز جوان صوبے بھر میں تعینات کیے جائیں گے، محرم کے تینوں روز ہونے والے جلوسوں کا سیکیورٹی پلان سندھ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہم آہنگی سے بنایا گیا ہے جبکہ تمام داخلی و خارجی راستوں پر الیکٹرانک ڈیوائس کے ذریعے مشکوک افراد کے کوائف کو بھی چیک کیا جارہا ہے اور محرم الحرام کے پیش نظر کالعدم تنظیموں کے خلاف انٹیلی جنس سطح پر ٹارگیٹ آپریشن بھی کئے گئے ہیں۔ڈی آئی جی حیدرآباد سلطان خواجہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حیدرآباد ڈویزن میں تمام درگاہوں کی سیکیورٹی انتظامات بہتر ہیں اور تمام جلوسوں کی نگرانی کیلیے ڈرون کیمرا استعمال ہونگے۔ مراد علی شاہ نے انتخابات میں استعمال ہونے والے نگران کیمروں کو بھی محرم کے دوران استعمال کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ جیکب آباد اور شکارپور حساس اضلاع ہیں انکی سیکیورٹی بہتر ہونی چاہیے جس پر ڈی آئی جی لاڑکانہ نے انکو بتایا کہ سندھ۔ بلوچستان بارڈر پر 16 بارڈر پھرے دار ہیں جن پر چیکنگ بڑھادی گئی ہے۔ وزیراعلی سندھ کا انسداد تجاوزات فورس کو بھی محرم کی سیکیورٹی کیلیے تعینات کرنے کا حکم دیا۔وزیراعلی سندھ نے صوبائی وزرا سعید غنی، ناصر شاہ اور فیاض ڈیرو کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام علما سے ساتھ حکومت سندھ کے انتطامات اور ضابطہ اخلاق سے متعلق آگہی کیلیے اجلاس منعقد کریں۔

مزید : کراچی صفحہ اول