انعام اکبر کا قصورکیا؟

11 ستمبر 2018 (06:23)

جاوید ملک

انعام اکبر میڈیا انڈسٹری کی ہر دلعزیز شخصیت ہیں ۔انہوں نے اس صنعت کی ترقی کیلئے بے انتہا کام کیا ہے اور صحافت آج جدت اور وقار کی جن بلندیوں پر ہےاس کا ایک کردار وہ بھی   ہیں ـ اخباری صنعت ان کے ساتھ ہونےوالی انتقامی کارروائیوں پر روز اول سے سراپا احتجاج اس لیئے ہے کہ مروجہ طریقہ کار کے مطابق سرکار جو اشتہارات اخبارات،ٹی وی چینلز یا ذرائع ابلاغ کے دیگر ذرائع کو دیتی ہے ان اشتہارات کی قیمت کا تعین بھی سرکار کرتی ہے ۔اخبارات کے نرخ تو طے شدہ  ہیں جن میں کوئی ردوبدل ممکن ہی نہیں ،اشتہاری کمپنی اپنی خدمات کے عوض اخبارات اور ٹی وی چینلز سے کمیشن لیتی ہےپھر جب اخبارات اور چینلز کو شکایات نہیں ،اخباری مالکان کی تنظیم اے پی این  ایس اس گرفتاری کی مذمت کررہی ہے تو تنازعہ کہاں ہے اور کیوں ہے ؟

انعام اکبر کی گرفتاری کے بعد میڈیا انڈسٹری نے نہ صرف غم و غصے کا اظہار کیاتھا بلکہ اسے انتقامی کاروائی اور گہری سازش قرار دیا تھ،اقومی احتساب بیورو کے حالیہ ریفرنس نے یہ ثابت کردیا ہے کہ صحافتی حلقوں کے خدشات بالکل درست اور حقیقت پر مبنی تھے ـ اخباری اطلاعات کے مطابق نیب نے یونیورسل سروسز فنڈ کی اشتہاری مہم میں بے قاعدگیوں پر 6 سالہ تفتیش کے بعد ایک ریفرنس قائم کیا ہے جس میں انعام اکبر کی اشتہاری کمپنی  کی ایڈہاک تقرری کو بنیاد بنایا گیا ہے حالانکہ ایڈ ہاک تقرریاں وزارت اطلاعات کی اشتہاری پالیسی کے عین مطابق اور معمول کا عمل ہیں، خود قومی احتساب بیورو کے اشتہار چھاپنے والی بے شمار کمپنیاں ایڈ ہاک تقرری پر کام کرتی رہی ہیں اور نیب انتظامیہ مقررہ مدت کے خاتمہ پر ان ایجنسیوں کی مدت میں توسیع کے لیئے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے تحریری گزارشات کرتی رہی ہے اور آج بھی کئی کمپنیاں ایڈہاک تقرری پر مختلف حکومتی اداروں کے ساتھ کاروبار کررہی ہیں ـ

قومی احتساب بیورو کا حالیہ ریفرنس تو انتہائی مضحکہ خیز ہے اس کے مندرجات دیکھنے کے بعد نیب کی تفتیشی اور قانونی ٹیم کی اہلیت پر شک ہونے لگتا ہے ۔یونیورسل سروسز فنڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ایک اشتہاری مہم کی منظوری دی ۔میڈاس نے اشتہارات کا اجراء کیا ۔بعد میں ان اشتہارات کی ادائیگی تک نہ کی گئی اور اب ریفرنس دائر کردیا گیاہے کہ کرپشن ہوئی ہے ـکیا اس پر حیران نہیں ہونا چاہئے کہ جب انعام اکبر کی کپنی کو کوئی سرکاری ادائیگی ہی نہیں ہوئی تو ان پر مقدمہ کیوں ؟ اس ریفرنس نے ثابت کردیا ہے کہ ان تمام کارروائیوں کا مقصد انعام اکبر کو ایک طویل عرصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھنا ہے جیسے ہی وہ کسی ایک مقدمے میں سرخرو ہوں دوسرا پہلے تیار رکھا جائے ـ 

۔۔

ادارے کا بلاگرز کے ذاتی نقطہ نظر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

 

مزیدخبریں