برسات کا موسم اور ہمارے شہر

برسات کا موسم اور ہمارے شہر
برسات کا موسم اور ہمارے شہر

  

”رواں ہفتے کے دوران پاکستان بھر میں بارشوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گا‘ جو کئی دن جاری رہ سکتا ہے“ ایسی خبریں ہم پاکستانیوں کو پریشان کر کے رکھ دیتی ہیں‘ کیونکہ اگر آپ شہروں کے رہائشی ہیں تو بارش معمول سے تھوڑی سی بھی زیادہ ہو جائے تو آپ گلیوں اور سڑکوں کو ندی نالوں میں تبدیل ہوتا دیکھتے ہیں اور اگر دریاؤں اور برساتی نالوں کے کناروں پر کسی گاؤں کے باسی ہیں تو آپ کو سیلاب کے لئے تیار رہنا ہو گا۔ کراچی میں رہ رہے ہیں تو بارش کا پانی آپ کے گھروں میں بھی داخل ہو سکتا ہے کرنٹ لگنے میں کچھ کی ہلاکت بھی ہو سکتی ہے۔ 

لوگ مون سون کے مزے لیتے ہیں۔ طرح طرح کے کھانے پکاتے اور کھاتے ہیں‘ سیریں کرتے ہیں‘ مل بیٹھ کر گپیں لگاتے ہیں۔ اگر دوست احباب موجود نہیں بھی ہیں تو بارش کے موسم سے لطف اندوز ہونے سے کس نے روکا ہے۔ بارش برس رہی ہوچھت پر برآمدے میں یا بالکونی میں بیٹھ کر گرما گرم پکوڑوں کے ساتھ بھاپ اڑاتی چائے یا کافی کے بارے میں ذراسوچئے‘ منہ میں پانی نہ بھر آئے تو کہئے گا۔ اس پر برستی بارش کے حوالے سے ہی کوئی گیت آپ کے لیپ ٹاپ یا موبائل  پربج رہا ہو تو کیا کہنے۔ آپ کبھی بارش میں نہائے ہیں؟ اگر نہیں تو اس موسم میں کوشش کیجئے۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی دہلی کے شعبہ فارسی کے سربراہ پروفیسر اظہر کا تعلق دہلی کے قدیم خاندان سے ہے۔ وہ دہلی میں برسات کا سمان کچھ یوں باندھتے ہیں ”بارش کی پہلی پھوہار کے ساتھ ہی سیر سپاٹے اور تفریح کا آغاز ہو جاتا تھا۔ بیل گاڑیوں پر پکوان کا سامان لادے سارا گھرانہ مہرولی میں قطب مینار پہنچ جاتا۔ پیڑوں پر جھولے اور اینٹوں کے چولہے دہک اٹھتے۔ برسات کی ٹپ ٹپ کے ساتھ گرم گرم گلگلے اور مال پورے کھانے کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔ بالٹیوں میں رسیلے آم، دلفریب سماں کے درمیان وقت تیزی سے گزر جاتا“۔ دہلی ہی کیا یہ موسم تو پورے برصغیر میں اسی طرح خصوصی تیاری کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں بھی دیہات میں پیڑوں پہ جھولے پڑتے ہیں اور گاؤں کی خواتین اور لڑکیاں بالیاں اس موسم کا لطف اٹھاتی ہیں۔ بیسن کی مسی روٹیاں‘ بیسن‘ آلو اور پالک کے پکوڑے‘ کڑھی‘ آلو والے پراٹھے‘ سموسے‘ کچوریاں‘نہاری‘ چپلی کباب اور حلیم جو دراصل دلیم ہے‘ یعنی دالوں سے بنا ہوا سالن یا کھانا‘ لیکن غلط العام میں اسے حلیم کہا اور پکارا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں برسات کا موسم ایسے گزرتا ہے جیسے کوئی بن بلایا مہمان آ جائے اور اس کے باوجود ایسے گزرتا ہے کہ کراچی ہو یا لاہور‘ حیدرآباد ہو یا فیصل آباد ہر مون سون سے پہلے شہری و صوبائی انتظامیہ کی جانب سے بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں کہ مون سون کے موسم میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے ہر طرح کی تیاریاں کر لی گئی ہیں۔

کیا تیاریاں کی گئی ہیں‘ ان کی تفصیل نہیں بتائی جاتی‘ لیکن ان دعووں کا پول اس وقت کھل جاتا ہے جب سڑکیں اور گلی محلے پانی میں ڈوب جاتے ہیں اور آدھا شہر گھروں میں سے پانی نکالتا نظر آتا ہے۔ شہری ترقی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں نکاسیئ آب کے نظام کی گنجائش کم ہوگئی ہے اور اس کی بنیادی وجہ اس میں گارے‘ مٹی اور کوڑے یا سالڈ ویسٹ کا جمع ہونا ہے اور صفائی کا مناسب اور بروقت انتظام نہ ہونا ہے۔ کراچی میں پچھلے دنوں ہونے والی طوفانی بارشوں کے بعد پانی کے ریلوں نے شہر کا حلیہ بدل بلکہ بگاڑ کے رکھ دیا۔ سڑکوں پر اتنا پانی جمع ہو گیا کہ پانی کا بہاؤ اپنے ساتھ کنٹینر، کاریں، بسیں سب کچھ بہا کر لے گیا۔ مختلف حادثات میں 25 سے زیادہ افراد جاں بحق ہو گئے۔ اگرچہ وزیر بلدیات سندھ ناصر شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت بارشوں سے ہونے والی تباہی کا ازالہ کرے گی اور یہ کہ کراچی کا انفراسٹرکچر از سر نو بحال کیا جائے گا، لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ سب کیسے ہو گا؟ اور اگر یہ سب ہو سکتا تھا تو برسات کا موسم شروع ہونے سے پہلے کیوں نہیں کر لیا گیا؟ ہمارے ہاں اکثر یہی ہوتا ہے کہ سانپ گزر جانے کے بعد لکیر پیٹی جاتی ہے اور بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں کہ اب ہم یہ کر دیں گے‘ وہ کر دیں گے اور اگلے موسم برسات کے آنے سے پہلے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا‘ لیکن چونکہ ان بلند بانگ دعووں کا مقصد محض عوام کو وقتی طور پر مطمئن کرنا ہوتا ہے‘ اور اصلاحِ احوال قطعاً نہیں ہوتا‘ اس لئے اگلی بارشیں اس سے زیادہ قہر‘ اس سے زیادہ مسائل‘ مشکلات اور تکلیفیں لے کر آتی ہیں۔ اس میں کچھ قصور عوام کا بھی ہے جو اپنے ایسے نمائندے منتخب کرتے ہیں‘ جو ان کے لئے کچھ کرتے ہی نہیں‘ یا کرنا چاہتے ہی نہیں۔

سال ہا سال گزر جاتے ہیں اور صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آتی‘ حالات ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں‘ معاشرے میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ہمارے تمام شہروں کے سیوریج نظام کیوں ناکارہ ہو  چکے ہیں‘ اس میں اس سسٹم میں صفائی کا کوئی انتظام نہ ہونا تو سرِ فہرست ہے‘ لیکن ہمارے ہاں پلاسٹک کے شاپنگ بیگز کی جو وبا پھیل چکی ہے‘ اس نے بھی معاملات کو خراب کرنے میں خاصا کردار ادا کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ فی کس پانچ کلو گرام پلاسٹک استعمال کیا جاتا ہے۔ اب یہ پلاسٹک گھروں میں تو نہیں پڑا رہتا۔ باہر پھینک دیا جاتا ہے اور پلاسٹک کے یہ لفافے ہوا کے ذریعے اڑ کر یا پانی میں بہہ کر سیوریج سسٹم میں شامل ہو جاتے ہیں اور انہیں بلاک کر دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس پلاسٹک میں ایسے کیمیائی مادے ہوتے ہیں جو انسانی جسم کے اینڈوکرائن سسٹم یعنی ہارمونز پیدا کرنے والے نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں اور پلاسٹک سے نکلنے والے کیمیکلز انسانوں میں موٹاپا اور بانجھ پن بھی پیدا کرتے ہیں۔ یہاں ان لفافوں کے استعمال پر پابندی تو لگائی گئی ہے‘ دیکھئے کب موثر ہوتی ہے۔ بہرحال جب اس پابندی پر عمل درآمد یقینی بنا لیا جائے گا تو برسات بھی ہمارے لئے زحمت نہیں رہے گی۔

مزید :

رائے -کالم -