وزیراعظم مشیروں کو کہیں جواب دیں، ورنہ پرنسپل سیکرٹری کو طلب کر لیں گے: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ 

وزیراعظم مشیروں کو کہیں جواب دیں، ورنہ پرنسپل سیکرٹری کو طلب کر لیں گے: چیف ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ میں وزیراعظم عمران خان خان کے16 مشیروں اور معاونین خصوصی کی تعیناتیوں کیخلاف دائر د ر خواست کا وزیراعظم عمران خان،شہزاد اکبر،سید شہزاد قاسم،شہزاد ارباب اور وزارت قانون نے جواب داخل کرا دیا، عدالت نے جواب دا خل نہ کرانیوالے مشیروں اورمعاونین خصوصی کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو عدالتی حکم کی تعمیل کروانے کی ہدایت کردی جبکہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی جواب دینے کیلئے مہلت کی استدعا منظور کر لی، چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خا ن نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ حکومت ایڈوائزر رکھتی ہے تو کہتی ہے کہ یہ دنیا کے بہترین لوگ ہیں، تانیہ ایدروس پا کستان کے مفاد کیخلاف کام کرتی رہیں،جب تانیہ ایدروس کے حقائق سامنے آئے تو وہ بیگ اٹھاکر واپس چلی گئیں، چیف جسٹس قاسم خان نے باور کرایا کہ میڈیا کے مطابق عبدالحفیظ شیخ کے اکاؤنٹ میں 25ہزار روپے اور ایک بیگ ہے،چیف جسٹس نے جواب داخل نہ کر نیو ا لے مدعاعلیہان کے حوالے سے ریمارکس دئیے کہ جواب نہ دینے والے مشیروں کے اخبارمیں اشتہار جاری کردیں کیا؟ وزیراعظم کو احکامات جاری کریں کہ مشیروں کو کہیں جواب دیں،یا پھروزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو طلب کرلیں اگر ایسا کیا تووفاقی حکومت کے وکلا ء نے چیمبر میں آکر رونا ہے کہ پرنسپل سیکرٹری کو نہ بلوائیں۔ عدالت نے جواب جمع نہ کروانیوالے عبدالرزاق داؤد، امین اسلم اور ڈاکٹر عشر ت حسین، ڈاکٹر بابر اعوان،ڈاکٹر ظفر مرزا، معید یوسف، زلفی بخاری،ثانیہ نشتر،ندیم افضل چن، شہباز گل کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو عدالتی حکم کی تعمیل کرانے کا حکم بھی دیا، وزیراعظم عمران خان،شہزاد اکبر،سید شہزاد قاسم،شہزاد ارباب اور وزا ر ت قانون نے جواب داخل کرا دیا، وزیراعظم نے اپنے جواب میں واضح کیا کہ مشیر خاص رکھنا ان کا آئینی اختیار ہے،آئین کے آر ٹیکل 93 کے تحت وہ اپنے5مشیر مقررکرسکتے ہیں جبکہ رولز آف بزنس کی شق 6(4)کے تحت انہیں معاونین خصوصی کی تعیناتیوں کا بھی اختیار حا صل ہے، تمام مشیروں کی تقرریاں آئین اور قانون کے مطابق ہیں، شہزاد اکبر نے جواب میں استدعا کی کہ اسلام ہائیکورٹ نے ان کا تقرر قانونی قرار دیا اسلئے زیرنظردرخواست ناقابل سماعت اور بے بنیاد قراردیکر مسترد کی جائے،عدالت نے مذکورہ کارروائی کے بعد سماعت ملتوی کردی۔

چیف جسٹس لاہور

مزید :

پشاورصفحہ آخر -