مختلف تنظیموں اور تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء کے والدین کا مظاہرہ

  مختلف تنظیموں اور تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء کے والدین کا مظاہرہ

  

پشاور (سٹی رپورٹر)مختلف تنظیموں اور نجی  تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین نے لاک ڈاؤن کے دوران بچوں سے فیسوں کے حصول کیخلاف گزشتہ روز پشاور پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جسمیں آل خیبر پختونخوا پیرنٹس ایسوسی ایشن سمیت دیگر تنظیموں اور نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین نے شرکت کی۔ مظاہرے کی قیادت سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی مہر سلطانہ ایڈووکیٹ‘ عالمزیب خان‘ سنگین ایڈووکیٹ اور دیگر کر رہے تھے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر ان کے مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں اور پرائیویٹ سکولز مافیا کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ کورونا وباء کے دوران پرائیویٹ سکولز کے ساتھ ساتھ کاروبار زندگی بھی بوجہ لاک ڈاؤن بند رہا جس کے باعث طلبہ کے والدین کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں جبکہ ایسے حالات میں پرائیویٹ سکولز مافیا کی جانب سے بچوں سے فیسوں اور ٹیوشن فیسوں کی وصولی کا کہا جا رہا ہے جبکہ والدین کو فیسوں کی عدم ادائیگی پر طرح طرح کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جبکہ وزیر تعلیم‘ سیکرٹری تعلیم اور دیگر متعلقہ حکام اور ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ حکومت وقت نے پرائیویٹ سکولوں کے مالکان کو فائدہ پہنچانے کیلئے پہلے تو وباء کے دوران دو ماہ کے لاک ڈاؤن کو غیر قانونی طور پر موسم گرما کی چھٹیوں میں تبدیل کیا اور پھر جب لاک ڈاؤن میں توسیع کی گئی تو خیبر پختونخوا حکومت نے اپڈیمک کنٹرول اینڈ ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس 2020 ء کے ذریعے چند روپوں کا ریلیف دیکر والدین کو پرائیویٹ سکولز کے غیر قانونی ٹیوشن فیس کی ادائیگی پر مجبور کیا حالانکہ لاک ڈاؤن حکومت کی طرف سے تھا پھر حکومت ہی ذمہ دار ہے کہ ٹیوشن نہ دینے کے باوجود پرائیویٹ سکولز کی ٹیوشن فیس کی وصولی حکومت سے کی جائے۔ انہوں نے حکومت کو مطالبات پیش کئے کہ پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی میں والدین ممبرز کی نمائندگی پرائیویٹ سکولز کے نمائندگان کے برابر کی جائے‘ پی ایس آر اے میں والدین نمائندگان کو بھی بذریعہ الیکشن انتخابی عمل میں لایا جائے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہو جائینگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -