کانگو وائرس کا ملک میں بہت خود پایا جاتا ہے،ڈاکٹرا نیلہ ضمیر

کانگو وائرس کا ملک میں بہت خود پایا جاتا ہے،ڈاکٹرا نیلہ ضمیر

چکوال(ڈسٹرکٹ رپورٹر)محکمہ لائیو سٹاک کے زیر اہتمام کانگو وائرس آگاہی بارے سیمینار ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس میں پروفیسر ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو سٹاک ،محکمہ ہیلتھ کے اینٹا مالوجسٹ راجہ شکیل ،ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن چکوال،ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو صتاک اوت محکمہ ایجوکیشن کے افسران اور پیرا مڈز کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر انیلہ ضمیر نے کہا کہ کانگو وائرس کا ہمارے ملک میں بہت خوف پایا جاتا ہے اصل چیز کانگو وائرس بارے آگاہی ہے کہ یہ وائرس ہے کیا ۔آیا یہ چچڑوں میں پایا جاتا ہے ؟تو اس کا جواب ہے نہیں ۔کانگو وائرس چچڑوں نہیں بلکہ انسان کے اندر پایا جاتا ہے اور انسان کو اگر چچڑ کاٹ لیں تو انکی تشخیص پر چچڑ کے نمونے لینے سے ظاہر ہو جاتا ہے لیکن بغیر تحقیق کے ہم اس کو کانگو ثابت نہیں کر سکتے ۔چچڑ کی تشخیص کے نمونے لینے کے بعد تحقیق کی جاتی ہے کہ یہ وائرس کہاں سے آیا ہے ۔اس کا تعلق کس ملک سے ہے ۔یہ وائرس افغانستان،ایران یا چین سے بھی ہوسکتا ہے،۔ بہت سی بیماریوں کی تشخیص چیچڑوں سے نہیں کی جا سکتی اس کا علاج بہت مہنگا ہے۔اس وجہ سے ہمارے بہت سے کسان بھائی اپنے مویشیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔چچڑانسانوں اورجانوروں کے لئے بہت بڑا مسئلہ ہے جس کے لئے محکمہ صحت،وائلڈ لائف اور لائیو سٹاک کی مجموعی کاوشوں کی ضرورت ہے۔مچھر مکھی اور چچڑ ان کو ہم ختم نہیں کر سکتے لیکن احتیاطی تدابیر سے ان کم کیا جا سکتا ہے۔ہم کسان بھائیوں کو بذریعہ آگاہی بتا سکتے ہیں کہ وہ مویشیوں کے باڑوں کی صفائی کو یقینی بنائیں اور فرشوں کی دڑاڑوں کو پر کریں جو چچڑوں کی افزائش میں معاون ثابت ہوتی ہے۔سیمینار میں بتایا گیا کہ بہت سے ایسے پودے ہیں جن کے کھانے سے جانوروں کے قریب چچڑ نہیں آتے اگر ہمارے کسان آسٹریلین کیکر،مورنگا اور بھنگ جیسے پودے لگائیں تو چچڑ ان جانوروں کے قریب نہیں آئیں گے۔تمام محکموں کہ یہ کاوش کرنے چائیے کہ صوبائی سطح کے علاوہ ضلعی سطح پر بھی ڈائیگنوسٹک سینٹر کائم ہونے چائیے تاکہ چچڑوں سے متعلق بیمایوں کی تشخیص ہو سکے۔ دیگر مققرین نے بھی کانگو آگاہی بارے تبصرہ کیا۔آخر میں ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو سٹاک سرفراز احمد چٹھہ نے کہا کہ ہم انشاء اللہ مل کر انسانی فلاح و بہبود اور ٹکس کی تحقیق کیلئے ایک مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیں گے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر