’انٹرنیٹ پر ملاقات کے بعد میں اس لڑکی کے کمرے میں تھا کہ اچانک گھر کا دروازہ کھلا، میں گھبرا کر بستر کے نیچے چھپ گیا اور پھر پوری رات۔۔۔‘ نوجوان نے انٹرنیٹ پر ایسی بات بتادی کہ لوگوں کی ہنسی نہ رکے

’انٹرنیٹ پر ملاقات کے بعد میں اس لڑکی کے کمرے میں تھا کہ اچانک گھر کا دروازہ ...
’انٹرنیٹ پر ملاقات کے بعد میں اس لڑکی کے کمرے میں تھا کہ اچانک گھر کا دروازہ کھلا، میں گھبرا کر بستر کے نیچے چھپ گیا اور پھر پوری رات۔۔۔‘ نوجوان نے انٹرنیٹ پر ایسی بات بتادی کہ لوگوں کی ہنسی نہ رکے

  

سڈنی(نیوز ڈیسک)جسمانی لذت کے حصول کے لئے خطرات سے کھیلنے والوں کو اکثر اوقات لذت کی بجائے تکلیف کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے، اور ذلت و رسوائی الگ سے ہوتی ہے۔ ایک ایسا ہی آسٹریلوی نوجوان ایک اجنبی لڑکی سے مختصر بات چیت کے بعد اُس کے ساتھ رات گزارنے کے لئے جا پہنچا۔ اُس نے رات تو لڑکی کے کمرے میں گزاری، مگر بیڈ کے اوپر نہیں بلکہ اس کے نیچے، اور ایسے بُرے حال میں کہ زندگی بھر اس تکلیف اور بے عزتی کو بھلا نہیں پائے گا۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک پر کین نامی اس نوجوان نے اپنی بے توقیری کا قصہ خود ہی بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ”چند روز قبل انسٹاگرام کے ذریعے میری ایک لڑکی سے بات ہوئی تھی۔اُس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بوائے فرینڈ سے علیحدہ ہوچکی ہے اور آج کل اکیلی رہ رہی ہے۔ اس کی دعوت پر میں شب بسری کے لئے اُس کے فلیٹ پر چلا گیا۔ کچھ دیر ہم نے بات چیت کی اور پھر بیڈ روم میں چلے گئے۔ابھی ہم جسمانی بے تکلفی کا آغاز ہی کررہے تھے کہ اچانک باہر کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔یہ آواز سن کر وہ اُچھل کر بیڈ سے نکلی اور مجھے کہنے لگی کہ پچھلے دروازے سے بھاگ جاﺅ، لیکن مجھے اندازہ ہو چکا تھا کہ اب فرار ہونے کا وقت نہیں بچا، تو میں جلدی سے بیڈ کے نیچے گھس گیا۔

چند لمحے بعد ایک آدمی اندر داخل ہوا اور لڑکی نے جس طرح اُس کا استقبال کیا اُس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اس کا بوائے فرینڈ تھا اور ان کے درمیان ہرگز کوئی علیحدگی نہیں ہوئی تھی۔ اب میں انتظار کرنے لگا کہ جب وہ واش روم جائے گا تو میں فرار ہونے کی کوشش کروں گا لیکن میری بدقسمتی تھی کہ وہ کہیں بھی نہیں گیا۔

وہ دونوں گھنٹے بھر سے بیڈ پر ہی تھے اور اب رات گہری ہورہی تھی اور مجھے نیند بھی آرہی تھی لیکن میں اس خوف سے نہیں سورہا تھا کہ اگر نیند میں مَیں نے خراٹے مارنے شروع کردئیے تو وہ مجھے پکڑلے گا۔ صبح ساڑھے 9 بجے تک میں اسی حالت میں بیڈ کے نیچے لیٹا رہا۔ جب ساڑھے 9بجے وہ رخصت ہوا تو بالآخر میں بیڈ کے نیچے سے نکلا۔ میری حالت ابتر تھی، لیکن وہ لڑکی مجھے دیکھ کر ہنس رہی تھی۔ جب میں نے جب غصے سے پوچھا کہ اس نے میرے ساتھ جھوٹ کیوں بولا اور کیوں مجھے اس طرح ذلیل و خوار کیا تو وہ کہنے لگی ’زیادہ سوال کرنے کی ضرورت نہیں۔ بس جلدی سے نکل جاﺅ، وہ کسی کام سے گیا ہے اور جلد ہی واپس آ جائے گا۔ یہ سن کر میں نے بھی اسی میں عافیت سمجھی کہ فوراً وہاں سے نکلنے کی کروں۔ اسے غصیلی نظروں سے گھورتے ہوئے میں وہاں سے چلا آیا، اور توبہ کی کہ آئندہ ایسی احمقانہ حرکت نہیں کروں گا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس