ذخیرہ اندوز، بھتہ خوروں کا منڈیو ں پر ہولڈ ، سرکاری ریٹس مذاق

ذخیرہ اندوز، بھتہ خوروں کا منڈیو ں پر ہولڈ ، سرکاری ریٹس مذاق

ملتان(نیوز رپورٹر ) ضلعی انتظامیہ اور مارکیٹ کمیٹی کی عدم ترجہی کے باعث آڑھتیوں اور پرچون مافیا نے ایکا کر لیا جبکہ گرانفروشی سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے ‘ سبزی اور غلہ منڈی میں آڑھتیوں کی اجارہ داری ‘ غیر قانونی توسیع و تعمیرات کے سامنے مارکیٹ کمیٹی انتظامیہ بے بس(بقیہ نمبر48صفحہ7پر )

ہو کر رہ گئی ہے ۔ مارکیٹ کمیٹی کے اہلکار چندہ وصولی اور نرخنامہ کی فروخت تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں ۔ ذخیرہ اندوزوں ‘ بھتہ خوروں اور جرائم پیشہ عناصر کی منڈیوں پر بالادستی سے مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے جاری ہونیوالا نرخنامہ مذاق بن کر رہ گیا ہے ۔ شہر میں مقررہ نرخوں کے برعکس اشیائے خورد و نوش 40 سے 100 فیصد زائد نرخوں پر شہریوں کو فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ نرخنامہ جاری کرنیوالی مارکیٹ کمیٹی کی زبوں حالی اور آڑھت مافا کی بے خوفی کا یہ عالم ہے کہ سرکاری اہلکاروں کیلئے مختص کوارٹرز بھی آڑھت مافیا کے سالہا سال تک قبضہ میں رہے ہیں جبکہ مارکیٹ کمیٹی کے گودام اسی مافیا کے بھینس باڑے کے طور پر استعمال کیے جاتے رہے ہیں ۔ مارکیٹ کمیٹ کے وضع کردہ ضوابط کے برعکس سبزی منڈی میں زائد منزلہ عمارتیں اور غلہ منڈی میں الاٹ کی گئی دکانوں کے مالکان کی 30 سے 40 فٹ تک غیر قانونی توسیع اور لوہے کے جنگلوں کے حصار ‘ پراڈکٹ پر پابندیوں کے باوجود غلہ منڈی میں سینکڑوں مصالحہ جات کی چکیاں مارکیٹ انتظامیہ کا منہ چڑا رہی ہیں جبکہ بیرون شہر سے آنیوالے بیوپاریوں سے کروڑوں روپے کے فراڈ اور آئے روز منڈی سے ملحقہ بینکوں کے بیرونی احاطے سے بیوپاریوں سے لاکھوں روپے اسلحہ کے زور پر چھیننے کے واقعات نے مقامی پولیس کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔ شہریوں نے ڈی سی ملتان مدثر ریاض ملک سے اپیل کی ہے کہ منڈیوں کے نظام کو موثر بنانے اور قانون کی رٹ قائم کر کے شہریوں کو ارزاں اشیائے خورد و نوش کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔

ریٹس

مزید : ملتان صفحہ آخر