سام سنگ سمیت دیگر کمپنیوں کے جعلی چارجر پکڑنا ممکن

سام سنگ سمیت دیگر کمپنیوں کے جعلی چارجر پکڑنا ممکن

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)آج کل بیشتر افراد کے پاس اسمارٹ فونز موجود ہیں(بقیہ نمبر25صفحہ12پر )

مگر انہیں ایک مسئلے کا سامنا سب سے زیادہ ہوتا ہے اور وہ ہے بیٹری چارجنگ۔درحقیقت اسمارٹ فونز کو اکثر چارج کرنا پڑتا ہے تو اس کے نتیجے میں چارجر خراب ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے اور اس سے بھی زیادہ امکان یہ ہوتا ہے کہ جب نیا چارجر خریدا جائے تو وہ جعلی ہو جو کہ بیٹری کو نقصان پہنچاتا ہے۔درحقیقت اگر چارجر اوریجنل نہ ہو تو بیٹری کی کارکردگی، چارج اسٹور کرنے کی گنجائش اور مجموعی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔تو بہتر تو یہی ہے کہ سستے جعلی چارجر کا استعمال نہ کریں تاہم خریدتے ہوئے بھی ان چیزوں کا خیال رکھیں تاکہ کوئی مہنگے داموں جعلی چارجر نہ پکڑا دے۔سام سنگ کا جعلی چارجر کیسے پکڑیں؟درحقیقت سام سنگ کے اصلی اور جعلی چارجر میں فرق کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، تاہم ان دونوں میں ایک بہت بڑا فرق چارجر میں پرنٹ ٹیکسٹ میں ہوتا ہے، اگر اس پر A228 اور میڈ ان چائنا بھی دیگر تفصیلات کے ساتھ موجود ہوں تو اس کے جعلی ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ایپل کے جعلی چارجر کی نشانی؟ایپل کے آئی فون کے جعلی ورڑن کی مارکیٹ میں بھرمار ہے ، جس کو پکڑنے کی نشانی یہ ہے کہ اصلی چارجر میں یہ لکھا ہوگا ۔ اسی طرح جعلی چارجر میں ایپل کے لوگو کی رنگت غیرمعمولی حد تک گہری ہوگی۔شیامی کے جعلی چارجر۔اس چینی کمپنی کے فونز کے لیے چارجر خریدتے ہوئے اس کی تار کی لمبائی کو جانچیں، اگر وہ 120 سینٹی میٹرز سے کم ہو اور اڈپٹر کافی بڑا ہو تو وہ جعلی ہوگا۔ہیواوے کا جعلی چارجر۔ہیواوے کے فون کا چارجر اصلی ہے یا نقلی، تو چارجر میں موجود بارکوڈ انفارمیشن کو اڈپٹر پر پرنٹ انفارمیشن سے میچ کرکے دیکھیں، اگر وہ میچ ہوجائے تو وہ اصلی ہوگا، ورنہ نہیں۔گوگل پکسل چارجر۔گوگل ہمیشہ اپنے پکسل اسمارٹ فونز کے لیے فاسٹ چارجر فراہم کرتا ہے، تو اگر بیٹری کو چارج ہونے میں زیادہ وقت لگے تو وہ ممکنہ طور پر جعلی ہوگا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر