متاثرین کنگ عبداللہ یونیورسٹی مسائل کی دلدل میں پھنس گئے

متاثرین کنگ عبداللہ یونیورسٹی مسائل کی دلدل میں پھنس گئے

مظفرآباد(بیورورپورٹ)متاثرین کنگ عبداللہ یونیورسٹی مسائل کی دلدل میں پھنس گئے ‘گزشتہ دنوں متاثرین کنگ عبداللہ یونیورسٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں معززین علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے متاثرین نے حکومتی پالیسیوں کو عوامی مسائل کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ متاثرین موجودہ وقت میں بے شمار مسائل کا شکار ہوچکے ہیں ۔ انتظامیہ نے 06ماہ قبل متاثرین کو یونیورسٹی چاردیواری سے دو جگہوں سے راستہ دینے کی یقین دہانی کروائی لیکن تاحال متاثرین کے انتظامیہ کے دفاتر کے ہزاروں چکر لگانے کے باوجود راستے نہیں دیئے جاسکے جس کے باعث متاثرین کی ایک کثیر تعداد پینے کا پانی بھرنے اور بازار ، سکول تک رسائی کیلئے طویل راستہ طے کرنا پڑتا ہے جبکہ 2014سے یونیورسٹی اور ضلعی انتظامیہ متاثرین کو قبرستان کے وعدوں کی یقین دہانی کروا چکی ہے جبکہ تاحال متاثرین کو قبرستان کیلئے اراضی فراہم نہیں کی جاسکی ۔ حکومت نے متاثرین کے 10سے زائد قبرستان ایوارڈ کردیئے ہیں اور موجودہ وقت میں متاثرین کیلئے قبرستان کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ معززین علاقہ نے مزید کہا کہ جن گھروں کے قریب یونیورسٹی نے سیکورٹی چیک پوسٹیں بنائی ہین ان ہی گھروں سے سیکورٹی تعینات کئے جائیں بصورت دیگر ان گھروں کی چاردیواری متاثر ہونے کے قوی امکانات ہیں ۔ان گھروں کے علاوہ کوئی بھی سیکورٹی گارڈ ان سیکورٹی پوسٹوں پر تعینات کیا گیا تو عوام علاقہ ان سیکورٹی گارڈ ز کو تعینات نہیں ہونے دینگے ۔ متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی کیلئے لگاے جانے والے پانی سے یا تو متاثرین کو پانی دیا جائے یا پھر جن لوگوں نے وہاں سے پانی لگایا ہے ان کو ان کے اخراجات کی ادائیگی کی جائے ۔ انتظامیہ اپنے وعدے پورے کرے ۔ عوام علاقہ اور متاثرین کنگ عبداللہ یونیورسٹی نے حکومت سے مقامی لوگوں کیلئے راستے کی فراہمی ، سیکورٹی پوستوں پر تعیناتی کیلئے مقامی افراد کی تعیناتی ، یونیورسٹی کے پانی سے عوام کو کنکشن ہا ، ان کے اخراجات کے معاوضہ کی ادائیگی اور متاثرین کیلئے فوری قبرستان کیلئے اراضی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر