جنگ ستمبر کی حقیقت اور نتائج

جنگ ستمبر کی حقیقت اور نتائج
جنگ ستمبر کی حقیقت اور نتائج

  

یہ قول  برطانوی وزیراعظم چرچل کی نسبت سے متعدد مرتبہ پڑھا ہے، کھوج لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ اس میں بیان حکمت کسی سے بھی منسوب ہو، کچھ فرق نہیں پڑتا۔ بلی سیاہ رنگ کی ہو یا سپیدی مائل، چوہے پکڑنا جانتی ہے تو سب ٹھیک ہے۔ چرچل کا فرمان ہے کہ جنگ کوئی ایسا غیر سنجیدہ کام نہیں جسے ہم جرنیلوں پر چھوڑ دیں۔ فوجی بھائی برافروختہ نہ ہوں، پوری بات سن لیں۔ اس قول میں موقع کی مناسبت سے تبدیلیاں کرتے جائیں، ہر جگہ، ہر فن اور ہر پیشے پر یہ قول یکساں طاقت کے ساتھ اپنی اہمیت منواتا نظر آئے گا۔ مثلا: " تعلیم کوئی ایسا غیر سنجیدہ کام نہیں جسے ہم پروفیسروں پر چھوڑ دیں ". اسی طرح." معیشت کوئی ایسا غیر سنجیدہ کام نہیں جسے ہم ماہرین معاشیات پر چھوڑ دیں ". مزید آگے چلئے, "خارجہ تعلقات کوئی ایسا غیر سنجیدہ کام نہیں جسے ہم دفتر خارجہ پر چھوڑ دیں ". مختصر جملے پر محیط اس قول میں آپ کو دو الفاظ بدلنا ہوں گے، اس قول کی ہر نئی شکل ہر شعبے پر یکساں اہمیت کے ساتھ واضح ہوتی جائے گی۔

پھولوں بھرا اور سمن اندام ملک 7 اکتوبر 1958 تک خوبصورتی سے چل رہا تھا۔ حد تو یہ رہی کہ قائد اعظم نے بمبئی میں واقع اپنا مکان فروخت نہیں کیا تھا کہ وہاں بھی آنا جانا رہے گا۔ قائد کا یہ بیان آپ نے متعدد دفعہ پڑھا سنا ہوگا کہ تقسیم کے بعد پاکستان اور ہندوستان دونوں کے باہمی تعلقات امریکہ اور کینیڈا جیسے ہوں گے۔ لیاقت علی خان کی شہادت جیسا سنگین صدمہ بھی ملک سہہ گیا۔ آئین بن چکا تھا۔ چند  اہم مقامی مسائل کو چھوڑ کر ہمارا بڑا مسئلہ، کشمیرپر ہندوستان کا ناجائز قبضہ تھا۔ وزیراعظم پاکستان ملک فیروز خان نون نے خاموشی اور بصیرت سے گوادر کی سینکڑوں میل لمبی اور ہزاروں میل مربع ساحلی پٹی مسقط سے خرید کر ملک کا جنوبی جغرافیہ مستحکم کر دیا تھا۔ شمالی جغرافیے پر بھی وہ خلد آشیانی روح بڑی خاموشی سے کام کر رہی تھی۔ اس زمانے میں ہندوستان سوویت یونین اور پاکستان امریکی کیمپ میں تھا۔ ملک نون نے اس خاموش سفارت کاری کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ میں امریکی مندوب ہنری سی لاج جونیئر سے فروری 1958 میں ملاقات کرکے مسئلہ کشمیر پر سفارت کاری کو بہت آگے بڑھا دیا تھا۔ لیکن 7 ستمبر 1958 کو گوادر ملک کا حصہ کیا بنا، بحر اوقیانوس کے دونوں طرف ہلچل مچ گئی، پینٹاگون حرکت میں آیا اور ایک ماہ کے اندر ملک فیروز خان نون  پتا نہیں کیوں ویسے ہی معزول کر دیے گئے جیسے محمد خان جونیجو اور دیگر بہت سے عوامی نمائندگان (خالی خانے خود پر کرلیں میرے تو پر چلتے ہیں)۔ 

یہ وہ عہد تھا کہ جب عرب اور افریقی ممالک میں پاکستان کی حیثیت بے تاج بادشاہ کی سی تھی۔ صحرائے صحارا سے لے کر صحرائے اعظم سے اگے ربع الخالی تک، ماضی کے خانہ بدوش بدوؤں اور آج کے فرعون صفت امریکی حاشیہ برداروں کو اگر عافیت ملتی تھی تو اسی سب سے بڑے اسلامی ملک کے خیمے میں، یہی ان کا نخلستان تھا اور یہی تب کے مسلمانوں کی سپر پاور تھی۔

1948ء کی جنگ، آزادی کشمیر کے بعد ہندوستان مسئلہ کشمیر کو خود اقوام متحدہ میں لے کر گیا۔ ہماری کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں رائے شماری پاکستان کے حق میں ہوئی۔ کوئی بھی فورم دیکھ لیجئے، ہر جگہ ہندوستان کا مقدمہ نہایت کمزور تھا. کیوں؟ کیوں کہ پاکستان نے مسقط کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد گوادر حاصل کیا تھا. ادھر ہندوستان نے اپنے ساحل پر واقع پرتگالی نوآبادی گوا پر طاقت کے استعمال سے قبضہ کیا تھا، حیدرآباد دکن پر بھی اس نے فوج کشی سے قبضہ کیا تھا، اس نے کشمیر میں طاقت کا استعمال کیا، پاکستانی ریاست جونا گڑھ میں مقامی قبائلی رضاکاروں کے پیچھے رہ کر اس نے فوج کشی کی۔ جبکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ماحول کچھ ایسا بن گیا تھا جو آج تک قائم ہے، کہ مسائل کو گفت و شنید سے حل کیا جائے۔

یہ سارے شواہد پاکستان کے حق میں تھے۔ مسئلہ کشمیر اپنے  خوبصورت فطری حل کی طرف جا رہا تھا کہ ایک دن ہنستے بستے پرسکون ملک کی راہداری اقتدار میں جنرل اسکندر مرزا اور جنرل ایوب کیا نازل ہوئے کہ پھر کون سا چرچل کا قول؟ کون سے مذاکرات؟ کون سا مسئلہ کشمیر؟ اور کون سی مسلمانوں کی سپر پاور؟اسکندر مرزا تو چند ہفتے نہ ٹھہر سکے لیکن جنرل ایوب، ملک کو بذریعہ آپریشن جبرالٹر جنگ تک لے ہی گئے. پاکستان کی مسلح افواج (بری، بحری اور فضائی) نے جنگ کے میدان میں وہ وہ جوہر دکھائے کہ بہت سے واقعات جنگی تاریخ میں ریکارڈ کا حصہ بن گئے۔ ائیر مارشل نور خان نے پہلے ہی دن ہندوستانی فضائیہ کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ بحریہ نے فاتح استنبول، محمد فاتح کی طرح ہندوستانی بندرگاہ دوارکا کو راتوں رات کھنڈر بنا ڈالا۔ رہی بری فوج، تو اس کے جوان، تیغ کیا چیز ہے ہم ٹینک سے لڑ گئے، کی تفسیر بن گئے۔ جنگ لڑتے غازیوں اور شہیدوں نے تو دفاع وطن کا حق ادا کیا لیکن کشمیر کے نام پر جنگ شروع کرانے والوں کیلئے کیا جنگ ناگزیر تھی؟ میرا خیال ہے نہیں! ملک فیروز خان نون درست خطوط پر چل رہے تھے۔  یوں ہمارے جواں مرد غازیوں اور شہداء کی جیتی ہوئی جنگ نے بعد میں ہمارا سارا بھرم کھول کر رکھ دیا۔

 ہر بین الاقوامی فورم پر سفارتی لحاظ سے بے حد کمزور ہندوستان کے خلاف آپریشن جبرالٹر کے نام سے لڑی گئی جنرل ایوب کی یہ جنگ ہرگز ناگزیر نہیں تھی۔ ہمارے سیماب صفت وزیر خارجہ، جنون کی حد تک کشمیر کے شیدائی اور آتش مزاج بھٹو کے دماغ میں جو سافٹ ویئر امریکہ نے نصب کر رکھا تھا، وہ جنرل ایوب کو گھیر گھار کر جنگ کی طرف لے گیا۔ جنگ تو ہم جیت گئے، جشن کا سا سماں بھی بپا ہوا۔ لیکن مستحکم بنیادوں پر قائم جمہوری ہندوستانی اداروں نے ہار کے بعد جنگ کا خوب مطالعہ کیا۔ پھر ہندوستان نے صرف چھ سال میں جیت کر ہی نہیں، پاکستان کے دو ٹکڑے کر کے ہمیں جنگ کا دوسرا رخ دکھا دیا۔ "جنگ کوئی ایسا غیر سنجیدہ کام نہیں جسے ہم جرنیلوں پر چھوڑ دیں ".

 ظلم کے پہاڑ تو بے بس قوم پر اس کے بعد ٹوٹنا شروع ہوئے۔ ہر پاکستانی بے سوچے بتا سکتا ہے کہ کوچہ اقتدار میں بھٹو کو متعارف کرنے والا ایک جرنیل تھا. بھٹو خود تو بے پناہ خوبیوں کے مالک تھے لیکن ہم نے کیا قصور کیا کہ آج بھی ہم ان کی تیسری نسل بھگت رہے ہیں۔ پھر تیسرے جنرل آئے جنہوں نے اپنی زندگی نواز شریف کو بخش دی۔ معلوم نہیں نواز شریف کیسے حکمران تھے، میں مورخ نہیں ہوں اور نہ میں لا یعنی گفتگو میں پڑتا ہوں۔ سادہ سا سوال یہ ہے کہ انہیں سیاسیات پاکستان میں متعارف کرانے والے کیا جنرل جیلانی اور جنرل ضیاء  الحق نہیں تھے؟ تو پھر دن رات نواز شریف اور بھٹو کے خلاف واویلا اور عورتوں کا سا سیاپا کیوں؟ اس کا جواب براہ کرم مجھے کوئی "محب وطن"دے ہی دے، کئی دفعہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں۔ دوسرا سوال: ملک فیروز خان نون کا آخر جرم کیا تھا؟ انہوں نے کیا کرپشن کی تھی؟ جواب تو کسی کے پاس ہے نہیں، واویلا کیے جا رہے ہیں۔ تیسرا تجربہ کیا ضروری تھا؟ پہلے دو اصحاب نے آمروں کی پیداوار ہوتے ہوئے بھی ملک کو بہت کچھ دے دیا تھا، اس تیسرے نابغے پر لکھوں بھی تو میں کیا لکھوں؟ (خالی خانہ (خراب) آپ خود پر کرلیں، میرے پر جلتے ہیں)۔

اسی ہفتے کی خبر: پارلیمانی نظام پر قائم جمہوری ہندوستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 542 ارب ڈالر سے بھی متجاوز. اپنے ملک کے زرمبادلہ پر لکھوں بھی تو میں کیا لکھوں؟ صدارتی نظام کی اشاعت کرنے والے معلوم نہیں، کیامزید ملکی تنزل چاہتے ہیں۔ اگر یہ فیصلہ ساز لوگ ہندوستان کو اس کے حال پر چھوڑ دیں تو یقین کیجئے، اس کے داخلی تضادات اسے چند سالوں میں لے ڈوبیں گے۔ لیکن جنگ کی موجودہ سرسامی  اشاعت بند نہ کی گئی تو وہ مزید ترقی کرتا چلا جائے گا۔ ان حالات میں فیصلہ ساز ادارے اگر بذریعہ اباؤٹ ٹرن خود بخود  6 اکتوبر 1958 والی حالت میں چلے جائیں تو ملک کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اس بارے میں ہندوستان کا ہم سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ نئے شفاف، آزادانہ، منصفانہ اور مداخلت سے پاک انتخابات میں جتنی تاخیر کی جائے گی، ملک اتنا ہی کمزور ہو گا۔ قوم باری باری سب کو بھگت چکی ہے۔ ہم دوراہے پر کھڑے ہیں۔ عوام کو ان کی مرضی کے فیصلے کرنے کا موقع دینے ہی میں سب کی عافیت ہے۔اجتماعی رائے کبھی غلطی پر نہیں ہوتی۔ یہی فرمان نبوی ہے، یہی قانون فطرت ہے،اور اسی پر  قائداعظم کا قول بھی موجود ہے: "عوامی رائے کبھی غلطی پر نہیں ہوتی." عوامی رائے پر ڈاکا ڈالنے والے غلط ہوتے ہیں، وہی ملک لے ڈوبتے ہیں۔ ما راہ المسلمون حسنا فہو عند اللہ حسنا۔ "جسے مسلمان مستحسن قرار دیں, وہ اللہ کے نزدیک بھی مستحن ہے"۔ تو کیا شرک کا ارتکاب اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے ہی سے ہوتا ہے؟ عوامی رائے یعنی اللہ کی پسند کو رات کی تاریکی, رات کے اندھیرے، رات کی ظلمت میں تبدیل کرنا کیا شرک نہیں ہے؟ محب وطن لوگوں کو ملک سے ذرہ برابر بھی لگاؤ ہے تو وہ 6 اکتوبر 1958 کی حالت پر چلے جائیں۔

مزید :

رائے -کالم -