شہباز شریف بیٹی جویریہ کے ہمرا ہ احتساب عدالت پیش

  شہباز شریف بیٹی جویریہ کے ہمرا ہ احتساب عدالت پیش

  

 لاہور(نامہ نگار)منی لانڈرنگ اور آمدنی سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور ان کی صاحبزادی جویریہ علی احتساب عدالت میں پیش ہوگئیں،احتساب عدالت کے ایڈمن جج جوادالحسن نے شریک ملزم سلمان شہباز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پر دوبارہ عمل درآمد کرنے کا حکم دیتے ہوئے رابعہ عمران اور نصرت شہباز کی طلبی کے بھی دوبارہ نوٹس جاری کردیئے ہیں،عدالت نے میاں شہباز شریف، جویریہ علی، نثار احمد، قاسم قیوم، راشد کرامت، مسرور انور، محمد عثمان، شعیب قمر کو ریفرنس کی کاپیاں فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے میاں شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز اور بیٹی رابعہ کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 14ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے تمام متعلقہ افسران کو بھی طلب کر لیاہے،منی لانڈرنگ ریفرنس 55 جلدوں پر مشتمل ہے،دوران سماعت فاضل جج نے تعمیل کنندہ  کونامکمل رپورٹ پیش کرنے ہتھکڑی لگوا دیں،فاضل جج نے کہا کہ ملزمہ کا ایڈریس کیسے نامکمل ہے؟ تم نے کیا سمجھا کہ میں گوالمنڈی کا مجسٹریٹ یہاں پربیٹھا ہوں؟ ہتھکڑی لگاؤ اس کوجب تک چولیں ٹھیک نہیں ہونی تو یہ پاکستان ٹھیک نہیں ہونا،سی سی پی اوآگیا، آئی جی پنجاب آ گیا، یہ چولیں ٹھیک نہیں ہوں گی تو کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو گا، نیب کی طرف سے سپیشل پراسکیوٹر عاصم ممتاز،شہباز شریف کی طرف سے امجد پرویز اورجویریہ علی کی طرف سے محمد نواز چودھری یڈووکیٹس عدالت میں پیش ہوئے،کیس کی سماعت شروع ہوئی توشہباز شریف کی عدالت میں تاخیر سے پیش ہونے پر معذرت کی اور کہا کہ راستے میں رش بہت زیادہ تھا اس لئے تاخیر ہوئی، جس پر فاضل جج نے کہا کہ مجھے علم ہے میں بھی رش مین پھنس جاتا ہوں،شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ میری بیٹی جویریہ بھی میرے ہمراہ آئی ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ وہ کہا ں پر ہیں؟شہبا زشریف نے کہا وہ نیچے گاڑی میں موجود ہیں، فاضل جج نے کہا کہ آپ ان کوکو عدالت میں بلوا لیں، ان کی حاضری ضروری ہے، فاضل جج نے خاتون کی پیشی کے لئے راستہ کلیئرکرونے کی ہدایت بھی کی،عدالت نے حاضری لگانے کے بعدجویریہ علی کوجانے کی اجازت دے دی،میاں شہبا زشریف نے عدالت میں بیان دیا کہ االلہ کے فضل کرم سے کہتا ہوں کہ میں نے 10 سال خدمت کی،میں نے اپنی ذمہ داری ایمانداری سے خدمت کی،میں نے کئی سو ارب روپے حکومتی خزانے کے بچائے،میں نے تین ادوار مین سرکاری تنخواہ وصول نہیں کی،سندھ حکومت نے سبسڈی دی اور حکومتی خزانے سے اربوں روپے دئیے،میرے پاس شوگر ملز مالکان آئے اور بارہا مجھے قمیت کم کرنے کا کہا،سندھ حکومت نے شوگر ملز کو 12 ارب روپے سبسڈی دے کر اربوں روپے خزانے سے دئیے،میرے اس اقدام سے میرے بچوں کی ملز کو ایک ارب کا نقصان ہوا،میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے حکومتی خزانے کے اربوں روپے بچائے،میرے اقدامات سے میرے خاندان کو نقصان ہو امیرے بچوں، میرے مرحوم بھائی اور بڑے بھائی کے کاروبار میں اربوں روپے کا نقصان پہنچا،سندھ حکومت نے گنے کی قیمت 155 سے 165 کی،مین نے 180 روپے برقرار رکھی،سندھ ہائیکورٹ نے 172 روپے برقرار رکھی لیکن پنجاب نے ایسا نہیں کیا،میں نے کسانوں کے مفاد کو  ترجیح دی،یہ مجھ پر آمدنی سے زائد اثاثے بنانے کا الزام لگاتے ہیں، یہ مجھے کہتے ہیں کہ میرے بے نامی اکاؤنٹس ہیں، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یقین رکھیں آپ کا پورا موقف سنا جائے گا، ساری دنیا نے دیکھا کہ اپ کے دور میں ہیڈ لائنز بنتی رہی ہیں، جب وقت آئے گا آپ کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا،  آپ کومکمل وقت دیا جائے گا، اگر 10 دن بھی لگے تب بھی شہباز شریف کا مکمل بیان ریکارڈ کیا جائے گا،عدالت میں سلمان شہباز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری پر رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ ملزم کو گرفتار نہ کیا جا سکا کیونکہ ملزم بیرون ملک منتقل ہو چکا ہے، نیب نے ملزم سلمان شہباز کی گرفتاری کیلئے وزارت خارجہ سے بھی رابطہ کیا، منی لانڈرنگ اوررمضان شوگر مل کیس میں حمزہ شہباز کو احتساب عدالت پیش نہیں کیا گیا، عدالت میں جیل سپرنٹنڈنٹ نے رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیاہے کہ حمزہ شہباز کو گزشتہ دو روز سے بخار کی شکایت ہے، حمزہ شہباز کے مختلف میڈیکل چیک اپ اور کورونا کا ٹیسٹ بھی کروایا گیا ہے، اس لئے حمزہ شہباز کو علالت کے باعث پیش نہیں کیا جاسکتا،احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے  ہوئے میاں شہباز شریف نے کہا کہ حکومت مجھے اور میرے خاندان کوانتقام کا نشانہ بنا رہی ہے،یہ نیب نیازی گٹھ جوڑ ہے،مجھے اللہ پر پورا بھروسہ ہے ہمیں انصاف ملے گا۔نیب منی لانڈرنگ ریفرنس میں شہباز شریف،حمزہ شہباز اور سلمان شہباز مرکزی ملزم نامزد ہیں،منی لانڈرنگ ریفرنس میں شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز کو بھی  ملزم نامزد کیا گیا ہے،منی لانڈرنگ ریفرنس میں شہباز شریف کی دونوں بیٹیوں رابعہ عمران اور جویریہ علی کو ملزم  نامزد کیا گیا ہے،دیگر ملزمان میں نثار احمد،علی احمد خان،سید محمد طاہر نقوی،قاسم قیوم،راشد کرامت بھی نامزد ملزم ہیں،ریفرنس میں مسرور انور،محمد عثمان فضل داد عباسی،محمد شعیب قمر،ہارون یوسف زئی نامزد ملزموں میں شامل ہیں، ریفرنس میں یاسر مشتاق،محمد مشتاق،شاہد رفیق اور آفتاب احمد وعدہ معاف گواہوں میں شامل ہیں،نیب کے ریفرنس میں مزید کہاگیاہے کہ میاں شہباز شریف نے اپنے اہلخانہ کی مدد سے منی لانڈرنگ کا پورا نظام تیار کیا اور آمدن سے زائد اثاثے بنائے، شہباز شریف، حمزہ شہباز، سلمان شہباز نے اہلخانہ، فرنٹ مینوں، ملازمین اور بے نامی داروں کی ملی بھگت سے منی لانڈرنگ کی، فنانشل مانیٹرنگ کی جنوری 2018 ء کی رپورٹ میں شہباز شریف خاندان کے اکاؤنٹس میں مشکوک ترسیلات کا انکشاف ہوا، شہباز شریف اور دیگر ملزموں نے 7 ارب 32 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کر کے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا، 

شہباز پیش

مزید :

صفحہ اول -