وزیراعلیٰ اور پنجاب پولیس کے لئے ٹیسٹ کیس

وزیراعلیٰ اور پنجاب پولیس کے لئے ٹیسٹ کیس

  

لاہور سیالکوٹ موٹروے پر گجر پورہ کے قریب دو ڈاکوؤں نے کار سوار خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا، خاتون ڈیفنس لاہور میں اپنی بہن سے ملاقات کے بعد اپنے گھر گوجرانوالہ جا رہی تھی کہ موٹروے ٹول پلازہ سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر اس کی گاڑی خراب ہو گئی (یا اس میں پٹرول ختم ہو گیا) اور وہ مدد کے انتظار میں کھڑی ہو گئی،گاڑی کی خرابی کی اطلاع اس نے گوجرانوالہ میں اپنے عزیز کو دے دی،جو وہاں سے چل پڑے،اِس دوران دو  ڈاکو آئے اور خاتون کو بچوں سمیت ویرانے میں لے گئے، جہاں اسے بداخلاقی کا نشانہ بنایا گیا، حالت غیر ہونے پر ملزم فرار ہو گئے اور اپنے ساتھ ایک لاکھ روپے نقدی، طلائی زیورات، تین اے ٹی ایم کارڈ بھی لے گئے، خاتون کا عزیز موقع پر پہنچا، گاڑی کے قریب اسے نہ پا کر جب اِدھر اُدھر تلاش کر رہا تھا تو خاتون آتی دکھائی دی اور روتے ہوئے اپنی داستان سنائی، پولیس نے خاتون کے رشتے دار کے بیان پر مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے اور سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ملزموں کی تلاش شروع کر دی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق خاتون کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بھی زیادتی ثابت ہو گئی ہے، موٹروے پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ افسوسناک واقعہ موٹروے پولیس کی حدود میں نہیں ہوا، لاہور سیالکوٹ موٹروے اور رنگ روڈ موٹروے پولیس کی حدود میں نہیں ہے، وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے اورکہا ہے کہ خاتون کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو عبرت ناک سزا دی جائے گی۔

اخباری اطلاعات کے مطابق اِس علاقے میں ایک خاتون پہلے بھی ایسی ہی واردات کا نشانہ بن چکی ہے،ڈکیتی کی دوسری وارداتیں بھی ہوتی رہتی ہیں ایسی ہی شکایات پر رنگ روڈ پولیس اتھارٹی بنائی گئی تھی، جس کی ٹیمیں رات کے وقت اِس سڑک پر گشت کرتی رہتی ہیں تاہم اس کے باوجود  وارداتوں کا سد ِباب نہیں ہو سکا،لیکن موجودہ واقعہ تو اپنی نوعیت کے لحاظ سے بہت ہی لرزہ خیز ہے اور پولیس کے لئے ٹیسٹ کیس بھی ہے،جس کے سی سی پی او نے ابھی چند روز پہلے ہی اپنا منصب سنبھالا ہے اور آئی جی پنجاب نے بھی عہدہ سنبھالتے ہی اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے ساتھ معیار پر پورا اُترنے کی کوشش کریں گے، ریاست کی رٹ ترجیحات میں سرفہرست ہے اور اگر کوئی خلل ڈالتاہے تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا یہ تو معلوم نہیں کہ کون سا گروہ ریاست کی رٹ کو کہاں چیلنج کر رہا ہے،لیکن دیکھا جائے تو شاہراؤں پر کھلے عام ڈاکے مارنے اور خواتین کی عزت سے کھیلنے والے ہی دراصل وہ لوگ ہیں،جو حکومت کی رٹ اور پولیس دونوں کو چیلنج کر رہے ہیں،صوبے کے مختلف شہروں میں ڈکیتیوں کی وارداتیں تو روزانہ ہی درجنوں کے حساب سے کہیں نہ کہیں ہوتی رہتی ہیں، کبھی ان کے ملزم پکڑے جاتے ہیں اور کبھی نہیں، جرائم میں ملوث بعض گینگ آج تک نہیں پکڑے گئے اور وہ بلا خوف سنگین جرائم کی وارداتیں بھی کرتے رہتے ہیں، جس طرح کا واقعہ خاتون کے ساتھ پیش آیا ہے وہ اتنا قبیح ہے کہ اس کی مذمت کے لئے الفاظ نہیں ملتے۔ پنجاب کے نئے آئی جی اور لاہور کے نئے سی سی پی او کو اِس چیلنج کو قبول کر کے ملزموں کو جلد از جلد گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دلوانے کے لئے ضابطوں کی کارروائی مکمل کرنی چاہئے۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی واقعہ کا نوٹس لیا ہے، توقع ہے کہ وہ خود دلچسپی لے کر ملزموں کی گرفتاری اور انہیں سزا دِلوانے کو یقینی بنائیں گے۔

حکومت کے اعلیٰ اور ادنیٰ منصب دار دعوے تو بہت کرتے ہیں اور بلاناغہ کرتے ہیں،لیکن لاہور میں ان منصب داروں کی ناک کے عین نیچے ایک ایسی سڑک پر جو ہر لحاظ سے محفوظ و مامون ہونی چاہئے تھی، ایک اکیلی خاتون کے ساتھ جو مدد کی مستحق تھی جس درندگی کا مظاہرہ ہوا اس کا ذمے دار کون ہے؟ اس کا بھی تعین ہو جانا چاہئے اور جو لوگ دعوے کرتے نہیں تھکتے ان کا بھی امتحان ہے کہ وہ نہ صرف اس واردات کے ملزم تلاش کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں،بلکہ آئندہ سے ایسے حالات بھی پیدا کریں کہ کسی کو اس طرح کی واردات کا حوصلہ نہ ہو،اسی علاقے میں ایک عورت پہلے بھی ایسی ہی درندگی کا نشانہ بنی تھی، اگر اس کے ملزم گرفتار ہو گئے ہوتے اور اُنہیں مثالی سزا مل گئی ہوتی تو شاید یہ بدقسمت خاتون بھی درندگی کا نشانہ بننے سے بچ جاتی۔ سی سی پی او نے ایک چینل پر عجیب بات کی ہے کہ ایک عورت آدھی رات کے وقت اس موٹروے پر کیوں سفر کر رہی تھی اُس نے محفوظ راستہ کیوں اختیار نہیں کیا؟ سوال یہ ہے کہ جو راستہ کھلا ہوا ہے اس پر لوگ ٹول ٹیکس ادا کر کے سفر اسی خیال سے کرتے ہیں کہ یہ محفوظ ہے، دن ہو یا رات، راستوں کو محفوظ بنانا پولیس کی ذمے داری ہے،ایک ذمہ دار اعلیٰ پولیس افسر کی اس منطق سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا، اور اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ موٹروے محفوظ نہیں تو اسے کیوں کھولا گیا ہے؟ پہلے بھی ایسی شکایات ملتی رہتی ہیں کہ جرائم پیشہ لوگ ان موٹرویز پر گاڑیوں کو روک کر لوٹ لیتے ہیں،معلوم نہیں اب تک کتنے لوگ لُٹے اور یہ وارداتیں کرنے والے کتنے لوگ گرفتار ہوئے اور انہیں کتنی سزائیں ملیں، لیکن جرائم پیشہ لوگ جس طرح بلا خوف و خطر وارداتیں کر رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ وہ خود کو قانون کی گرفت سے بالاتر سمجھتے ہیں یا اُن کا خیال ہے کہ اول تو وہ گرفتار ہی نہیں ہو سکیں گے، ہو بھی گئے تو کسی نہ کسی طرح تفتیش کے مرحلے ہی میں بے گناہ قرار پا جائیں گے،اگر مقدمے میں ماخوذ ہو  گئے اور معاملہ عدالتوں تک پہنچ گیا تو اول تو گواہ ہی دستیاب نہیں ہوں گے اور اگر ایسا ہو گیا تو پھر ان گواہوں کو بھی ڈرا دھمکا کر یا تو خاموش کرا دیا جائے گا یا اگر ان کا ضمیر اتنا طاقتور ہوا کہ وہ جان کی پروا کئے بغیر گواہی دینے پر ڈٹ گئے تو پھر اُنہیں قتل تک کیا جا سکتا ہے،ان حالات میں اخلاقی جرائم میں ملوث لوگ سزاؤں کے خوف سے بے نیاز ہو کر وارداتیں کرتے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اول تو اُنہیں سزا دینا ہی مشکل ہو گا۔ اگر وہ سزا یاب ہو بھی گئے تو کسی نہ کسی طرح ضمانت پر رہا ہو جائیں گے۔کوئٹہ میں ایک پولیس سارجنٹ کو اپنی گاڑی سے کچلنے والے وڈیرے کو جس طرح باعزت بری کر دیا گیا اس نے ہمارے نظامِ انصاف کا کھوکھلا پن پوری طرح طشت از بام کر دیا ہے۔

لاہور میں عورت کے ساتھ درندگی کے اس واقعہ کے ملزموں کی جلد گرفتاری پنجاب پولیس اور پنجاب حکومت کی صلاحیتوں کا امتحان ہے،صرف گرفتاری ہی کافی نہیں، یہ بات بھی اہم ہے کہ جو ملزم بھی گرفتار ہوں اُنہیں مثالی سزا بھی دلوائی جائے اور اگر قانونی موشگافیوں کی وجہ سے زیادہ سزا کی گنجائش نہ ہو تو پھر یہ ضروری ہے کہ ایسے سنگین جرائم کے لئے نئے سرے سے قانون سازی کی جائے اور قوانین میں موجود ایسے نقائص دور کئے جائیں،جس کی وجہ سے بظاہر ایسے ملزم بھی بچ نکلتے ہیں، جنہیں  سزا ملنا یقینی ہوتا ہے۔اگر بداخلاقی کا نشانہ بننے والی اس عورت کے ملزم گرفتار نہ ہوئے یا پھر سزا سے بچ گئے تو یہ بحیثیت ِ مجموعی پورے معاشرے کے منہ پر طمانچہ ہو گا،جس کے اندر ایسے جرائم پیشہ لوگ پل رہے ہیں اور حکومت اپنے تمام تر وسائل اور دعوؤں کے باوجود انہیں روکنے میں ناکام ہے،اور سنگین جرائم اور قتل ِ عمد تک کے ملزم  سزاؤں سے بچ کر دندناتے پھرتے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -