اربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک بھاگنے والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے، ملکی ترقی میں تاجر برادری کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، چیئرمین نیب کا تاجر برادری سے خطاب

اربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک بھاگنے والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے، ملکی ...
اربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک بھاگنے والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے، ملکی ترقی میں تاجر برادری کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، چیئرمین نیب کا تاجر برادری سے خطاب

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (اے پی پی) قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ اربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک بھاگ جانے والوں کو نیب کسی صورت نہیں چھوڑے گا چاہے وہ دنیا کے کسی گوشے میں چلے جائیں، نیب بلاخوف و ڈر اور اثر و رسوخ کے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے اپنی قومی ذمہ داری نبھانے کیلئے پرعزم ہے جبکہ ملکی ترقی میں تاجر برادری کا کردار انتہائی اہم اہمیت کا حامل ہے۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ نیب اقدامات سے تاجر برادری پریشان ہے حالانکہ لوگوں کو گیس، بجلی اور پانی کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے جن کا ذمہ دار نیب نہیں ہے، امید ہے یہ پریشانیاں آہستہ آہستہ ختم ہو جائیں گی، اس کیلئے جس جذبہ کی ضرورت ہے وہ جذبہ پاکستان میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری سے حقائق پر بات کروں گا، نیب کے کسی اقدام سے تاجر برادری کیلئے مشکلات پیدا نہیں ہوئیں اور نہ ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ تاجر طبقہ معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، تاجر خوشحال ہو گا تو ملک خوشحال ہو گا، اس نقطہ نظر کو سامنے رکھ کر نیب اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کو 39 ہزار 728 شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں ایک ہزار 499 زیر التواءہیں جبکہ باقی کو نمٹا دیا گیا ہے۔ اسی طرح نیب کے پاس 764 انکوائریاں، 174 انوسٹی گیشن زیر التواءہیں جبکہ 197 بدعنوانی کے ریفرنس متعلقہ عدالتوں میں زیر التواءہیں۔ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک 297 ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں جو کہ نمایاں کا میابی ہے۔ نیب کے ان مقدمات میں تاجر برادری کے کسی نمائندے کا نام شامل نہیں ہے، ملکی وقار کے منافی اقدامات کرنے والے کو تاجر برادری اپنا نمائندہ کیسے منتخب کر سکتی ہے، ان مقدمات میں ان افراد کے نام ہیں جنہوں نے کروڑوں روپے کی منی لانڈرنگ کی ہے، ان کے پاس 1980ءمیں کچھ نہیں تھا لیکن آج وہ دبئی میں پلازوں کے مالک ہیں، ان کے پاس یہ رقم کہاں سے آئی۔

انہوں نے کہا کہ نیب مقدمات کی تفتیش کے دوران کسی کی عزت نفس کو مجروح نہیں کرتا، عزت و احترام اور وقار سے انہیں نیب میں طلب کیا جاتا ہے، میں جج کی حیثیت سے ہمیشہ لوگوں کے دکھوں کا مداوا کیا ہے اور اب بھی لوگوں کے دکھوں کے مداوا کی کوشش کر رہا ہوں، اس تناظر میں چیئرمین نیب کا عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد ہر ماہ کی آخری جمعرات کو لوگوں کی شکایات خود سننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی مفاد، ضمیر، پاکستان کی بہتری، معیشت کی بہتری، دیانتداری سے کام کرنے والے اور ہزاروں مزدوروں کو روزگار دینے والے تاجروں کو کسی صورت بھی ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیب میں مقدمات کو شروع اور ختم کرنے سے پہلے ان کے قانونی پہلوﺅں پر غور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان غلطی پتلا ہے تاہم غلطی اور جرم میں فرق ہے، تاجر کی غلطی کے پورے معاشرے پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نجی ہاﺅسنگ سوسائٹیوں کے مالکان کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں کیونکہ انہوں نے غریب لوگوں سے ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی لوٹی ہے۔ انہوں نے لوگوں کو نہ پلاٹ دیئے ہیں اور نہ ان کی رقوم واپس کی ہیں جس کے باعث وہ دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ لاہور، ملتان، کوئٹہ سمیت ملک بھر سے ہاﺅسنگ سوسائٹیوں سے 85 کروڑ روپے وصول کرکے متاثرین میں تقسیم کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرسی کے شوق سے چیئرمین نیب کے عہدے پر نہیں بیٹھا ہوں، آخری اننگز کھیل رہا ہوں اور اسے یادگار بنانا چاہتا ہوں، غریبوں کے خون پسینے کی کمائی کے اربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک بھاگ جانے والوں کو نیب کسی صورت نہیں چھوڑے گا چاہے وہ دنیا کے کسی گوشے میں چلے جائیں، ان کا پیچھا کریں گے، ان سے لوٹی گئی دولت واپس لائیں گے اور غریبوں تک پہنچائیں گے یہ میرا فرض ہے، موجودہ دور میں کوئی خوف، حمایت، ڈر، سفارش اور اثر و رسوخ نیب افسران پر اثر انداز نہیں ہو سکتا، نیب افسران قانون کے مطابق بد عنوانی کے خاتمہ کو اپنا قومی فرض سمجھ کر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ تاجر برادری کی شکایات کو فوری طور پر نمٹانے کیلئے نیب ہیڈ کوارٹرز میں خصوصی ڈیسک قائم کیا جا رہا ہے جہاں پر ڈائریکٹر/ڈپٹی ڈائریکٹر کا سطح کا افسر موجود رہے گا کیونکہ نیب تاجر برادری کے مفادات کے تحفظ کیلئے موجود ہے، ذاتی مفاد کی بجائے ملکی مفاد کو تحفظ دینے والے تاجر کے مفاد کو تحفظ دیا جائے گا، بلاتفریق تمام طبقوں کی بہتری کیلئے اقدامات کئے جائیں گے، ملک 90 ارب ڈالر کا مقروض ہے، یہ پیسے ملک کی ترقی کیلئے لئے گئے تھے لیکن ان کو عوام پر خرچ نہیں کیا گیا، اس پیسے کو خرچ کرنے والوں کو جوابدہ بنانا میرا فرض ہے اسے پہلے بھی پورا کر رہا ہوں اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کسی فیس کو نہیں کیس کو دیکھتا ہے، جو کرے گا وہ بھرے گا، نیب کا کسی گروہ، گروپ، مفاد اور شخص سے کوئی تعلق نہیں، ہمارے مفادات اور وفاداریاں پاکستان اور پاکستانی عوام سے ہیں، ہمارا مقصد کمزور معیشت کو بہتر کرنا اور اربوں روپے باہر لے جانے والوں سے لوٹی گئی رقم واپس لانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں تجاوزات قائم کرنے میں ملوث سی ڈی اے افسران کے خلاف مو¿ثر کارروائی کی جائے گی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عامر وحید شیخ اور دیگر تاجر رہنماﺅںنے کہا کہ نیب کی احتساب سب کی پالیسی قابل تعریف ہے، جب سے موجودہ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے عہدہ سنبھالا ہے نیب کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے نیب کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی