ایجوکیشن شاپس (2)

ایجوکیشن شاپس (2)
ایجوکیشن شاپس (2)

  

”ڈائریکٹوریٹ آف سٹاف ڈویلپمنٹ (DSD) لاہور“ میں محکمہ تعلیم پنجاب کے ماتحت ایک سیمینار جار ی تھا جس میں ضلع سے تحصیل کی سطح تک کے مختلف عہدوں پر فائز 110تعلیمی منتظمین شرکت فرما تھے جو بنیادی طور پر اساتذہ  تھے۔ مجھے ”پنجاب ایجوکیشن سیکٹر ریفارم پروگرام“ جو کہ محکمہ تعلیم کا ایک ذیلی ادارہ ہے کی جانب سے سکولوں کے”پروفارمنس انڈیکیٹرز“ پر گفتگو کرنا تھی، لیکچر کے دوران میں نے حاضرین سے پوچھا ”آپ میں سے کتنے احباب کے بچے سرکاری سکولوں میں زیر ِ تعلیم ہیں‘‘؟  اس سوال پر ایک دم سیمینار ہا ل میں سکوت طاری ہو گیا۔ جواب کے حصول کے لئے سیمینار ہا ل کے چار سُودیکھا، صرف پانچ تعلیمی منتظمین (اساتذہ) کے ہاتھ بلند تھے۔ یعنی 110 میں سے صرف پانچ اساتذہ کے بچے سرکاری سکولوں میں تعلیم پا رہے تھے۔ یہ منظر میرے لئے پریشان کن اور تکلیف دہ تھا کیونکہ وہ افرادی قوّت جسے مقابلہ جاتی امتحان پاس کرنے کی بنیاد پر ملازمت میں لیا گیا، جن کی تعلیم بالعموم نجی تعلیمی اداروں کے ہم سطح اساتذہ سے بہترتھی، جن کی تعیناتی کے سکول زیادہ وسیع، جن کی تنخواہیں نسبتاًزیادہ تھیں اور جو اپنی عزت و مرتبہ، مراعات اور استحقاق جس نظام سے شَدّو مَد بلکہ احتجاج کے ساتھ طلب کرتے تھے انہیں اپنے بچوں کیلئے وہی نظام فرسودہ اور تعلیمی ادارے دقیانوسی دکھائی دیتے تھے۔

پنجاب ایجوکیشن سیکٹر ریفارم پروگرام میں تعیناتی کے دوران مجھے ایک سروے کرنے پر معلوم ہوا کہ پروگرام میں متعیّن 72لوگوں میں سے کسی کا بچہ بھی سرکاری سکول نہیں جا رہا تھا۔ سینٹری ورکر ”ڈیوڈ“ کے بچے تین ماہ پہلے تک سرکاری سکول میں تھے مگر بچوں کی تعلیمی کارکردگی سے مایوس ہو کر اس نے انہیں وہاں سے اٹھا لیا تھا۔ میرا ڈرائیور جمشید جو روزانہ کی اجرت کی بنیاد پر ملازم تھا اور کل 9000ہزار روپے ماہوار اجرت وصول کر رہا تھا،وہ بھی مفت کتابوں اور مفت تعلیم کی سہولت کو ٹھکر ا کر اپنے بچوں کو نجی سکو ل میں پڑھا رہا تھا۔

اسے حالات کی ستم ظریفی سمجھئے، سرکار کی بے بسی یا نظام کی بے حسّی کہ جن کے کندھوں پر پوری قوم کے بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کی ذمہ داری  ہے انہیں دراصل اپنی قابلیّت پر عدم اعتماد ہے اور وہ پیشہ وارانہ تدریسی ذمہ داریاں نبھانے سے یا تو ارا د تاً چشم پوش ہیں یا پھر انہیں عدم استعدادِ تدریس کے مسائل لاحق ہیں جن کے ازالہ کے لئے سرکار نے اعلیٰ تدریسی تربیتی ادارے قائم کر کے ان کی بہترین تربیت کا بندوبست کر رکھا ہے مگر وہ پھر بھی اپنے بچوں کو اپنے پاس، اپنے ہم مرتبہ اور ہم پیشہ اساتذہ کے پاس پڑھانے سے گریزاں ہیں۔ ان کے اس طرز عمل نے نہ صرف مالی طور پر خوشحال بلکہ غریب شہری کو بھی بددل کر دیا ہے۔یہ کہتے اکثرسنا گیا ہے کہ ”جب سرکاری سکولوں کے اساتذہ اپنے بچوں کو اپنے سکولوں میں پڑھانے سے گریزاں ہیں تو ہم کیوں اپنے بچوں کا مستقبل خراب کریں“؟

آج میرے سرکاری سکول کے محترم استا دکو شدید گلِہ ہے کہ اس کو وہ پذیرائی نہیں مل رہی جو اشفاق احمد کو اٹلی میں عدالت اور  وہاں کے ماحول میں میسّر آئی۔ اس کا شکوہ بجا کیونکہ استاد معاشرے کا معمار ہوتا ہے۔ اس کی سوچ اور کردار کی جھلک بچوں کی سوچ اور کردارسے جھلکتی ہے۔ اس لئے اس کا احترام اور مرتبہ سب سے بلند ہو نا چاہئے، مگر مجھے بطور استاد خود سے یہ بطور فرض پوچھنا ہے کہ میں پورا عرصۂِ ملازمت جس طرح روایتی طریقے سے پیشہ وارانہ خدمات سر انجام دیتا ہوں کیا اس طریق پر کوئی نجی ادارہ مجھے ایک دن کے لئے بھی قبول کرے گا؟ آج ہمارے پڑھائے ہوئے طلبا و طالبات میں سے کتنے اس مقام پر پہنچتے ہیں جتنے گاؤ ں کی صرف ایک جماعت میں سے ایک سال میں انتہائی اعلیٰ مرتبوں پر پہنچے۔آج دفتر میں بیٹھا ملازم آنے والے استاد کو وہ عزت اور احترام نہیں دے رہا جو ماضی میں اسے ملتا تھا تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کو سرکاری سکول کے استاد نے زائد وقت دینا تو کُجا، سکول کے مختص اوقات میں بھی توجہ نہیں دی، جس کے نتیجہ میں اسے مہنگی ایجوکیشن شاپس تک جانا پڑا، یاپھر شام کو اپنے ہی اساتذہ کی ٹیوشن اکیڈمی نامی ایجوکیشن شاپس پر حاضری دینا پڑی۔ 

سرکاری سکولوں کی توقیر کو بلند کرنے اور عام شہری کی مہنگی ایجوکیشن شاپس سے جان بخشی کے لئے میرے نزدیک صرف ایک ہی صورت بچتی ہے کہ تدریس کو ایک باقاعدہ باعزّت سروس گروپ کے طور پر اپنایا جائے۔ اساتذہ کی بھرتی سی ایس ایس اور پی ایم ایس طرز کے امتحانات کے ذریعے کی جائے۔ ان کی ابتدائی ٹریننگ دوسرے سروس گروپس کے ساتھ شراکت میں کرائی جائے اور ان سے، بشمول دیگر سروس گروپس کے ممبران کے، حلف لیا جائے کہ وہ اپنے بچے سرکاری سکولوں میں پڑھائیں گے۔ ہو سکتا ہے اسے دیوانے کا خواب کہا جائے مگر یہ ناممکن نہیں اور نہ ہی اس کے علاوہ کوئی علاج ہے۔ (ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -