سپریم کورٹ نے ایل این جی معاہدے کی تفصیلات اور نیب پراسیکیوٹر کو طلب کرلیں

سپریم کورٹ نے ایل این جی معاہدے کی تفصیلات اور نیب پراسیکیوٹر کو طلب کرلیں
سپریم کورٹ نے ایل این جی معاہدے کی تفصیلات اور نیب پراسیکیوٹر کو طلب کرلیں

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں قطر کے ساتھ لیکیوفائڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کی خریداری سے متعلق معاہدے کی تمام تفصیلات اور نیب پراسیکیوٹر کو طلب کر لیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایل این جی معاہدے کےخلاف شہری کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ مہنگے داموں ایل این جی درآمد کا معاہدہ کیا گیا جس سے ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہتے ہیں ٹھیکوں میں کرپشن ہوئی ہے،کرپشن کی تحقیقات نیب کا کام ہے پیشرفت کا پوچھ لیتے ہیں،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 'کیا نیب کا کوئی نمائندہ عدالت میں موجود ہے' جس پر عدالت کو نفی میں جواب ملا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کے لیگل افسران عدالت میں کیوں نہیں بیٹھے، نیب کا کوئی نمائندہ یہاں موجود ہونا چاہیے۔

عدالت نے نیب سے کیس کی انکوائری کی تفصیلات اور نیب پراسیکیوٹر کو فوری طلب کرتے ہوئے سماعت میں کچھ دیر کےلئے وقفہ کردیا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد