کیاپیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمان کے اسلام آباد لاک ڈاؤن میں شرکت کرے گی یا نہیں ؟بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کردیا

کیاپیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمان کے اسلام آباد لاک ڈاؤن میں شرکت کرے گی یا ...
کیاپیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمان کے اسلام آباد لاک ڈاؤن میں شرکت کرے گی یا نہیں ؟بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کردیا

  


کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان  پیپلزپارٹی نے اسلام آباد لاک ڈاؤن میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے اسلام آباد دھرنے کا حصہ نہیں ہیں، صرف اخلاقی حمایت کرینگے،ملک موجودہ وزیراعظم اور اسکی کٹھ پتلی حکومت کو مزید برداشت نہیں کر سکتا،انہیں اب گھر جانا پڑیگا، پیپلز پارٹی نے ہر دور دیکھاہے پہلے بھی ہم سب نے ملکر آمریت، انتہا پسندی و دہشتگردی کا مقابلہ کیا ہے، موجودہ حکومت ملک کے عوام پر جو ظلم ڈھا رہی ہے اور ہمارے صوبہ کا جو معاشی قتل کیا جارہاہے وہ سب کے سامنے ہے، یہ لوگ نت نئے جمہوری طریقے اپنا رہے ہیں اور جمہوریت پر حملے کررہے ہیں جس کا ہم ملکر مقابلہ کر رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا  کہ پاکستان پیپلزپارٹی ایک نظریاتی اصولوں پر چلنے والی پارٹی ہے،ہم اپنا موقف چاہے وہ 18ویں ترمیم ہو چاہے وہ رولز اور لا پر ہو؟ نہیں بدلیںگے،ہم ہر ظلم برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں جہاں تک اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن کے احتجاج کا تعلق ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ مولانا صاحب نے یہ فیصلہ خود لیا ہےاورپہلے اعلان خود کیا تھا جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو ہماری یہ بڑی واضح پالیسی رہی ہے اس بارے میں، اسلام آباد میں دھرنا چاہے وہ طاہر القادری کا ہو؟ چاہے وہ عمران خان کا ہو؟چاہے وہ تحریک لبیک کا دھرنا ہو ؟ہم اپوزیشن میں رہے اْس زمانے میں بھی ہم خود شریک نہیں رہے،مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست  اور اْنکے مسائل میں انکی اخلاقی اور سیاسی سپورٹ کریںگے،پیپلزپارٹی پہلے بھی اپوزیشن میں ہوتے ہوئے دھرنا سیاست میں شریک نہیں ہوئی،یہ ملک وزیراعظم اور اسکی کٹھ پتلی حکومت کو مزید برداشت نہیں کر سکتا، اِنہیں گھر جانا پڑیگا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نہ صرف ایک سیاسی جماعت ہے بلکہ یہ ایک خاندان کی طرح ہے،پارٹی کے سارے کارکن و امیدواران ایک خاندان کی طرح اور ایک دوسرے کے غم و خوشی میں شریک ہوتے ہیں، کشمیر پر وزیراعظم پاکستان کی تقریر نہیں سنی، لیکن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان پر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ  ہمارے ملک کا وزیر خارجہ کہتاہے  جموں و کشمیر انڈین صوبہ یا ریاست ہے،میڈیا کو یاد ہوگا ایک بار سابق وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عوامی تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میں نیند میں بھی کشمیر سے متعلق غلطی نہیں کرسکتا‘‘ آپ دیکھ رہے ہیں کہ جب سے یہ نالائق و نااہل سلیکٹڈ نمائندے آئے  ہیں ان سے غلطی پر غلطی ہورہی ہے، ہم سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں جو اس کٹھ پتلی سلیکٹڈ حکومت نے ہماری معیشت کے ساتھ کیا ہے اور مزید کررہے ہیں شاید یہ ہم برداشت کرلیں لیکن کشمیر کاز پر کوئی پاکستانی کوتاہی برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ۔ وزیراعظم کے پروگرام کا پتہ نہیں وہ جو بھی اعلان کرتے ہیں اْس پر یو ٹرن لے لیاجاتاہے،ہم کچھ کہہ نہیں سکتے کہ وہ کراچی آئیں گے یا نہیں؟وزیر اعظم سمیت انکی پوری ٹیم صرف فوٹو سیشن میں مصروف ہے،گرین کراچی مہم میں اِنہوں نے ایک جگہ سے کچرا اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیا،جس کا نقصان بارشوں میں شہریوں کو ہوا،وسائل نہ ہونے کے باوجود سندھ حکومت کام کررہی ہے، حکومت کا اپوزیشن جماعتوں پر پورا دباؤ ہے،وہ سمجھتے ہیں ہماری قیادت کو جیل میں ڈال کر ہمارے اوپر اور ہمارے ممبرز کے اوپر مقدمات بنا کر بلیک میل کرسکتے ہیں لیکن میں نے پہلے دن گڑھی خدا بخش میں کہا تھا جو کرناہے آپ کو کریں، جس کو آپ نے جیل میں ڈالنا ہے ڈالیں ،  وفاق ہمیں وسائل سے محروم رکھتا ہے اور ہماری غربت کا مذاق اڑایا جاتاہے، وہ کہتے ہیں آپ اتنے غریب کیوں ہو؟صو بے میں صحت، تعلیم اور ہسپتالوں کی حالت ایسی کیوں؟ ہمیں ہمارا پورا حصہ نہیں دیا جاتا، سندھ حکومت اپنے بل بوتے پر ہر وہ کوشش کرتی رہے گی چاہے وہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی صورت میں ہو یا دوسرے طریقے کار اپنائے جائیں؟ ہمارا اپنا صوبہ ہے جہاں امراضِ قلب کا مفت علاج کیاجاتاہے،وفاقی حکومت ڈرامے بازی کررہی ہے،کمیٹی پر کمیٹی بناتے جارہے ہیں، یہ کمیٹی غیرآئینی ہے، جی ڈی اے اور حکومت کا جو کٹ پتلی اتحاد ہے وہ ہمیشہ سندھ کو توڑنے کی سوچ رکھتے ہیں۔ 

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...