A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

وزیراعظم کے مشیر رزاق داﺅد کی سی پیک کے خلاف بیان کی تردید، لیکن وزیر بننے سے پہلے انہوں نے سی پیک کے بارے میں کیا کہا تھا؟ ایسا انکشاف سامنے آگیا کہ واقعی پاکستانی بے حد پریشان ہوجائیں گے

وزیراعظم کے مشیر رزاق داﺅد کی سی پیک کے خلاف بیان کی تردید، لیکن وزیر بننے سے پہلے انہوں نے سی پیک کے بارے میں کیا کہا تھا؟ ایسا انکشاف سامنے آگیا کہ واقعی پاکستانی بے حد پریشان ہوجائیں گے

Sep 11, 2018 | 19:11:PM

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم کے مشیر برائے کامرس، ٹیکسٹائل، سرمایہ کاری و صنعت عبدالرزاق داﺅد نے گزشتہ دنوں فنانشل ٹائمز کو ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے کہا کہ حکومت سی پیک کے تحت بننے والے منصوبوں پر نظرثانی کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک سال کے لیے سب کچھ روک دینا چاہیے لیکن بعدازاں انہوں نے اس بیان کی تردید کر دی اور کہا کہ فنانشل ٹائمز نے ان کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر شائع کیا۔ تاہم اب ان کا چند ماہ قبل (جب وہ حکومت میں نہیں تھے) دیا گیا بیان منظرعام پر آ گیا ہے اور اس میں بھی انہوں نے سی پیک کے بارے میں ویسا ہی اظہار خیال کیا تھا جیسا اس حالیہ انٹرویو میں کیا۔ 8جنوری 2018ءکو ڈیلی ڈان میں شائع ہونے والے اس بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ”اس میں کوئی شک نہیں کہ سی پیک سے پاکستان کو فائدہ پہنچ رہا ہے لیکن اس سرمایہ کاری سے پاکستان اس سے کہیں زیادہ فائدہ حاصل کر سکتا تھا۔ سی پیک کے تحت بننے والے توانائی و دیگر منصوبے پاکستانی فرمز کو نہیں دیئے جا رہے اور سامان اور خام مال چین سے درآمد کیا جا رہا ہے۔ ٹیکنیشن، منیجرز ، انجینئرز اور باقی لیبر بھی چین سے آ رہی ہے۔ یوں سی پیک کے تحت بننے والے منصوبوں سے کمائی کا بہت بڑا حصہ چینی کمپنیاں لیجا رہی ہیں۔“

عبدالرزاق داﺅد کا مزید کہنا تھا کہ ”ہمیں سی پیک میں ایک منصوبہ بھی نہیں مل سکاکیونکہ ہماری خدمات مہنگی تھی۔ چینی کمپنیوں کی خدمات سستی ہونے کی وجہ سے انہیں کام مل رہا ہے اور ان کی خدمات اس لیے سستی ہیں کہ انہیں یہاں ٹیکس میں کئی طرح کی رعایتیں دی جا رہی ہیں جو پاکستانی بولی دہندگان کو نہیں دی گئیں۔اگر آپ پہلے سے جانتے ہو کہ آپ کو مخصوص فوائد حاصل ہو رہے ہیں تو آپ ان فوائد کو ذہن میں رکھتے ہوئے بولی لگاﺅ گے۔ چنانچہ چینی کمپنیاں سستی بولی لگا کر منصوبے حاصل کر رہی ہیں اور پاکستانی کمپنیاں ناکام ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ سی پیک کے منصوبوں پر کام کے حصول کے لیے چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے لیے میدان یکساں ہموار نہیں ہے۔ انہیں ہم سے کہیں زیادہ فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔اس ساری صورتحال سے لگ رہا ہے کہ آخر کار سی پیک پاکستانی قوم اور پاکستان کی کمپنیوں کو مہنگا پڑے گا۔“

مزیدخبریں