پاکستان اور بھارت کسی بھی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے : سردار مسعود خان

پاکستان اور بھارت کسی بھی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے : سردار مسعود خان

کراچی (اکنامک رپورٹر) صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کسی بھی جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں ،معیشت کی ترقی کے لیے یورپی ممالک سے سبق سیکھنا چاہیے ۔پاک بھارت تناعات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت ہے ۔پورا خطہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا ۔سارک ممالک کے حکمرانوں کو ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔وہ گزشتہ روز پاکستان ساؤتھ ایسٹ ایشیا بزنس فورم کے زیر اہتمام پہلی بین الاقوامی کانفرنس ’’علاقائی تعاون کے ذریعے بھروسے میں اضافہ‘‘ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے ۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ،فاؤنڈر PSEABFصاحبزادی ماہین خان ،فرہاد کرم علی ،ایئر چیف مارشل (ر) سہیل امان ،سرانی امیرا سنگھے ،ایس ای وی پی جے ایس بینک عمران حلیم شیخ ،میتا مردایا ،ڈی جی آئی ایس ایس آر اے میجر جنرل ثمریز سالک ،سی ای او سیڈ وینچر فراز خان ،روہنتھا کورالا ،ایس وی پی ایف پی سی سی آئی سید مظہر علی ناصر ،ڈاکٹر ماریہ سلطان ،زرق خان نے بھی تقریب سے خطاب کیا ۔سردار مسعود خان نے کہا کہ جب شمالی اور جنوبی کوریا بیٹھ کر بات کرسکتے ہیں تو پاکستان اور بھارت کو بھی مل کر مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنا چاہیے ،معاشی استحکام کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دنیا میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کے امن مشن میں ہمیشہ بھرپور کردار ادا کیا ہے ۔دنیا کو پاکستان کی اس کاوش کو سراہنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ای اے بی ایف سے پاکستان کے تاجروں اور صنعتکاروں کو فائدہ اٹھانا چاہیے ۔اس سے قبل یہ آئیڈیا کسی بھی فورم نے پیش نہیں کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک نے جنگ عظیم دوئم کے بعد اس بات پر سوچا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے چاہئیں ۔انہوں نے اپنے ہمسایہ ممالک کے لیے ویزے کی پالیسی ختم کردی اور وہ آج ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چین ،پاکستان ،روس ،بھارت اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کو اپنی معیشت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر دنیا کا حسین ترین خطہ ہے جو سیاحت ،چھوٹی صنعتوں اور خشک میوہ جات کا کاروبار کرنے کے لیے موزوں ہے ۔سی پیک کے چار منصوبے آزاد کشمیر میں جاری ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ کشمیر میں ماربل ،گرینائٹ سمیت قیمتی نوادارت کے ذخائر کثیر مقدار میں موجود ہے ۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر ملک میں مزید سرمایہ کاری لانے کے لیے کام کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم سرمایہ کاری کے حوالے سے ایسٹ آف ڈوئنگ بزنس ممالک کی فہرست میں 47ویں نمبر پر ہیں ۔اس لیے ہمیں سرمایہ کار پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے اپنا پورا ریونیو ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرلیا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کے لیے جائیداد کی خریدو فروخت کا کام آسان ہوجائے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پروفیشنلز ،ڈاکٹر ،انجینئرز اور ماہرمعاشیات دیگر ممالک میں کام کررہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ان کو بہترین مواقع اور ماحول نہیں دے سکے ہیں ۔سندھ حکومت اس حوالے سے سر جوڑ بیٹھے گی اور ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوسٹل لائن 300کلومیٹر طویل ہے ہم اس کو سیاحت کے لیے استعمال کرسکتے ہیں ۔اس کے علاوہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ گورکھ ہل کو اچھا سیاحتی مقام بنائیں ۔انہوں نے کہا کہ تمام سرمایہ کاری کے کام امن و امان کے مسئلے کی نذر ہوگئے تھے تاہم اب امن و امان کی صورت حال بہتر ہے اس لیے ہم رہ جانے والے امور پر توجہ دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ یونٹ قائم کیا ہے ۔یہ یونٹ بہترین کام کررہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے نوری آباد میں 100میگاواٹ کا پاور پلانٹ لگایا ہے جس میں سندھ حکومت کا شیئر49فیصد ہے۔ایئر چیف مارشل (ر) سہیل امان نے کہا کہ پی ایس ای اے بی ایف اور دنیا کے دیگر فورمز میں واضح فرق ہے ۔اس فورم کا مقصد نہ صرف ساؤتھ ایسٹ ایشیاء میں بزنس کو متعارف کرانا ہے بلکہ سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنا بھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ قرض دینے اور لینے سے بہتر ہے کہ اپنی اسکلز یا استعداد کو بڑھایا جائے ۔سی پیک اور دیگر منصوبوں کے لیے قرض لیا جارہا ہے جو درست نہیں ہے ۔اس قرض کو اتارنا بھی ہے جس میں وقت لگتا ہے لیکن اس کے برعکس تعلیم اور ٹیکنالوجی کے فروغ ان چیزوں پر قابو پایاجاسکتا ہے اور معاشرے کی شکل کو تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم اور انسانی وسائل کو ترقی دینے کے لیے سرمایہ کاری کی جائے جو وقت کی اہم ترین ضرورت بھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ انجینئرز اور پی ایچ ڈیز پاکستان کو معاشی مسائل سے نکالنے میں اہم ترین کردار ادا کرسکتے ہیں ۔صاحبزادی ماہین نے کہا کہ پی ایس ای اے بی ایف کا مقصد ساؤتھ ایسٹ ایشیاء کے کاروباری افراد کا آپس میں تعارف کروانا ہے جبکہ اس خطے میں موجود ممالک میں امن و امان اور معاشی استحکام مضبوط بنانا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، سری لنکا اور انڈونیشیاء میں ایسے شعبے موجود ہیں جن کی مدد سے تینوں ممالک ایک دوسرے کے لیے معاشی استحکام کا باعث بن سکتے ہیں ۔سرانی امیرا سنگھے نے کہا کہ ساؤتھ ایسٹ ایشیائی ممالک اپنی معاشی ترقی اور استحکام کے لیے سی پیک کے تحت سلک روٹ کا استعمال کرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر عالمی سطح پر اپنے آپ کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں اپنی اسکلز کو بہتر بنانا ہوگا ۔آئی ٹی ،سیلز اینڈ مارکیٹ ،بینک ،فنانس ،ای کامرس اور سپلائی چین کو بہتر بناکر معاشی ترقی کی اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔عمران حلیم شیخ نے کہا کہ دنیا میں لیڈر شپ تبدیل ہورہی ہے اور یہی وہ وقت ہے کہ جب ہم بہتر اقدامات کرکے ملک کو معاشی استحکام کے لیے لے جاسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام کا مطلب منڈیوں تک آزادانہ رسائی ہے ۔ایسے دس ممالک جن کی جی ڈی پی سب سے زیادہ ہے ان میں سے نو میں سرمایہ دارانہ نظام قائم ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کم از کم پانچ فیصد سالانہ معاشی افزائش کی ضرورت ہے جبکہ ہم تین فیصد پر ہیں ۔تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی آزاد رسائی سے معاشی ترقی حاصل کرنا ممکن ہے ۔میتا مردایہ نے کہا کہ کسی بھی شعبے میں استحکام کے لیے بھروسہ سب سے اہم جزو ہے ۔ساؤتھ ایسٹ ایشیاء ممالک کی قدریں مشترک ہیں اس لیے ہم مل کر ہر شعبے میں کام کرسکتے ہیں ۔میجر جنرل ثمریز سالک نے کہا کہ پاکستان ایک بہترین جغرافیائی اہمیت کا حامل ملک ہے ۔ہم سی پیک کے ذریعہ دنیا کے تمام ممالک تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں اور ملک کو معاشی استحکام کی جانب لے کر جاسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے اس لیے چین سی پیک کے ذریعہ پاکستان سے استفادہ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بھی اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھائیں ۔فراز خان نے کہا کہ انٹرپرینیور شپ ساؤتھ ایسٹ ایشیائی ممالک کے درمیان پل کاکردار ادا کرسکتی ہے ۔گلوبل پلیئر ،ہیومن ڈویلپمنٹ اور صارفین کے حوالے سے سوچ رہے ہیں ۔اس موقع کا پاکستان کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے ۔انہوں نے بتایا کہ یوکے میں جی ڈی پی کا سات فیصد حصہ کریٹیو اکانومی سے حاصل کیا جاتا ہے اور کریٹیو اکانومی کی بہترین مثال ’’کریم‘‘ ہے ۔انہوں نے تجویز دی کہ ساؤتھ ایسٹ ایشین ممالک کے انٹرپرینیورز کا ایک جوائنٹ فنڈ ہونا چاہیے ۔ڈاکٹر روہنتھا کورالا نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا میں سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے بھرپور استعداد موجود ہے ۔دونوں ممالک کے پاس پہاڑ ،دریا ،جنگل اور دیگر سیاحتی مقامات ہیں جن کے ذریعہ سیاحت کے شعبے کو سودمند بنایا جاسکتا ہے ۔سید مظہر علی ناصر نے کہا کہ آسیان ممالک میں ڈیوٹی بیریئرز موجود ہیں جن کی وجہ سے ان ممالک کے ساتھ باہمی تجارت کا حجم بہت کم ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے ۔صحت ،تعلیم ،انرجی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں ۔ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ سی پیک سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن پاکستان کو اپنے انفرااسٹرکچر میں بہتری لانے کی ضرورت ہے ۔فرہاد کرم علی نے کہا کہ پی ایس ای اے بی ایف کے ذریعہ ہم خطے کے ممالک سے بہترین تجارتی اور معاشی مراسم قائم کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ساؤتھ ایسٹ ایشیائی ممالک سے تجارتی تعلقات استوار کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کرنا چاہیے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول