امریکہ نے ایک ہزار چینی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیئے، فیصلہ نسلی امتیازپر مبنی ہے: چین 

امریکہ نے ایک ہزار چینی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیئے، فیصلہ نسلی امتیازپر مبنی ...

  

 واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) امریکہ نے اپنے ملک میں موجودہ ایک ہزار سے زائد طلباء اور ریسرچرز کے ویزے منسوخ کر دیئے ہیں جسے چینی وزارت خارجہ نے سیاسی ظلم اور نسلی امتیاز قرار دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ اقدام صدر ٹرمپ کے حکم پر اٹھایا گیا ہے۔ بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ ان میں سے بیشتر ویزہ ہولڈرز جاسوسی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔یاد رہے صدر ٹرمپ نے 29مئی کو ایک اعلان میں الزام لگایا گیا تھا کہ امریکہ میں تعلیم کے لئے موجود کچھ چینی باشندوں نے ”انٹیلیکچوئیل پراپرٹی“ چرا کر چینی فوج کو جدید بنانے میں مدد کی ہے۔ اس کے بعد امریکہ کی چین کے ساتھ مختلف محاذوں پر کشیدگی کا آغاز ہو گیا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ کے پرانے اعلان پر عمل کرتے ہوئے ایک ہزار سے زائد چینیوں کے ویزے منسوخ کئے گئے ہیں محکمے کی خاتون ترجمان نے واضح کیا ہے کہ امریکہ میں موجود تعلیم اور تحقیق سے متعلق چینی افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے اور جن طلباء کو امریکہ میں رہنے کے نا اہل قرار دیا گیا ہے یہ اس کا بہت معمولی حصہ ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ امریکہ چین کے ایسے جائز طلباء اور سکالرز کا خیر مقدم جاری رکھے گا جو چینی کمیونسٹ پارٹی کے فوجی برتری حاصل کرنے کے مقاصد کو آگے نہیں بڑھائیں گے۔ تاہم انہوں نے ان طلباء کے ناموں کی فہرست نہیں دی جن کے ویزے منسوخ ہوئے چین سے 2018-19ء کے سیشن میں تقریباً تین لاکھ ستر ہزار طلباء نے امریکی یونیورسٹیوں میں داخلہ لیا تھا جو کسی بھی بیرونی ملک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ان امریکی تعلیمی اداروں کو ان داخلوں سے بہت مالی فائدہ پہنچا جو کرونا وائرس کے باعث منفی طور پر متاثر ہو گیا۔ ایشیائی امریکی سرگرم ارکان نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کے احکامات نے کیمپوں پر شک و شبہات کی فضاپیدا کر دی ہے جہاں ایشیائی نسل کے طلباء کے ارادوں کے بارے میں بے بنیاد سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ امریکی ٹی وی چینل ”فوکس نیوز“ نے امریکی محکمہ خارجہ کے اعلان کے بعد چینی وزارت خارجہ کے ردعمل کو نشر کیا ہے جس میں اس پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔ چینی ترجمان نے امریکی حکومت کے اقدام کو امریکہ میں بڑھنے والے چینی طلباء کے جائز حقوق اور مفادات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔۔ ویزے منسوخ کرنے کے فیصلے کو چین نے نسلی امیتاز قرار دیدیا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے  مطابق بیجنگ نے چینی طلبہ اور محققین کے خلاف امریکی فیصلے کے ردعمل میں کہا کہ امریکا سیاسی جبر اور نسلی امتیاز کی راہ پر گامزن ہے اور اب ہم رد عمل کا حق محفوظ رکھتے ہیں.خیال رہے کہ واشنگٹن نے سیکورٹی رسک قرار دے کر ایک ہزار چینی طلبہ اور محققین کے ویزا منسوخ کردیے ہیں چین میں وزارت خارجہ کے ترجمان ژا لیجیان نے باضابطہ پریس بریفنگ میں بتایا کہ امریکی اقدام طلبہ کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے.

ویزے منسوخ

مزید :

صفحہ اول -