غیر قانونی قابض، ریاستی دہشتگردی کے مرتکب ممالک کیخلاف عالمی کارروائی ضروری: شاہ محمود قریشی 

      غیر قانونی قابض، ریاستی دہشتگردی کے مرتکب ممالک کیخلاف عالمی کارروائی ...

  

 ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں پر زور دیا ہے کہ خطے خصوصاً دنیا میں کسی بھی جگہ فسطائی نظریات اور پرتشدد قوم پرستی کے دوبارہ سر اٹھانے کو روکنے کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ماسکو میں تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی قبضے کے تحت لوگوں کیخلاف ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کرنیوالوں کی مذمت اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایاجانا چاہیے۔ دیرینہ تنازعات کا حل تر قی اقتصادی بڑھوتری غربت کے خاتمے اور لوگوں کی سماجی بہتری کے مقاصد کے حصول کیلئے شرط اول ہے،اس ضمن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردوں پر من و عن عملد ر آ مد ہونا چاہیے۔شاہ محمود قریشی نے کہا دنیا کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متنازع علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے کے کسی بھی یکطر فہ اور غیر قانونی اقدامات کی شدید مذمت اور مخالفت کرنی چاہیے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کو علاقائی روابط کے منصوبوں کے فروغ پر توجہ دینی چاہئے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کی منزل پاکستان خطے اور اس سے باہر کے ملکوں کیلئے اقتصادی خوشحالی لانا ہے۔عالمی امن اور سلامتی اور عالمی ترقی بڑھانے میں اقوام متحدہ کا مرکزی کردار ہونا چاہئے، پاکستان کورونا وبا سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے اپنے تجربات سے دنیا کو مستفید کرنے کیلئے تیار ہے، عالمی وباکو سیاست کیلئے استعمال کرنا، کسی بھی خطے، مذہب یا طبقے کو اس سے نتھی کرنا یا جھوٹ پر مبنی الزام دھرنا غلط ہے۔مستحکم افغانستان خطے اور دنیا میں امن و استحکام کیلئے ناگزیر، افغان مہاجرین کی عزت ووقار کیساتھ اپنے گھروں کو واپسی بھی امن مذاکرات کا لازمی حصہ ہونا چاہئے۔ فسطائیت، عسکریت پسندی اور متشدد قوم پرستی کیخلاف فتح کی 75ویں سالگرہ مناتے ہوئے ہمیں اعادہ کرنا ہوگا کہ انتہاپسندی، دیگر اقوام اوراسلام سے نفرت وبیزاری کے رویوں کی آج کی دنیا میں کوئی گنجائش نہیں۔ ہم ایرانی جوہری معاملے پر مشترکہ جامع پلان آف ایکشن کے موثر عملدرآمد کے ایس سی او شراکت داروں کے موقف میں شریک ہیں۔ خلاکو اسلحہ کی دوڑ سے بچانے، بائیولاجیکل ہتھیاروں کے کنونشن(بی۔ڈبلیو۔سی)اور انٹرنیشنل انفارمیشن سکیو ر ٹی پر ایس سی او کا غوروخوض اس ضمن میں بحث کیلئے سود مند ہوگا اور ہمیں ان معاملات پر یکساں موقف اختیار کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ روک تھام اور تخفیف اسلحہ کے مسائل سے نمٹنے کیلئے نئے قانونی ضابطوں کی فوری ضرورت ہے۔ شاہ محمود قریشی نے تجویز دی کہ ہمیں مل کر ایس سی او کو علاقائی ترقی کے موثر فورم اور اپنی طرز کی نئی عالمی تنظیم کے طورپر اجاگر کرنا چاہئے جوشنگھائی جذبے کے مقاصد پرمبنی ہے۔دریں اثناء شاہ محمود قریشی نے سائیڈ لائنز پر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے غیر رسمی ملاقات کی، علاقائی روابط میں فروغ کیلئے ایس سی او کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ روس اور چین کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ امور پر بات ہوگی۔

شاہ محمو د

 ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان روس کیساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کیلئے کثیر جہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کا متمنی ہے،پاکستان شروع سے افغانستان میں بدامنی کے خاتمے اور دیرپا امن کے حصول کیلئے افغان قیادت میں، افغانوں کو قبول مفاہمتی عمل پر مبنی مذاکرات کا حامی رہا ہے، خطے میں دیرپا قیام امن کو یقینی بنانے کیلئے، بین الافغان مذاکرات کا جلد انعقاد ناگزیر ہے،بھارت نے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو بدلنے کی مذموم کوشش کی ہے۔ماسکو میں جاری شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر وزیر خارجہ نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات، کرونا وبائی صورتحال،اہم علاقائی و عالمی امور سمیت باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے افغانستان میں قیام امن کی کاوشوں کا جائزہ لیا اور پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے دو طرفہ تعلقات کے فروغ، باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کیلئے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ بعدازاں چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کیساتھ ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا،اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا پاکستان اور چین خطے میں قیام امن اور استحکام کے حوالے سے، بااعتماد اسٹریٹیجک شراکت دار ہیں اور اس شراکت داری میں روزافزوں اضافہ ہو رہا ہے۔واضح رہے گذشتہ تین ہفتوں کے دوران یہ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین ہونیوالی دوسری ملاقات تھی۔

شاہ محمود ملاقات

مزید :

صفحہ اول -