آئی جی پی، سی سی پی او تبادلہ کیخلاف اپیل قابل سماعت یا نہیں، فریقین سے دلائل طلب

آئی جی پی، سی سی پی او تبادلہ کیخلاف اپیل قابل سماعت یا نہیں، فریقین سے دلائل ...

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے آئی جی پولیس پنجاب اورسی سی پی اوکے تبادلوں کیخلاف دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کی بابت درخواست گزار اور حکومت دونوں سے دلائل طلب کرلئے،فاضل جج نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اوررکن صوبائی اسمبلی ملک محمد احمد خان کی طرف سے دائر درخوا ست کی بطور اعتراض کیس سماعت کی،چیف جسٹس نے درخواست گزار ملک محمد احمدخان سے استفسار کیا کہ آپ اس کیس میں کیسے متاثرہ فریق ہیں؟فاضل جج نے سابق آئی جی شعیب دستگیر کے حوالے سے کہا اگر کوئی پولیس افسر چیف جسٹس کے سامنے کہہ دے کہ قانون پر عملدرآمد نہیں ہو سکتاتو کیا ایسا پولیس افسر اپنی پولیس کی کمانڈ کر سکتا ہے؟عدالت میں کھڑے ہوکر ایسا بیان دینے والے کو کیا آپ تحفظ دینا چاہتے ہیں؟ملک محمد احمد خان نے کہا میں اسمبلی ممبر کے طور پر متاثرہ فریق ہوں، جس طرح تبادلہ کیا گیا، وہ انصاف کی صر یح خلاف ورزی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کیا آپ نے اسمبلی قرار داد کے ذریعے درخواست دائر کرنے کی اجازت لی؟درخواست گزار نے کہا اس تبادلے سے میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں، یہ مفاد عامہ کا کیس ہے، میں قانون کی حکمرانی کیلئے عدالت آیا ہوں، پولیس آرڈر 2002ء اس طرح کے تبادلوں کی اجازت نہیں دیتا، پولیس سیفٹی کمیشن اور پولیس آرڈر میں اس طرح کے تبادلوں کی گنجائش نہیں،آئی جی کے تقررکیلئے سیفٹی کمشن کی مشاورت ضروری ہے،میں پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن  سے تعلق رکھتاہوں جس پرچیف جسٹس نے کہا عدالت کی نظر میں سب برابر ہیں، کوئی چھوٹا بڑا نہیں، تمام پارلیمنٹرینز قابل احترام ہیں، با د ی النظر میں آئین کے آرٹیکل 212 کے تحت پوسٹنگ ٹرانسفرز کے معاملات براہ راست اعلیٰ عدالتوں میں نہیں لائے جا سکتے،جس پردر خو ا ست گزار نے کہا میں نے بدنیتی پر مبنی غیر قانونی اقدام کو چیلنج کیاہے،وفاقی و صوبائی حکومت کے وکلاء نے درخواست کے قابل سماعت ہو نے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں اوراس ایشو کو ہائیکورٹ میں نہیں اٹھایا جاسکتا،فاضل جج نے ایڈیشنل ا یڈ و وکیٹ جنرل سے کہا آپ قانونی اور عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کی روشنی میں بات کریں، پنچایت لگانی ہے تو باہر جا کر کریں، چیف جسٹس نے مزید کہا اس معاملے کو ایڈووکیٹ جنرل کو خود دیکھنا چاہیے تھا۔ عدا لت نے فریقین سے درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کی بابت دلائل طلب کرتے ہوئے مزید سماعت14ستمبر تک ملتوی کردی۔درخواست میں موقف اختیا ر کیا گیا ہے کہ موجودہ حکومت سے سیا سی مقاصد کیلئے آئی جی پنجاب اورسی سی پی اوکو تبدیل کیا، تبادلے پولیس آرڈر 2002 ء کی خلاف ورزی ہیں،قانون کے مطابق آئی جی پنجاب کو تین سال کیلئے تعینات کیا جاسکتا ہے جبکہ سی سی پی او کی تعیناتی کیلئے آئی جی پولیس کی سفارش ضروری ہے،موجود حکومت نے صرف 2 سال کے دوران 5 آئی جی تبدیل کردئیے ہیں، آ ئی جی پنجاب کا تبادلہ پولیس آرڈر 2002 ء کے سکیشن 12 اور 80 (2) کی خلاف ورزی، پنجاب بزنس رولز 2011 ء کے بھی منافی ہیں،درخواست پررجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیا تھا اور چیف جسٹس درخواست کی بطور اعتراض کیس سماعت کررہے ہیں۔

سی سی پی اوکیس

مزید :

صفحہ اول -