سانحہ موٹروے، پوری قوم چیخ اٹھی، پولیس کی 20ٹیمیں تشکیل، باپ بیٹے سمیت 12مشکوک افراد گرفتار، کھوجیوں، سی سی وی فوٹیچز اور ڈی این اے کی مدد سے تفتیش، 48گھنٹوں میں ملزمان تک پہنچ جائیں گے، سی سی پی او لاہور، خاتون کی بے حرمتی پر وزیراعظم کا نوٹس، آئی جی سے رپورٹ طلب 

      سانحہ موٹروے، پوری قوم چیخ اٹھی، پولیس کی 20ٹیمیں تشکیل، باپ بیٹے سمیت ...

  

اسلام آباد، لاہور (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)  وزیر اعظم عمران خان نے موٹر وے پرخاتون سے بد اخلاقی  کے  واقعے کا سخت نوٹس لے  لیا اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔  وزیر اعظم عمر ان خان نے کہا  کہ خواتین کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح  اور ذمہ داری ہے۔ کسی مہذب معاشرے میں ایسی درندگی اور حیوانیت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔  ایسے واقعات  ہماری  سماجی اقدار کے منافی اور سوسائٹی پر بدنما داغ ہیں۔   وزیر اعظم نے واقعے میں ملوث افراد کو جلد از جلد قانون کی گرفت میں لانے  اور قرار واقعی سزا دلوانے کا حکم جادیا۔وزیر اعظم  نیخواتین سے اخلاقی کے واقعات کے تدارک کے حوالے سے قوانین کو مزید موثر بنانے کے لئے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دوسری طرف سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی نے     خاتون کے ساتھ موٹروے پر پیش آنے وا لے واقعہ پر   آئی جی پنجاب  اور سیکرٹری مواصلات کو طلب کرلیا ہے۔ سینیٹ کمیٹی  نے  آئی جی پنجاب، اور وزارت مواصلات کو نوٹس جاری کردیا۔سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کا اہم اجلاس 14 ستمبر کو ہوگا۔ اجلاس مصطفی نواز کھوکھر کی زیر صدارت ہوگا۔۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ  خاتون کی جانب سے موٹروے پولیس کو کی گئی فون کال پر ایکشن کیوں نہیں لیا گیا۔دریں اثناوفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے لاہور میں موٹروے پر ہولناک واقعے سے متعلق فوری رپورٹ طلب کی ہے،  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے گجرپورہ میں خاتون سے اجتماعی زیادتی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور واقعے کے حوالے سے فوری طور پر رپورٹ طلب کرلی۔صوبائی وزیر قانون،پارلیمانی امور و سوشل ویلفیئر راجہ بشارت نے گذشتہ رات موٹروے پر خاتون کے ساتھ ڈکیتی اور زیادتی کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے اب تک کی پیش رفت پر رپورٹ طلب کر لی ہے-انہوں نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ میں غفلت کے مرتکب پولیس ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جبکہ وزیر اعلی عثمان بزدار نے ہدایت کی ہے کہ متاثرہ خاندان کوانصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے-وزیر قانون نے کہا کہ اس طرح کے واقعات ہمارے لیے انتہائی تکلیف دہ ہیں -ہمیں غمزدہ خاندان سے مکمل ہمدردی ہے اور یقین دلاتے ہیں کہ مجرموں کو گرفتار کرا کے قرار واقعی سزا دلائی جائے گی-راجہ بشارت نے کہا کہ آئی جی اور متعلقہ پولیس افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مجرمان کی گرفتاری کے لیے جیو ٹیگنگ سمیت تمام سائنسی آلات استعمال میں لائیں -

وزیر اعظم نوٹس

لاہور(جنرل رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا ہے کہ موٹر وے پر بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والی خاتون کی بے حرمتی نہایت قابل مذمت، شرمناک اور افسوسناک ہے۔ یہ قومی شرمندگی اور قانون کی عمل داری کے پورے نظام کے مفلوج ہونے کا ثبوت ہے۔ وفاق، پنجاب اور موٹر وے پولیس اسے ٹیسٹ کیس بنائیں اور ڈاکووں کو نہ صرف گرفتار کیاجائے بلکہ زینب کیس کی طرز پر تحقیق وتفتیش کا معیار ایسا رکھا جائے کہ پراسیکیوشن کے مرحلے پر مجرم  سزا سے نہ بچ پائیں۔ ایسے درندے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔سوال کا جواب دینا پڑے گا کہ موٹر وے جو محفوظ سفر کی علامت سمجھی جاتی تھی، وہ اتنی غیرمحفوظ کس کی نااہلی کی وجہ سے ہوئی؟ اب موٹر وے پر اپنے بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والوں کے دل میں خوف پیدا ہوگا، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ وقوعہ کی حدود پر جھگڑنے کے بجائے قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر مجرموں کو پکڑیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف دلائیں تاکہ نظام پر عوام کا کچھ تو اعتماد بحال ہو۔ پاکستان مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنما مونس الٰہی ایم این اے نے لاہور رنگ روڈ سے چند کلومیٹر دور موٹروے پر خاتون کی عصمت دری کے واقعہ پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ پنجاب اور موٹروے پولیس کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس عہدوں کی کشمکش کی بجائے فرائض کی بجا آوری کو مقدم رکھے۔پیپلزپارٹی نے موٹروے پر خاتون کے ساتھ بد اخلاقی کے واقعہ پروزیراعلی پنجاب اور وفاقی وزیر مراد سعید سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے واقعے کا معاملہ پارلیمان میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ لاہور کے علاقے گجرپورہ موٹروے پر  بچوں کے سامنے خاتون کے ساتھ بد اخلاقی انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ ہے،خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،پیپلزپارٹی متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے،خاتون کے زیادتی کے واقعے کی فوری تحقیقات کر واقعے میں ملوث درندوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائیوفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ موٹروے پر دوران سفر خاتون کی بیحرمتی کے افسوسناک واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ گھناؤنی حرکت کرنے والے سیاہ کردار قانون کی گرفت سے نہیں بچیں گے۔انہوں نے کہاکہ یہ درندے قانون کے مطابق سزا پائیں گے،متاثرہ خاتون کو انصاف دلانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

رد عمل

لاہور(کرائم رپورٹر)موٹروے کے قریب خاتون سے مبینہ زیادتی کرنے والے 12 مشکوک ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے جن میں باپ بیٹا بھی شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقع کا نوٹس لیا تھا۔ ایس پی  سی آئی اے اور ڈویڑنل ایس پی کی سربراہی میں دو علیحدہ علیحدہ سپیشل ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں جبکہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور مقدمہ کی تفتیش سے متعلق تمام تر معاملات کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے آئی جی پنجاب سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ سنگین جرم میں ملوث مجرمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور مظلوم خاتون کو انصاف فراہم کیا جائے۔  وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر سی سی پی او لاہور تفتیشی ٹیم کی سربراہی کر رہے ہیں جبکہ تفتیش میں اربن اور رول پولیسنگ کی تکنیک استعمال کی جا رہی ہیں۔ کھوجی، سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈی این اے کی مدد سے تفتیش ہو رہی ہے۔ایک روز قبل لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا۔۔ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب انعام غنی نے کہاہے کہ خواتین اور بچوں پر جنسی تشدد اور زیادتی کے واقعات کی روک تھام پنجاب پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے لہذا گجرپورہ موٹروے پر دوران ڈکیتی خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور متاثرہ خاتون اور اسکے اہل خانہ کوبلا تاخیرانصاف کی فراہمی کیلئے کوئی کسرباقی نہیں چھوڑی جائے گی۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں لاہور پولیس اور سی آئی اے کی 20ٹیمیں ملزمان کی گرفتاری کیلئے شب و روز مصروف عمل ہیں اور جائے وقوعہ سے ڈی این اے شواہد، جیوفینسنگ، موجودہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور نادرا ریکارڈ سمیت دیگر ممکنہ ذرائع سے تفتیش کے عمل کو آگے بڑھایا جارہا ہے اور بہت جلد درندہ صفت ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جائے گا۔سی سی پی او لاہور محمد  عمر شیخ نے کہا ہے کہ رنگ روڈ زیادتی کیس میں 14 مشتبہ افراد زیر حراست ہیں، 48 گھنٹے میں ملزمان تک پہنچ جائیں گے۔سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا کہنا تھا کہ خاتون رات ساڑھے 12 بجے گوجرانوالہ جانے کیلئے نکلی، خاتون کو گھر سے نکلتے وقت کم ازکم گاڑی میں پٹرول چیک کرنا چاہیے تھا، خاتون نے 15 پر کال کرنے کی بجائے اپنے بھائی کو فون کر کے اطلاع دی، خاتون کے بھائی نے 130 پر موٹروے پولیس کو فون کر کے کہا کہ اپنی موبائل بھجوائیں۔سی سی پی او لاہور کا کہنا جس جگہ یہ واقعہ ہوا وہاں 5 کلومیٹر کے علاقے میں 3 گاو ¿ں ہیں، ملزمان کے گاڑی کا شیشہ توڑنے سے خون نکلا جس کی وجہ سے ہمارے پاس خون کا نمونہ موجود ہے، تحقیقات میں رورل اور اربن پولیس کی جدید تکنیک کا استعمال کیا جا رہا ہے، اطلاع ملتے ہی تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا۔

ملزم گرفتار

مزید :

صفحہ اول -