اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 35

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 35

  

میں لپک کر کمرے میں آگیا۔ نیم تاریکی میںیہودی لڑکی کونے میں دویار سے لگی کپکپا رہی تھی۔ میں نے اسے حوصلہ دیا اور کہا کہ سپاہی کو میں نے ہلاک کر دیا ہے اور اب میں اسے وہاں سے نکال رہا ہوں۔ میں یہودی لڑکی نفتانی کو لے کر مکان کا زینہ چڑھ کر چھت پر آگیا۔ مکانوں سے اٹھتے ہوئے دھوئیں سے دن کے وقت ہی شہر پر اندھیرا مسلط کر دیا تھا۔ چاروں طرف سے ہاہا کار اور چیخ و پکار کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ آگ اس مکان کی طرف بھی بڑھنے لگی تھی۔ وہاں اس لڑکی کو رکھنا محفوظ نہیں تھا۔

آگ اور خون کا دریا بہت جلد اس مکان کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے والا تھا۔ میں یہودی لڑکی کو لے کر ساتھ والے مکان کی چھت پرکود گیا اور پھر نیچے گلی میں آکر ایک طرف بھاگنے لگا۔ نفتانی بھی میرے ساتھ بھاگ رہی تھی اور میں نے اسے بچانے کا عہد کر رکھا تھا۔ میں بازار میں آگیا۔ میرا ارادہ شہر کی فصیل کے کسی شگاف س فرار ہوجانے کا تھا لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ بازار میں ایک قیامت کا منظر بپا تھا۔ اشوری سپاہی پیدل اور گھوڑوں پر سوار مردوں کی گردنیں قلم کر رہے تھے اور جوان عورتوں کو گھسیٹتے ہوئے لے جا رہے تھے۔ جلد ہی مجھے احساس ہو گیا کہ کھلے بازار میں نکل کر میں نے غلطی کی ہے۔ میں نے یہودی لڑکی نفتانی کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا اور اسے کھینچتے ہوئے بازار کی دوسری جانب لئے جا رہا تھا کہ اچانک اشوری سپاہی گھوڑا دوڑاتا تلوار لہراتا میرے طرف لپکا ۔ اس نے مجھ پر تلوار کا بھرپور وار کیا اور یہودی لڑکی کوپلک جھپکتے میں اٹھا کر گھوڑے پر ڈالا اور اس سے پہلے کہ میں اس پر چھلانگ لگا سکوں وہ دیکھتے ہی دیکھتے گھوڑے کو دوڑاتا بازار میں موڑ گھوم گیا ، اور یہودی لڑکی نفتانی کی صرف چیخوں کی آواز ہی سن سکا جو ایک لمحے کے بعد دوسری عورتوں کی چیخوں میں گم ہوگئی۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 34پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

جس طرف اشوری گھڑ سوار گیا تھا میں اس کی طرف بھاگا۔ اچانک میری نظر زمین پر پڑی۔ یہودی لڑکی نفتانی کے کان کا ایک بندہ جس پر سبزنگ چڑھا ہوا تھا زمین پڑ پڑا تھا۔ وہ اس افراتفری میں اس کے کان میں سے نکل کر گر پڑا تھا۔ میں نے اسے اٹھا کر جیب میں رکھا اور بازار میں دیوانوں کی طرح دوڑنے لگا۔ سڑک پر ٹوٹا پھوٹا سامان اور کٹی ہوئی لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ سپاہی گھروں میں سے مردوں کا نکال نکال کر قتل کر رہے تھے۔

میں بھاگتا چلا جا رہا تھا۔ دو ر مجھے وہی سپاہی یہودی لڑکی کو گھوڑے پر ڈالے شہر کی فصیل کے شگاف سے باہر جاتا نظر آیا۔ میرے پیچھے سے ایک خالی گھوڑا دوڑتا ہوا آرہا تھا۔ میں نے اس کی لگام تھام لی اور چند قدم اس کے ساتھ دوڑنے کے بعد اس پر سوار ہوگیا اور فصیل کے شگاف کی طرف لپکا مگر میرے راستے میں جان بچا کر بھاگتی عورتیں اور بچے آ رہے تھے۔ میری رفتارمدھم ہوگئی اور اشوری سپاہی یہودی لڑکی نفتانی کو لئے میرے نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ اب مجھ پر اشوری سپاہیوں نے وار کرنے شروع کردیئے تھے کیونکہ میرا لباس یہودیوں جیسا تھا۔

میں نے گھوڑے کو دوسری طرف ڈال دیا۔ میں گھوڑا دوڑاتا اوپر سے ہو کر فصیل کے شگاف میں سے باہر کھلے میدان میں آگیا۔ یہاں حد نگاہ تک بخت نصر کی فوجوں کے خیمے لگے تھے اور سپاہی لوٹا ہوا مال اور اغواء کی ہوئی عورتوں کے لئے اپنے اپنے خیموں کی طرف جا رہے تھے۔ اچانک ایک سپاہی کا وار میرے گھوڑے کی گردن پر ہوا اور وہ زخمی ہو کر گر پڑا۔ میں بھی اس کے ساتھ ہی نیچے گر پڑا۔ سپاہی تلواریں سونتے مجھ پر حملہ کرنے ہی والے تھے کہ خیموں کی جانب سے قرنا پھونکنے کی تیز آواز بلند ہوئی اور سپاہیوں کے ہاتھ وہیں رک گئے۔ یہ بخت نصر کی جانب سے قتل عام بند کرنے کا حکم تھا۔ سپاہی بھی انسانوں کو قتل کرتے کرتے تھک گئے تھے۔ انہوں نے تلواریں نیام میں ڈال لیں اور باقی بچے کھچے یہودیوں کو قیدی بنانے کا کام شروع کردیا۔ مجھے بھی پکڑ لیا گیا۔ میں بڑی آسانی سے فرار ہو سکتا تھا۔ لیکن یہودی لڑکی نفتانی کو وہیں چھوڑ کر میں نہیں جانا چاہتا تھا۔ شاید مجھے اس سے محبت ہوگئی تھی۔ مجھے بھی دوسرے یہودیوں کے ساتھ پابہ زنجیر کر کے ایک کھلے میدان میں ڈال دیا گیا۔

دن ڈوب گیا پھر رات ہوگئی۔ قیدیوں کی تعداد میں برابر اضافہ ہو رہا تھا خیموں میں جگہ جگہ آگ روشن کر دی گئی۔ ان ہی خیموں میں کہیں میری محبوبہ نفتانی بھی تھی مگر میں اس کی کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا۔ اگر میں لڑتا بھڑتا اور اشوری سپاہیوں کو تہ تیغ کرتا اپنی محبوبہ کا خیمہ تلاش کرکے پہنچ بھی جاتا تو سوائے اس کے اور کچھ حاصل نہ ہوتا تاکہ مجھے قتل کرنے میں ناکام ہو کر اشوری سپاہی میری محبوبہ کو قتل کردیتے۔ چنانچہ میں سر جھکائے خاموش بیٹھا رہا۔

ساری رات بنی اسرائیل کے قیدی میدان میں پڑے کراہتے ، سسکیاں بھرتے اور آہ و بکا کرتے رہے ۔ ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کا کوئی قتل نہ ہوا اور بہن یا بیوی اغواء نہ ہوئی ہو۔ یروشلم شہر کے مکان ساری رات جلتے رہے۔ شعلے آسمان سے باتیں کرتے رہے ۔ اور ان کی روشنی یہودی اسیروں کے زرد چہروں پر جلتی بجھتی رہی۔ دوسرے دن سورج نکلا تو میں نے میدان پر ایک نگاہ ڈالی۔ یہودی اسیروں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو چکا تھا۔ سپاہیوں کے خیموں کی طرف سے عورتوں کی چیخوں کی آوازوں نے دم توڑ دیا تھا۔ دوپہر کے وقت فوجوں نے خیمے اکھاڑے اور کوچ کا حکم ملتے ہی بابل کی طرف واپسی کا سفر شروع کر دیا۔ ہم بیس پچیس ہزار قیدیوں کا بھی الم ناک سفر شروع ہوگیا۔

بنی اسرائیل کی یہ اس تاریخ اسیری کا آغاز تھا جس کا ذکر تورات میں بڑی تفصیل سے آیا ہے اور اہل یہود کی تاریخ اس سانحے پر اشکبار ہے۔ اشوری بادشاہ شاہ بابل نے بیت المقدس (بروشلم ) میں قتل و غارت گری کا وہ بازار گرم کیا جو چشم فلک نے کبھی نہیں دیکھا۔ بخت نصر کے اس حملے نے نہ صرف بنی اسرائیل کی سلطنت تباہ و برباد کر کے رکھ دی بلکہ اسرائیل کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا۔ ان کی مرکزیت ختم ہوگئی۔ تورات میں اس قومی اس المیے کا ذکر یوں کیا گیا ہے۔

’’ ہیکل مقدس کو زمین کے ساتھ ملا دیا گیا۔ بنی اسرائیل قتل ہوگئے ۔جو بچ گئے انہیں اسیربنا کر بابل لے جایا گیا۔ اسرائیل پر اگندہ بھیڑوں کی مانند ہے۔ شیروں نے اسے رگیدہ ہے۔ شاہ اشور نے اسے کھا لیا اور پھر یہ شاہ بابل بنوکدو خر (بخت نصر) اس کی ہڈیاں تک چبا گیا۔‘‘(یرمیاہ (50-17)

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار