قیام پاکستان کے بعد پہلا شناختی کارڈ کب اور کس کو جاری کیا گیا ؟ ایسی بات کہ جان کر ہر پاکستانی دنگ رہ جائے گا

قیام پاکستان کے بعد پہلا شناختی کارڈ کب اور کس کو جاری کیا گیا ؟ ایسی بات کہ ...
قیام پاکستان کے بعد پہلا شناختی کارڈ کب اور کس کو جاری کیا گیا ؟ ایسی بات کہ جان کر ہر پاکستانی دنگ رہ جائے گا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(ایس چودھری )قومی شناختی کارڈ کسی بھی پاکستانی کی شہریت کی ضمانت اور پہچان کا ذریعہ ہے ۔قیام پاکستان کے بعد ہی قومی شناختی کارڈ کی اہمیت کا تقاضا زور پکڑ گیا تھا ۔ تاہم اس بارے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کا پہلا باقاعدہ شناختی کارڈ 1973میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا بنایا گیا تھا اور قیام پاکستان کے چھبیس سال تک پاکستان میں کسی قسم کا شناختی کارڈ نہیں جاری کیا جاتا تھا جبکہ یہ حقائق برمبنی نہیں بلکہ پاکستانیوں اور غیر پاکستانیوں کی شخصی شناخت کا نظام کار وضع کرنے کا حکم پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نے جاری کردیا تھا تاکہ پاکستانی و غیر پاکستانیوں کی تشخیص کی جاسکے ۔اسکا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان کا سبس ے پہلا پاسپورٹ قیام پاکستان کے فوری بعد بن گیا تھا جو سفری دستاویز کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور اس پر شناختی کارڈ نمبر بھی درج ہوتا تھا ۔ 1965 کے صدارتی الیکشن سے پہلے ہی پاکستان الیکشن کمیشن نے شناختی کارڈ کے ادارے میں اہم تبدیلی لانے کا فیصلہ کرلیاتھا تاکہ انتخابات میں شناختی کارڈ کو استعمال کیا جاسکے ۔

واضح رہے کہ 1965سے پہلے شناختی کارڈ کی طرح پاکستانیوں کے بیرونی سفر کے لئے پاسپورٹ جاری کرنے کے پیچھے ایک خاصی فکری ذہن کارفرما تھے جس کی وجہ سے آئین میں تبدیلیاں کرکے سب سے پہلے شناختی کارڈ میں پاکستانیوں کو ڈیٹا اکٹھا کرنے کا نظام وضع کیا گیا تھا ۔1970تک اس ادارے میں واضع تبدیلیاں کردی گئیں تاہم 1971کی جنگ کے بعد شناختی کارڈ کے نظام میں مزید پیش رفت ہوئی اور پہلی بار 1973 میں ڈیٹا بیس کی بنیاد پر نظام کو استوار کردیا گیا اور پاکستانیوں کو ڈیٹا بیس شناختی کارڈ جاری کئے جانے لگے ۔اس نئے نظام کے تحت پہلا سادہ ڈیٹا بیس کارڈ وزیر اعظم بھٹو کا بنا تھا ۔پاکستانی شناختی کارڈ میں 1996 میں امریکہ سے جدید آئی بی ایم لیا گیا جس کے تحت پہلی بار ملک میں بائیو میٹرک سسٹم استعمال کیا جانے لگا اور 2000ءمیں جنرل پرویز مشرف کی ہدایات پر آئینی ترمیم کرکے نادرا جیسے ادارے کا قیام عمل میں لایا گیاتاکہ پاکستان میں غیر ملکیوں اور مہاجریں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو جدید ڈیٹا سسٹم میں منتقل کرکے ملک کی صورتحال پر نظر رکھی جاسکے۔ سادہ ڈیٹا بیس شناختی کارڈ سے سفر شروع کرنے والا یہ کارڈ اب ایک ڈیٹاچپ کی مدد سے کمپیوٹرائزڈ کارڈ میں منتقل ہوچکا ہے جس سے کسی بھی کارڈ ہولڈر کی مکمل خاندانی شناخت کرنا آسان ہوچکا ہے ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس