تونسہ ‘ سیل شدہ کلینک پھر سے بحال ‘ لوٹ مار کا بازار گرم ‘ شہریوں میں تشویش کی لہر

تونسہ ‘ سیل شدہ کلینک پھر سے بحال ‘ لوٹ مار کا بازار گرم ‘ شہریوں میں تشویش ...

تونسہ شریف( تحصیل رپورٹر) سیل شدہ کلینک پھر سے بحال ہوگیا ۔ ڈیلوری کے آپریشن شروع ھو گئے کء زندگیاں اجڑ گیں موت کی فیکٹری مستقل بند نہ ہو سکی۔ ڈرگ انسپکٹر(بقیہ نمبر27صفحہ12پر )

کی کھلی چھٹی ٹی ایچ کیو کی معمولی نرس کے بڑے ڈاکٹروں سے بڑے تعلقات ہسپتال سیمریض ریفر کرکے سیال کلینک پر بھیجنے لگی تفصیل کے مطابق تونسہ شریف اور اسکے نواحی علاقوں میں ہیلتھ حکام کی نااہلی کی وجہ جگہ جگہ موت فیکٹریاں کھلی پڑی ہیں۔ تونسہ کے علاقہ بستی ہڈوار میں تحصیل ہسپتال کی ایک معمولی نرس مہوش مقصود نے ایک کلینک چلا رکھا تھا جسے محمکمہ ہیلتھ سابقہ پنجاب حکومت نے غیر قانونی قرار دے کر سیل کر دیا تھا لیکن اب دوبارا لکشمی کے کمال اور ڈرگ انسپیکٹر تونسہ کی نوازشات کی بدولت دوبارا سے سیل شدہ کلینک چل رہا ہے۔ سیال کلینک کو چلانے والی کوی گائیناکالوجسٹ ایم بی بی اس ڈاکٹر نہ ہے اہک معمولی میٹرک ارٹس کی حامل نرس ھے۔مقامی ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر ہیلتھ کے تحصیل کے افسران نے اسے چھوٹ دے رکھی ہے اے روز کوء نہ کوئخاتون جانبق ھو جاتی ھے۔ لاہور کی ٹیم کے وزٹ کے موقع پر اسے تحصیل ھسپتال سے پہلے ہی اطلاع مل جاتی ھے اور وہ اپنا اڈا بند کر کے رفوع چکر ہو جاتی ہے جب کوء ڈیلوری کرانے سرکاری ہسپتال ان کی ڈیوٹی کے ٹایم جاتا ھے تو ان کو ٹال دیتی ہے وہاں مریضوں کا جینا حرام کر رھا ہے اس سلسلے میں تحیصل ہسپتال کی انتطامیہ سے رابطہ کیا گیا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس سلسلے میں جب تحریر? شکایات ملے گی ایکشن لیں گے۔ عوام نے بتایا کہ جب وہ ڈرگ انسپکٹر کے پاس شکایت لے کر جاتے ہیں تو وہ ملتے ہی نہیں نچلہ عملہ کہتا ہے صاحب لاہور ہیں۔ تونسہ شریف کے مکینوں اور متعدد مریضوں نے سیکریٹری ہیلتھ سے فوری طور پر نوٹس کا مطالبہ کیا ھے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر