ننگر ہار، احتجاجی مظاہرے میں خود کش حملہ ،32افراد ہلاک ،130سے زائد زخمی ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ 

ننگر ہار، احتجاجی مظاہرے میں خود کش حملہ ،32افراد ہلاک ،130سے زائد زخمی ...
ننگر ہار، احتجاجی مظاہرے میں خود کش حملہ ،32افراد ہلاک ،130سے زائد زخمی ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ 

  

جلال آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)افغانستان کے اہم ترین صوبے ننگر ہار میں احتجاجی مظاہرے میں ہونے والے خود کش حملے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 32افراد ہلاک اور 130سے زائد زخمی ہو گئے ہیں،سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے،دھماکے کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغان صوبے ننگر ہار میں پاکستان کی سرحد اور جلال آباد کو ملانے والی شاہراہ پر ایک احتجاجی مظاہرے میں ہونے والے خود کش حملے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 32افراد ہلاک جبکہ ایک سو تیس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ کئی زخمیوں کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔حملے کے فوری بعد ہر طرف لاشیں اور زخمی پڑے ہوئے تھے اور ایک قیامت صغریٰ کا منظر تھا،اطلاع ملتے ہی امدادی اداروں نے اپنی کارروائیاں شروع کر دیں اور زخمیوں کو دور و نزدیک کے ہسپتالوں میں پہنچایا ۔افغان حکام کا کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ ایک مقامی ملیشیا کے کمانڈر کے خلاف ہونے والا ایک احتجاجی مظاہرہ تھا،جس وقت یہ دھماکہ ہوا اس وقت سیکڑوں افراد وہاں موجود تھے۔دوسری طرف تاحال خوفناف خود کش حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ۔واضح رہے کہ افغانستان کا مشرقی صوبہ ننگرہار صوبہ 2015ء سے شدت پسند تنظیم داعش کے ایک گڑھ رہا ہے جبکہ اس صوبہ میں رواں سال تشدد کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں اور صوبائی دارالحکومت جلال آباد میں بھی کئی خودکش دھماکے ہوئے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی