تبدیلی سرکار کے کرپشن کی داستانیں روز اول سے آرہی، ایمل ولی 

    تبدیلی سرکار کے کرپشن کی داستانیں روز اول سے آرہی، ایمل ولی 

  

پشاور(سٹی رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ تبدیلی سرکار کے کرپشن کی داستانیں روزاول سے آرہی ہیں لیکن بدقسمتی کہ عوام کا پیسہ لوٹنے والوں کے خلاف ابھی تک کارروائی نہیں کی جارہی۔ باچاخان مرکز پشاور میں ملاکنڈ سے پی ٹی آئی کے سابق رکن ضلعی کونسل رازق جان کی اے این پی میں شمولیت کے موقع پر گفتگوکرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ بلین ٹری سونامی منصوبے کے آڑ میں اربوں روپے حکومتی اراکین کی جیبوں میں جاچکی ہیں، اقربا پروری اور ناقص درختوں بارے خیبرپختونخوا اسمبلی کی کمیٹی بھی سفارشات دے چکی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اس بڑی کرپشن میں شامل ناموں کو بے نقاب کیا جائے۔ اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ تعلیمی ایمرجنسی کے نام پر قوم کے بچوں کا حق چھینا گیا، مفت کتاب دینے والوں نے اسی فنڈ سے جیبیں گرم کیں اور قوم کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ اگر کوئی شخص بچوں کو مفت کتابیں دینے میں بھی کرپشن کرے، ایسے شخص کو معاف کرنا اپنی قوم اور مستقبل کے ساتھ خیانت ہے۔ نیب کی نئی انکوائریوں بارے اے این پی کے صوبائی صدر کا کہنا تھا کہ کپتان کے چہیتے ڈائریکٹر آرکیالوجی آج بھی کرسی پر براجمان ہے جبکہ نیب نے ایک اور انکوائری کی منظوری دی۔اپوزیشن اراکین کو صرف الزامات پر گرفتار کرنیوالی نیب ڈائریکٹر آرکیالوجی کے خلاف کب کارروائی کرے گی؟ ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی پر کرپشن کے الزامات لگانے والے سن لیں، ایک ایم پی اے کے خلاف بنایا گیا جھوٹا کیس بند کردیا گیا۔آج بھی کہتے ہیں کہ کرپشن فری پاکستان کا نعرہ تب حقیقت ہوگا جب بلاتفریق کارروائیاں ہوں گی۔مالم جبہ اور بی آر ٹی جیسے میگا کرپشن کیسز پر چشم پوشی مجرمانہ فعل ہے۔پی ٹی آئی دورحکومت کے بڑے منصوبے بڑی آرٹی بارے ایمل ولی خان نے کاہ کہ بی آر ٹی بن گئی، اس بڑے کرپشن پر نیب کی خاموشی معنی خیز ہے۔سپریم کورٹ نے حکم امتناعی صرف اسلئے دی تھی کہ تاخیر نہ ہو، اب تو پی ٹی آئی اسکی تکمیل کے دعوے کرچکی ہے۔وفاقی وزراء، صوبائی وزراء، ایم پی ایز اور دیگر حکومتی اراکین پر اب بھی ہاتھ نہیں ڈالا جارہا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -