فریال تالپور کو اسمبلی نہ لایا گیا تو وزیر اعلیٰ ہاؤس پنجاب کا گھیراؤ کرینگے:سعید غنی

فریال تالپور کو اسمبلی نہ لایا گیا تو وزیر اعلیٰ ہاؤس پنجاب کا گھیراؤ ...
فریال تالپور کو اسمبلی نہ لایا گیا تو وزیر اعلیٰ ہاؤس پنجاب کا گھیراؤ کرینگے:سعید غنی

  


کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے باوجود فریال تالپور کو13ستمبر کو اسمبلی میں آنے کی اجازت نہ ملی تو ہم ہفتہ 14ستمبر کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہاؤس جاکر احتجاج اور دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے،پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے باوجود ان کو اسمبلی میں آنے کی اجازت نہیں دی جارہی، ہم سیاسی لوگ ہیں، تشدد پر یقین نہیں رکھتے، احتجاج میں ڈنڈے کھانے کو بھی تیار ہیں،ایم کیو ایم نے30سالہ سیاست سے کچھ نہیں سیکھا، ہمیشہ وہ استعمال ہوتے رہے ہیں اور آج بھی ہو رہے ہیں۔

صوبائی وزیر شہلا رضا، وقار مہدی اور راشد ربانی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےسعید غنی نے کہا کہ13تاریخ کو سندھ اسمبلی کا اجلاس ہے،پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے باوجود اگر فریال تالپور کو اجلاس میں نہیں لایا گیا تو کابینہ کے کچھ ممبر اراکین کے ساتھ وہ لاہور جائیں گے اور سی ایم ہاؤس جاکر ان کو یاد دلائیں گے کہ وہ آئین کی پاسداری کریں، فریال تالپور مجرم نہیں ہیں لیکن اس سب کے باوجود ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہشتگرد نہیں ہیں بلکہ سیاسی لوگ ہیں اور پر امن احتجاج پر یقین رکھتے ہیں، اگر وہ ڈنڈے ماریں گے تو ہم اس کے لئے بھی تیار ہیں  لیکن ہم قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج جاری رکھیں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ خان صاحب نے ملکی معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے،ایک دو روز سے کراچی کے مسائل کے حل کے لئے ایک کمیٹی بنانے کی بات کی جارہی ہے،اس سے پہلے کراچی ٹرانسفارم کمیٹی بنائی گئی اور200ارب روپے کے منصوبے وزیر اعظم کے علم میں لائے گئے،بلدیاتی نظام میں ترمیم وفاقی حکومت کا کام نہیں ہے، اگر ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم مزاحمت کریں گے۔

سعید غنی نے کہا کہ عوام ابھی تک علی زیدی کی کلین کراچی مہم کے نتائج بھگت رہے ہیں،اگر وزیراعظم مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ ہیں توکلین کراچی مہم کی حقیقت معلوم کریں جس کے بعد شاید وہ علی زیدی کو وزارت سے ہی ہٹادیں۔  صوبائی وزیر نے کہا کہ آرٹیکل 148 کا تذکرہ مناسب نہیں ہے اگر مارشل لاء نافذ کیاجائیگا تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت سندھ اسمبلی کی کمیٹیز میں اپوزیشن کی نمائندگی کیلئے14کمیٹیاں خالی رکھی ہوئی ہیں لیکن انہوں نے خو د بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی


loading...