پاکستان ورکرز فیڈریشن مردان کا زیارت مائنز حادثہ پر افسوس کا اظہار

پاکستان ورکرز فیڈریشن مردان کا زیارت مائنز حادثہ پر افسوس کا اظہار

  

مردان (بیورورپورٹ)پاکستان ورکرز فیڈریشن نے مہمند ایجنسی کے مائنز حادثے پر افسوس کااظہار کر تے ہوئے اس المناک حادثہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیاہے اورکہاہے کہ پاکستان میں مائینزز سیکٹر قتل گاہ بن چکی ہے پاکستان ورکرز فیڈریشن کے رہنماؤں مرکزی جزل سیکرٹری محمد ظہور اعوان، چوہدری محمد یاسین، شوکت علی انجم، محمد اسلم عادل، رازم خان اور شادخان نے ایک بیان میں کہاکہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سرکاری ملازمین کی جائز اور بنیادی مطالبات اور مسائل حل نہیں کئے تو ملک بھر کے محنت کش بھی 6 اکتوبر کو اسلام آباد میں ملازمین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرکے تاریخ ساز دھرنا دینگے فیڈریشن رہنماؤں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ملازمین اور مزدور دشمن پالیسیوں کی وجہ سے معاشرے کے ہر فرد کی زندگی غذاب بن چکی ہے۔ کم تنخواہ دار ملازمین آج ملک بھر میں سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہے کیونکہ اشیائے خوردونوش، ادویات اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں کئی فیصد اضافہ ہونے سے غریبوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ انہوں نے مہمند ایجنسی کے مائنز کے ہونے والے حادثے پر آفسوس کااظہار کر تے ہوئے اس المناک حادثہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا۔اور کہا کہ پاکستان میں مائینز سیکٹر قتل گاہ بن چکی ہے آئے روز نوجوان مائینز مزدوروں کی لاشیں نکالی جارہی ہیں لیکن کوء پرسان حال نہیں پاکستان میں عالمی ادارہ محنت کے کنونشن کے مطابق مائینز سیفٹی کو یقینی بنایا جائے. PWF رہنماؤں نے آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس خیبرپختونخوا کے تمام مطالبات کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تمام ملازمین کو بلا تفریق جدید ٹائم سکیل، یکساں سکیل اور مراعات، ایڈ ہاک ازم اور کنٹریکٹ پالیسی کا خاتمہ، میڈیکل الاونس کم از کم دس ہزار روپے ماہانہ، ہاؤس رینٹ الاؤنس جاری تنخواہ پر بلا تفریق پچاس فیصد، تمام ایڈ ہاک ریلیف بنیادی تنخواہ میں ضم کر کے پے ریوائز کر کے بلا تفریق پچاس فیصد تنخواہ بڑھائی جائے۔ملک بھر میں ملازمین اور محنت کشوں کے حوالے سے آئی ایم ایف کا اثر و رسوخ ختم کیا جائے صوبائی حکومت 2013میں پانچ فیصد اور 2015میں ڈھائی فیصد ایڈ ہاک ریلیف کی جگہ تمام ملازمین کو ایک ایڈ وانس انکریمنٹ دینے کا اعلامیہ جاری کیا جائیں۔ پنشن، سالانہ انکریمنٹ اور ساٹھ سالہ سروس کے خاتمے کے حوالے سے جو خبریں گردش کر رہی ہے حکومت اس سلسلے میں وضاحتی اعلامیہ جاری کریں تاکہ ملازمین میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو جائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -