انسانی نعشوں کا مبینہ کاروبار،سیکرٹری صحت‘کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی شعبہ اناٹومی کے ای او ڈی کو نوٹس 

       انسانی نعشوں کا مبینہ کاروبار،سیکرٹری صحت‘کنگ ایڈورڈ میڈیکل ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شجاعت علی خان نے سرکاری سطح پر انسانی نعشوں کے مبینہ کاروبار کے خلاف دائر درخواست پر صوبائی سیکرٹری صحت اورکنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ اناٹومی کے ای او ڈی کو طلبی کے نوٹس جاری کردیئے۔ دوران سماعت فاضل جج نے قراردیا کہ انتہائی اہم معاملہ سامنے آیا ہے،کسی کو انسانی نعشوں کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔درخواست گزارشہری کی طرف سے موقف اختیار کیا گیاہے کہ نعشوں کے لین دین میں ملوث سرکاری ادارے ایک دوسرے پر تحریری الزام عائد کررہے ہیں،ایم بی بی ایس کے پہلے اور دوسرے سال کے طلبہ کے لئے انسانی نعشوں کی ضرورت ہوتی ہے،ایم بی بی ایس کے طلبہ انسانی نعشوں پر پریکٹیکلز کرتے ہیں، دو برسوں میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور نے 15 انسانی نعشیں حاصل کیں،کے ای ایم یو نے دو برسوں میں چار نعشیں پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کو فراہم کیں،پولیس کے مطابق انسانی نعشوں کو میڈیکل کالجوں یا یونیورسیٹیوں کے حوالے کرنے کا قانون نہیں ہے، پولیس نے دو برسوں کے دوران کنگ ایڈورڈ یاکسی بھی میڈیکل کالج اور یونیورسٹی کو ایک بھی نعش نہیں دی،انسانی نعشوں کی فراہمی کے متعلق سرکاری اداروں کے تحریری موقف نے ابہام پیدا کر دیاہے،پرائیویٹ میڈیکل کالج پانچ لاکھ روپے تک انسانی نعشیں خریدنے لگے ہیں،لاوارث اور ناقابل شناخت انسانی نعشیں بکنے لگی ہیں،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹر علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور کے مطابق پولیس اور مینٹل ہسپتال کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ انسانی نعشیں فراہم کرتے ہیں جبکہ ایم ایس مینٹل ہسپتال لاہور کا کہناہے کہ دوبرسوں کے دوران علامہ اقبال میڈیکل کالج سمیت کسی بھی کالج یا یونیورسٹی کو انسانی نعش فراہم نہیں کی۔

طلبی نوٹس

مزید :

صفحہ آخر -