سحر انگیز شخصیت ۔۔۔ قائد اعظم محمد علی جناح

سحر انگیز شخصیت ۔۔۔ قائد اعظم محمد علی جناح
سحر انگیز شخصیت ۔۔۔ قائد اعظم محمد علی جناح

  

قوم سے بچھڑے ستر سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی یاد کی معطر خوشبو ہر پاکستانی کے دل میں زندہ ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کا اہل پاکستان پر احسان عظیم ہے کہ انہوں برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک آزاد ، خودمختار ریاست کے قیام کے لئے بھر پور جدوجہد کی، اور اپنی ساری زندگی اسی جدوجہد میں وقف کردی ۔قائد اعظم محمد علی جناح ایک عہد آفرین شخصیت، عظیم قانون دان، بااصول سیاستدان اور بلند پایہ مدبر تھے، ان میں غیر معمولی قوت عمل اور غیر متزلزل غرم، ارادے کی پختگی کے علاوہ بے پناہ صبر و تحمل اور استقامت و استقلال تھا۔ انہوں نے اپنی اٹل قوت ارادی، دانشورانہ صلاحیتوں، گہرے مدبرانہ فہم و ادراک اور انتہائی مضبوط فولادی اعصاب اور انتھک محنت سے مسلمانان پاک و ہند کے گلے سے صدیوں کی غلاموں کا طوق ہمیشہ کے لئے اتارا اور مسلمانوں کو حصول پاکستان کے مقاصد سے آگاہ کر کے انہیں آزادی کی جدوجہد میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کی راہ پر راغب کیا۔جس کے نتیجے میں برصغیر کے مسلمان مسلم لیگ کے جھنڈے تلے یکجا ہوئے۔

مولانا حسرت علی موہانی فرماتے کہ وہ پاکستان بننے سے پہلے قائداعظم سے ملنے کے لیے ان کی رہائش گاہ پر پہنچے تو ملازم نے معذرت کی وہ کسی اہم کام میں مشغول ہیں اور وہ اس وقت ان سے نہیں مل سکتے۔ اس دوران انہوں نے مغرب کی نماز گھر کے باہر لان میں ادا کی اور اس کے بعد ٹہلنے لگے۔ اسی دوران وہ کوٹھی کے برآمدوں میں گھومنے ہوئے ایک کمرے کے پاس سے گزرے تو انہیں ایسا لگا کہ قائد کسی سے گفتگو کر رہے ہیں۔ مولانا حسرت موہانی فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ’’اندر کمرے میں فرش پر مصلیٰ بچھا ہوا تھا۔ اور قائداعظم باری تعالیٰ کے حضور مسلمانوں کی فلاح و بہبود ، حصول آزادی، اتحاد، تنظیم اور پاکستان کے قیام کے لئے گڑگڑا کر التجا کر رہے تھے‘‘ ۔

قائد اعظم کی دعا اور بھر پور جدوجہد کی بدولت آخر کارتحریک آزادی رنگ لائی اور انگریزوں کو ہندو مسلم علیحدہ قومیت یعنی دو قومی نظریہ تسلیم کرنا پڑا ۔ اور 3 جون 1947ء کو ہندوستان کے آخری وائسرائے اور گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے آل انڈیا ریڈیو سے تقسیم ہند کے منصوبے کا اعلان کیا۔ جبکہ یہ ایک امر حقیقی ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کی طرف سے شروع کی جانے والی جدوجہد آزادی کے مختلف مراحل پر کسی بھی مسلمان رہنما کو اپنی قوم کی طرف سے اطاعت شعاری کا وہ جذبہ اور مظاہرہ نصیب نہیں ہوا جو بابائے قوم کو حصول پاکستان کے لیے کی جانے والی بے لوث اور شبانہ روز جدوجہد کے دوران میسر آیا۔

پُر عزم جدوجہد آزادی کے ساتھ ساتھ بانی پاکستان کی صحت گرتی رہی ، قائد اعظم محمد علی جناح1930 ء سے تپ دق کے مرض کا شکار چلے آرہے تھے اور اس بیماری سے متعلق صرف ان کی بہن اور چند قریبی ساتھی جانتے تھے مگر بانی پاکستان نے بیماری کی حالت میں بھی جدوجہد آزادی کا کوئی جلسہ ترک نہیں کیا ۔

قیام پاکستان کے بعد جب ان کی طبیعت مسلسل ناساز رہنے لگی تو جون 1948ء میں اپنی بہن فاطمہ جناح کے ہمراہ کوئٹہ روانہ ہوگئے جہاں کی ہوا کراچی کے مقابل سرد تھی۔ وہاں بھی انہوں نے مکمل آرام نہ کیا، 6 جولائی 1948ء کو ڈاکٹروں کے مشورے پر آپ مزید اونچے مقام زیارت منتقل ہوئے۔اس دوران میں بانی پاکستان کا مسلسل طبعی معائنہ کیا گیا اور انکی طبعی نزاکت دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے بہترین ڈاکٹروں کو انکے علاج کے لئے روانہ کیا۔مختلف ٹیسٹ ہوئے ان کی رپورٹ میں ٹی بی کی موجودگی اور پھیپھڑوں کے سرطان کا بتایا گیا۔علاج کے باوجود انکی صحت روزبروز گرتی رہی، انکا وزن گر کر محض 36 کلو رہ گیا تھا ۔ڈاکٹروں کو یقین تھا کہ اگر اس حالت میں انہیں پر فضاء مقام سے کراچی زندہ حالت میں لے جایا گیا تو تب بھی وہ کم عرصہ ہی زندہ رہ پائیں گے۔لیکن جناح کراچی جانے پر تذبذب کا شکار تھے ،وہ نہیں چاہتے تھے کہ انکے معالج انہیں بے کار سٹریچر پر بیٹھا معذور خیال کریں۔

یکم ستمبر کو قائد اعظم پر ہیمرج کا حملہ ہوا ، اور 9 ستمبر کو نمونیا نے آگھیرا، اب ڈاکٹروں نے انہیں کراچی کا مشورہ دیاجہاں وہ بہتر علاج کر سکتے تھے اور انکی رضامندی پر وہ 11 ستمبر کے دن بزریعہ طیارہ کراچی آئے، جہاں ایمبولینس میں ہی ان کی طبیعت مزید خراب ہوگئی ، جس پر بانی پاکستان کو سرکاری گھر میں منتقل کیا گیا۔ جہاں 11 ستمبر 1948ء کی صبح کے 10بجکر 25 منٹ پر پاکستان بننے کے محض ایک سال بعدبانی پاکستان محمد علی جناح وفات پاگئے ،ان کی وصیت کے مطابق نمازجنازہ علامہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی۔

قیام پاکستان کے صرف ایک سال ایک ماہ بعد بانی پاکستان کی وفات ایک ایسا قومی المیہ ہے جس کے اثرات آج تک محسوس کئے جا رہے ہیں، کیونکہ قیام پاکستان کے بعد قوم کو درپیش سنگین مسائل کے حل اور اندرونی و بیرونی سازشوں سے نمٹنے کیلئے قائداعظم کی رہنمائی کی اشد ضرورت تھی۔ بھارت کی اثاثوں کی تقسیم میں ریشہ دوانیوں، باؤنڈری کمیشن کی غیرمنصفانہ کارروائیوں (جن کے نتیجے میں کشمیر کے تنازعہ نے جنم لیا) اور دیگر ناگزیر حالات کی وجہ سے ملکی آئین کی تدوین اور ملک کی مختلف اکائیوں کے مابین بنیادی معاملات پر اتفاق رائے کے حصول میں جو تاخیر ہوئی وہ قائد کی وفات کی وجہ سے مزید الجھ گئے۔ قائداعظم کی زندگی میں نہ تو سول اور خاکی بیوروکریسی کو جمہوری اداروں اور سیاسی نظام میں دخل اندازی کا موقع ملتا اور نہ ملک کے مختلف سیاسی و مذہبی طبقات اور جغرافیائی اکائیوں میں اختلاف کی خلیج گہری ہوتی، کیونکہ قوم کے بھرپور اعتماداحترام اور عقیدت کے علاہ خداداد بصیرت کی وجہ سے قائد اعظم نہ صرف اتحاد و یکجہتی کی علامت تھے بلکہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت سے بھی مالامال تھے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قائداعظم کے بتائے ہوئے اصول و ضوابط پر سختی سے عمل پیرا ہو کر وطن عزیز کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں تا کہ ہمارا یہ پیارا ملک معاشی ترقی و استحکام حاصل کر کے وہ مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے جس کا خواب شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا ، اور جس کی تکمیل کے لئے مسلمانوں کے عظیم رہنما قائد اعظم محمد علی جناح نے جدوجہد کی تھی۔

*۔۔۔*۔۔۔*

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ