اگر متاثرہ زخمی پیش نہ ہو تو سزا نہیں ہو سکتی،سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم سیف اللہ کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا

اگر متاثرہ زخمی پیش نہ ہو تو سزا نہیں ہو سکتی،سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم سیف ...
اگر متاثرہ زخمی پیش نہ ہو تو سزا نہیں ہو سکتی،سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم سیف اللہ کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے قتل کے ملزم سیف اللہ کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا،تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آصف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے قتل کیس کے ملزم سزا کیخلاف اپیل پر سماعت کی،ٹرائل کورٹ نے2 بھائیوں کے قتل پر تیسرے بھائی سیف اللہ کوموت کی سزاسنائی تھی،ہائیکورٹ نے سیف اللہ کی موت کی سزا برقراررکھی جسے سپریم کورٹ نے عمرقید کردیا،وکیل مقتول نے کہا کہ ملزم سیف اللہ اوراس کے بھائیوں کے درمیان زمین کے جھگڑے میں 3افراد قتل ہوئے،ملزم کی بہن نسیم بی بی بھی جھگڑے میں زخمی ہوئی جو ایک ماہ بعد فوت ہوگئی،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ فریقین کے درمیان جو صلح ہوئی تھی ان میں کون کون شامل تھا،وکیل صفائی نے کہا کہ نسیم بی بی مرحومہ کے ورثااور زبیدہ بی بی نے ملزم کو معاف کردیا تھا،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر متاثرہ زخمی پیش نہ ہو تو سزا نہیں ہو سکتی۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ انڈین قانون میں ترمیم کرکے ورثاسے ورثا کی صلح کوقابل قبول بنایاگیا ہے،سپریم کورٹ نے بھی پارلیمنٹ کوتجویزدی ہے کہ اس قانون میں ترمیم کریں،سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم سیف اللہ کی سزائے موت کوعمرقید میں تبدیل کردیا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...