کوئی نیم سرکاری ادارہ وکیل کو ایک لاکھ روپے سے زائد فیس نہیں دے سکتا: چیف جسٹس

کوئی نیم سرکاری ادارہ وکیل کو ایک لاکھ روپے سے زائد فیس نہیں دے سکتا: چیف جسٹس
کوئی نیم سرکاری ادارہ وکیل کو ایک لاکھ روپے سے زائد فیس نہیں دے سکتا: چیف جسٹس

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ای او بی آئی کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ وکلاکو ایک لاکھ سے زائد فیس کی ادائیگی وزارت قانون کی اجازت سے مشروط ہے، کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوگا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ای او بی آئی مقدمات میں وکلا کو بھارتی فیسوں کی ادائیگی کیخلاف کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے قانون کے مطابق کوئی نیم سرکاری ادارہ ایک لاکھ سے زیادہ کسی وکیل کو فیس نہیں دے سکتا۔ عدالت نے قرار دیا وکلاکو ایک لاکھ سے زیادہ فیس کی ادائیگی وزارت قانون کی اجازت سے مشروط ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان ججز کو بھی رقوم واپس کرنا ہوں گی جنہوں نے بطور وکیل فیس لی،قوم کے ٹیکس کے پیسے کا بے احتیاطی سے استعمال کیا گیا۔ای او بی آئی کی مالی حالت خراب ہونے کے باوجود وکلاءکو بھاری فیسیں دی گئیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا ای او بی آئی نے وکلاکو مختلف مقدمات میں 5 کروڑ روپے ادا کئے۔کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی گئی۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد