اینگرو فوڈز لمٹیڈ کی ’فوڈ سیفٹی اینڈ نیوٹریشن‘ سیمینار میں شرکت

اینگرو فوڈز لمٹیڈ کی ’فوڈ سیفٹی اینڈ نیوٹریشن‘ سیمینار میں شرکت

کراچی(پ ر) اینگرو فوڈز لمٹیڈنے خوراک کے تحفظ اور غذائی پالیسیوں پر ہونے والے ایک فکر انگیز سیمینار میں شرکت کی تاکہ پاکستان میں ڈیری کی مصنوعات فراہم کرنے والے ممتاز ادارے کی حیثیت سے حاضرین کو اپنے قیمتی تجربہ میں شریک کیا جا سکے۔مذکورہ سیمینار انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل سائنسز (IAGS) میں منعقد ہواجس میں غذائیت کے عالمی شہرت یافتہ ماہرین نے شرکت کی۔اس معلوماتی فورم میں اینگرو فوڈز کی شرکت کا مقصد معاشرے میں غذائیت کے حوالے سے معیارات کو بہتر بنانے کے لیے ادارے کے عزم کی عکاسی کرنا اور سفید انقلاب کے ذریعے ایسی اصلاحات کے لیے راہ ہموار کرنا تھا جن میں عوام کے لیے خوراک کے تحفظ اورصحت بخش غذا کو یقینی بنایا گیا ہو۔اس سیمینار کا موضوع تھا: ’’مغربی دنیا میں خوراک کے تحفظ اور غذائیت کے بارے میں پالیسیوں کا جائزہ: پاکستان کے لیے اس تجربہ سے فائدہ اٹھانے کے مواقع (An Over-view of Food Safety & Nutrition Policies in the Western World: An Opportunity for Pakistan to Benefit from the Experience)‘‘۔مباحثے کے دوران بیوریو آف نیوٹریشنل سائنسز اینڈ ہیلتھ ، کینیڈا میں سینئر سائنٹیفک پروجیکٹ کوآرڈینیٹر، ڈاکٹر عتیق رحمن اور اینگرو فوڈز کے مینجر ریگولیٹری افیئرز، ڈاکٹر محمد ناصر جیسے فاضل مقررین نے حاضرین کے سامنے اپنے دانشمندانہ خیالات کا اظہار کیا۔ پالیسی کے معروف مشیروں مثلاً مستجاب احمد نے پاکستان سوسائٹی آف فوڈ سائنٹسٹس اینڈ ٹیکنالوجسٹس (PSFST) کی نمائندگی کی۔ ان کے علاوہ نجی شعبے، بزنس کمیونٹی ، ریگولیٹری انسٹی ٹیوشنز، تعلیمی اداروں کے سربراہان اور طلبہ سمیت ممتاز شخصیات نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر اپنے خطاب میں ڈاکٹر عتیق رحمن نے کہا،’’محفوظ اور صحت بخش خوراک ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور صحتمند قوم کے لیے لازمی ہے۔ محفوظ اور غذائیت بخش خوارک کی فراہمی میں سرکاری ادارے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔پاکستان میں خوراک کے ریگولیٹرز کو اپنی حکمت عملی تبدیل ہوتی ہوئی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک مستحکم معاشرے کو یقینی بنایا جا سکے۔خوراک کا تحفظ یقینی بنانے کی غرض سے نئی ٹیکنالوجیز سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے معاملے میں زرعی شعبہ اس وقت دوراہے پر کھڑا ہے۔ڈیجیٹائز ڈدنیا میں ڈیٹا بہت بڑی مقدار میں دستیاب ہے جس سے زرعی پیداوار میں اضافے، تقسیم کے نظام کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے اور ہر علاقے میں غذائی مصنوعات کے استعمال کے لیے ہوشیاری اور شفافیت کے ساتھ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر