عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 68

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 68
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 68

  

قاسم اپنے گھوڑے پر سوار گولڈن ہارن کے ساحل پر آپہنچا ۔ اب اس کے سامنے ’’خلیج گولڈن ہارن ‘‘ کاپانی تھا ۔ اور خلیج کے پار شہر قسطنطنیہ کی فصیل اور بندگاہ کا دروازہ تھا ۔ قاسم عام شاہراہ کے ذریعے یہاں آیا تھا ۔ اسی لیے وہ شہر کے دروازے کے سامنے آپہنچا ۔ یہ جگہ بہت بارونق تھی تاحدِ نگاہ قسطنطنیہ کے لیے رسد کا سامان بیل گاڑیوں سے اترا پڑا تھا ۔ سامنے گولڈن ہارن کے پاس شہر کا دروازہ محض رسمی طور پر بند تھا ۔ جبکہ فی الحقیقت اس کا ایک کواڑ کھلا تھا ۔ عام لوگوں کی آمد و رفت پر پابندی تھی۔ اور قسطنطنیہ کے سپاہی دروازے میں کھڑے آنے جانے والوں کی تلاشی لے رہے تھے۔بڑی بڑی کشتیاں اس طرف کا سامان ڈھو ڈھو کر اس طرف منتقل کر رہی تھیں۔ پورے ماحول میں عجلت اور سنسنی کا اثر موجود تھا ۔ دروازے کے اندر، دروازے کے دائیں بائیں، دروازے کے سامنے گولڈن ہارن میں موجود ہر کشتی اور جہاز پر اور اسی ساحل پر جہاں قاسم کھڑا تھا ..........ہر طرف قیصر کے باوردی سپاہی بہت زیادہ تعداد میں دکھائی دے رہے تھے۔ قاسم ایک عام شہری کی حیثیت سے یہاں آیا تھا ۔ اور عام شہری اس پورے ماحول میں اکا دکا ہی دکھائی دے رہے تھے۔ قاسم بندرگاہ کے ساتھ لگے ان جہازوں کودیکھنے لگا۔ جو اس ساحل پر اور سامنے کے ساحل پر ہر دونوں طرف ڈھیروں سامان اتار رہے تھے۔ اس سامان میں زیادہ تر غلّہ اجناس ، ملبوسات اور ادویات وغیرہ شامل تھیں، دونوں طرف کی گودیاں لکڑی کے بڑے بڑے تختے سمندر میں آگے کی طرف بڑھا کر بنائی گئی تھیں۔ یہ تختے بے حد موٹے اور مضبوط تھے۔ جن کے ساتھ گولڈن ہارن میں چلنے والے جہاز اور کشتیاں آکر لگتے ۔ اور یوں سمندر کا سامان خشکی پر اتار لیا جاتا۔ قاسم کو اس بندرگاہ پر مختلف ملکوں کے لوگ نظر آئے۔ جو غالباً قسطنطنیہ کے لیے اپنے اپنے ملکوں کی امداد لارہے تھے۔

سامنے کا ساحل بھی شہر اور فصیل کے دروازے کے سامنے کئی گز تک پھیلا ہوا تھا ۔ اور اس طرح پانی اور فصیل کے درمیان اتنی چوڑی بھی نہ تھی کہ یہاں کسی لشکر کو اتارا جاتا۔ فصیل کے ساتھ ساتھ خشکی کی یہ پٹی فصیل پر موجود محافظوں کی زد میں تھی۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 67پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

قاسم سوچنے لگا کہ وہ کس طرح شہر میں داخل ہو۔ اس کی نظریں گولڈن ہارن میں گشت کرتی سپاہیوں کی کشتیوں پر تھی۔ اسی اثناء میں اسے ایک چھوٹی کشتی دکھائی دی۔ جسے ایک اکیلا نوجوان سپاہی چلاتا ہوا اس طرف آرہا تھا ۔ قاسم اس سپاہی کو غور سے دیکھنے لگا۔ یہ بھی کوئی یونانی نوجوان تھا ۔ لیکن اس کے خدوخال اورقدوقامت اس کے بہادر اور جنگجو ہونے کا پتہ دیتے تھے۔ سپاہی اپنی کشتی کھیتتا ہوا اس طرف کے ساحل سے آلگا۔ اس نے کشتی کا رسہ گودی کے چوبی تختوں پر لگے لوہے کے کنڈے کے ساتھ باندھ دیا۔ اور خود اچھل کر ساحل پر اتر گیا۔قاسم کے ذہن میں معاً ایک عجیب و غریب ترکیب آئی۔ اور وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا اس نوجوان کی طرف بڑھ گیا۔ قاسم کے ہاتھ میں گھوڑے کی لگام تھی۔ اور بدن پر عام شہریوں جیسا لباس تھا ۔ چند قدم مزید اٹھانے کے بعد قاسم اس کے سامنے ہوگیا ۔ اور اس کا راستہ روک کر ایک دم اسے چونکادیا اور کہا:۔

’’معلوم ہوتا ہے آپ بازنطینی سلطنت کے سپاہی ہیں.............میں آپ کو تکلیف دینے کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ لیکن میں بے بس ہوں اس لیے آپ کو تکلیف دی۔دراصل میں قسطنطنیہ شہر میں داخل ہونا چاہتا ہوں ۔ لیکن یہاں کوئی مجھے اس طرف لے جانے کے لیے تیار نہیں اگر آپ میری کچھ مدد فرمادیں تو نوازش ہوگی۔‘‘

باوردی سپاہی قاسم کو گھور گھور کر دیکھ رہا تھا ۔ اس نے کہا:۔

’’آپ کے لہجے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ قسطنطنیہ کے شہری نہیں ہیں...........آپ کہاں سے آئے ہیں؟ اور قسطنطنیہ میں کیوں داخل ہونا چاہتے ہیں؟‘‘

سپاہی کا اندازِ تخاطب مہذب تھا ۔ قاسم نے سوچا کہ یا تو وہ کسی بڑے خاندان کا چشم و چراغ ہے۔ اور یا اس کے ہاتھ میں قیمتی گھوڑے کی لگام دیکھ کر اسے کوئی امیر اور مہذب شخص سمجھتا ہے۔ قاسم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:۔

’’جی ہاں! میں بوسنیا سے آیا ہوں۔ میں قسطنطنیہ میں ایک شخص کے سوا کسی اور کو نہیں جانتا۔ اور مجھے معلوم نہیں کہ وہ شخص مجھے کہاں ملے گا۔ میں نے سنا ہے کہ قسطنطنیہ پر مسلمانوں کا حملہ ہونے والا ہے۔ اور میں قسطنطنیہ کی فوج میں ایک رضاکار کی حیثیت سے شامل ہونے کے لیے آیا ہوں۔‘‘

قاسم نے کوئی نئی بات نہ کی تھی۔ پوری عیسائی دنیا کے بہترین رضاکار اپنے مرکزِ ملت قسطنطنیہ کو بچانے کے لیے قیصر کی فوج میں شامل ہونے کے لیے آرہے تھے۔ بعض رضاکاراپنے اپنے طور پر اور بعض اپنی حکومتوں کے جھنڈے تلے جتھوں اور دستوں کی شکل میں شریک ہورہے تھے۔ بوسنیا سے ابھی تک کوئی دستہ شامل نہ ہوا تھا ۔ قاسم کا جذبہ دیکھ کر قسطنطنیہ کے سپاہی کی آنکھوں میں تحسین کے جذبات امڈ آئے۔ کچھ اثر قاسم کی بات کرنے کے انداز کا بھی تھا ۔ قاسم نے انتہائی سادہ اور سیدھے لہجے میں اپنا مدعا بیان کردیا تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ یونانی سپاہی جو یقیناًاپنی فوج میں کوئی افسر رہا ہوگانے قاسم کو شک کی نظر سے دیکھنے کا خیال ترک کردیا ۔ اور کسی قدر نرم لہجے میں پوچھا:۔

’’وہ کون ساشخص ہے..........قسطنطنیہ میں ؟..........جسے آپ جانتے ہیں۔‘‘

’’ڈیمونان!..........ڈیمونان نام ہے اس کا ، وہ آٹھ سال پہلے ایک مرتبہ بوسنیا آیا تھا ۔ تو میری اس سے شناسائی ہوئی تھی۔‘‘

قاسم نے جواب دیا اور یونانی سپاہی حیرت سے اچھل کھڑا ہوا۔

’’ ڈیمونان؟؟..........ارے! یہ تو ’’آیا صوفیا‘‘ کے بطریق ہیں۔ قسطنطنیہ کے ’’دی ہولی آرتھوڈکس چرچ آیا صوفیا کے بطریق۔‘‘

سپاہی نے استعجاب سے بھرپور لہجے میں کہا۔ اور پھر قاسم کا ہاتھ پکڑ کر کسی قدر احترام کے ساتھ کہنے لگا’’آپ تو بہت بڑے آدمی کے مہمان ہیں۔ آئیے! میرے ساتھ ..........مجھے یہاں تھوڑی دیر کا کام ہے۔ یہاں سے فارغ ہوکر میں واپس جاؤں گا تو آپ کو اپنی کشتی میں ساتھ لے کر جاؤں گا۔‘‘

قاسم کو کیا چاہیے تھا ...........یہی کہ وہ کسی محفوظ طریقے سے قسطنطنیہ میں داخل ہوجائے۔ اس کی ترکیب کا رگر رہی۔ لیکن اس نے کہا’’تو پھر یہ گھوڑا جو میں اپنے ساتھ عیسائی فوج کے لیے لایا ہوں؟........اس کا کیا ہوگا؟‘‘

یونانی سپاہی نے تحسین آمیز نظروں سے گھوڑے کی جانب دیکھا۔اور کہنے لگا:۔

’’یہ گھوڑا ہم بندرگاہ کے اصطبل میں باندھ دیتے ہیں۔ مال بردار جہاز کے ذریعے پرلے ساحل پر چلا جائے گا۔ کل تک ہم اسے وصول کرلیں گے قاسم یونانی سپاہی کے ساتھ اس کاکام نمٹنے کے بعد اس کی کشتی میں سوار ہوکر شہر کی جانب چل دیا۔ راستے میں قاسم نے سپاہی سے سوال کیا ’’اگر آپ برا نہ مانیں .........تو میں آپ کا نام پوچھنا چاہوں گا؟ کم از کم اپنے محسن کا نام تو معلوم ہو۔‘‘

’’ارے! آپ کا نام پوچھنا میں بھی تو بھول گیا ہوں.........ہاں ! میرا نام ’’کلاڈیوس‘‘ہے، اب آپ اپنا نام بھی بتادیجیے!‘‘

قاسم کو اسی سوال کی توقع تھی۔ اس نے کلاڈیوس کو اپنا فرضی نام بتایا ۔’’مورگن‘‘..............مورگن نام ہے میرا۔ دور پار سے بوسنیا کے شاہی خاندان کا رشتہ دار ہوں۔ وہ شاہی خاندان جسے مسلمانوں کے سلطان نے تباہ و برباد کردیا تھا ۔‘‘

قاسم نے نام کے علاوہ اپنا باقی تعارف حقیقی کروادیا۔ وہ بوسنیا کی شہزادی حمیرا کا خاوند تھا ۔ اور اس لحاظ سے وہ شاہی خاندان کا دورپار کا رشتہ دار تو تھا ہی ۔ قاسم کا تعارف سن کر سپاہی مرعوب ہوگیا ۔ اور اس نے بات آگے بڑھانے کے لیے رسمی طور پر کہا:۔

’’ہمارے ساتھ ایک بہت پرانا سپاہی ہے جو بوسنیا کا رہنے والا ہے۔ وہ پہلے ہنگری کی فوج میں تھا ۔ پھر اس نے مذہب تبدیل کرلیا۔ اور رومی کلیسا کو چھوڑ کر ہمارے کلیسا کے ساتھ شامل ہوگیا ۔ ہنگری کی فوج میں وہ مشہور سالار ’’ہونیاڈے ‘‘ کے پرچم تلے بھی لڑتا رہا۔ میں آپ کو یہ اس لیے بتا رہا ہوں کہ آپ بھی بوسنیا کے رہنے والے ہیں۔ اور ہمارا ساتھی ’’رومیل‘‘بھی بوسنیا کا رہنے والا ہے۔ آپ کا اپنے ایک ہم وطن سپاہی کو دیکھ کر خوب دل بہل جائے گا۔‘‘

قاسم کو رومیل نامی کسی بوسنیائی سپاہی کے ساتھ کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ تو کسی اور ہی مقصد سے قسطنطنیہ جارہا تھا ۔ لیکن اس نے کلاڈیوس کی بات کا بھرم رکھنے کے لیے کہا:۔

’’ہاں ہاں !! یہ تو بہت اچھا ہوا۔ اپنے ایک ہم وطن کو دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوگی.........لیکن وہ ہے کہاں؟ اسے ہم کہاں ملیں گے؟‘‘

قاسم نے اس ڈر سے کہ اسے کلاڈیوس سچ مچ رومیل سے نہ ملوادے ، .........رومیل کی بابت پوچھا اور کلاڈیوس کا جواب سن کر اس کا دل دھک سے رہ گیا ۔ کیونکہ کلاڈیوس کہہ رہا تھا :۔

’’رومیل ہمیں یہیں مل جائے گا، شہر کے دروازے پر ۔ آج کل ...........تمام تجربہ کار سپاہی محاصرہ جھیلنے کی تیاریوں میں ہیں...........یہ آپ دیکھ رہے ہیں ناں! یہ ہر طرف آپ کو سپاہی نظر آرہے ہیں۔‘‘

قاسم سوچنے لگا ۔ یہ ایک اور مصیبت گلے آپڑی ہے۔ وہ کسی رومیل سے نہیں ملنا چاہتا تھا ۔ اور پھر اس نے خود کو بوسنیائی ظاہر کرکے اور بھی مسئلہ کھڑا کر دیا تھا ۔ کیونکہ رومیل سچ مچ بوسنیائی تھا ، اور عین ممکن تھا کہ وہ الٹے سیدھے سوالات کرکے قاسم کا پول کھول دیتا ۔ اسی پریشانی کو لیے قاسم شہر کے سامنے جا اترا۔(جاری ہے)

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 69 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح