زکریا یونیورسٹی ، پت تشدد واقعات کی رپورٹ وزیر اعلٰی ، گورنر کو ارسال

زکریا یونیورسٹی ، پت تشدد واقعات کی رپورٹ وزیر اعلٰی ، گورنر کو ارسال

ملتان(خصوصی رپورٹر، وقائع نگار) زکریا یونیورسٹی میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی(بقیہ نمبر45صفحہ7پر )

رپورٹ وزیر اعلیٰ اور گورنر کو ارسال کردی تھی ، ملوث طلبا کو 15 دن کیلئے معطل کرنیکا فیصلہ کر لیا گیا، پولیس گشت شروع ہوگیا ، تفصیل کے مطابق زکریا یونیورسٹی انتطامیہ نے چار روز سے جاری پرتشدد واقعات کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو ارسال کردی جس میں لڑائی کی وجوہات بتائی گئی ہیں اور کارروائی کے بارے میں آگا ہ کیا گیا ہے سٹی پولیس آفیسر ملتان منیر مسعود مارتھ نے زکریا یونیورسٹی کا دورہ کیا سی پی او نے رجسٹرار اور آر او زکریا یونیورسٹی سے ملاقات کی اور معلومات حاصل کیں۔ملاقات میں زکر یا یونیورسٹی میں پرتشدد واقعات کی روک تھام بارے تبادلہ خیال ہوااس موقع پر سی پی او کے ہمراہ دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے دریں اثنا ڈسپلن کمیٹی کا اجلاس ہو ا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس جھگڑے میں ملوث طلبا کو 15 دن کیلئے معطل کردیا جائے اورکارروائی کیلئے نوٹس جاری کردئے جائیں ، جن کے خلاف مقدمات درج ہیں ان کے خلاف فوری پولیس کارروائی کی جائے ، دوسری طرف دوسری لڑائی کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے جو توصیف کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے علاوہ ازیں اسلامی جمعیت طلبا کے ترجمان نعمان علوی نے کہا ہے کہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں نئے تعلیمی سیشن کا آغاز ہوتے ہی لڑائی جھگڑوں کے فسادات رونما ہونا یونیورسٹی سکیورٹی پر سوالیہ نشان ہے جس کی وجہ سے عام طلبہ میں خوف و ہراس ہے لڑائی جھگڑوں کے واقعات دیکھ کر داخلوں پر بہت بْرا اثر پڑے گا یاد رہے ہرسال جب بھی ایڈمیشن ہوتے ہیں لڑائی جھگڑوں کے واقعات رونما ہونے شروع ہوجاتے ہیں جوکہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوتے ہیں لڑائی جھگڑوں میں ملوث طلبہ کی اکثریت کوانتظامیہ پہلے ہی یونیورسٹی سے خارج کرچکی ہے اور ان کے یونیورسٹی میں داخلہ پر پابندی ہے مگر سوال پیدا یہ ہوتا ایسے طلبہ یونیورسٹی میں کیسے آجاتے ہیں ان کو یونیورسٹی سیکیورٹی کیوں نہیں روک پاتی یونیورسٹی اوپن ہوئے ایک ماہ کا عرصہ ہوا ہے اور لڑائی جھگڑوں کے ایک درجن سے زائداقعات رونما ہوچکے ہیں جو یونیورسٹی کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے جب یہی ایکسپیل طلبہ عام سٹوڈنٹس کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں تو جب یونیورسٹی انتظامیہ کو درخواست دی جاتی ہے تو انتظامیہ کا موقف ہوتا ہے کہ انتظامیہ ان طلبہ کو یونیورسٹی سے پہلے ہی خارج کرچکی ہے اب مزید کوئی کاروائی نہیں کر سکتی پھر کیا عام طلبہ کو ایسے مجرمانہ ذہنیت کے حامل طلبہ کے رحم وکرم پر چھوڑدیا جائے وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے یونیورسٹی میں تصادم کی رپورٹ لینا خوش آئندہ ہے کیونکہ جامعہ زکریا وزیراعلیٰ کی مادرعلمی ہے اسلامی جمیعت طلبہ امید کرتی ہے کی وزیراعلیٰ یونیورسٹی کے امن کے حوالے سے ہرممکن اقدامات کریں گے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر