کراچی کو پاکستان کا درالحکومت  بنایاجائے، سید تابش الواری کی تجویز

 کراچی کو پاکستان کا درالحکومت  بنایاجائے، سید تابش الواری کی تجویز

  

 بہاول پور(بیورورپورٹ) کراچی کو پاکستان کا دوسرا دار ا لخلافہ بنا دیا (بقیہ نمبر39صفحہ6پر)

جائے کراچی کے گھمبیر مسائل بھی بہتر طور پر حل ہو ں گیاور طبقاتی،سیاسی اور انتظامی محاذ آرائی بھی ختم ہو جائیگی  معرو ف پارلیمنٹیرئین اور ممتاز دانشور سیدتابش الوری تمغہ امتیاز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کراچی ساری قومیتوں پر مشتمل ملک کا سب سے بڑا شہر ہی نہیں ملکی معیشت کا مرکزی دروازہ اور قومی صنعت و تجارت کا محور و مرکز ہے متضاد مفادات اوروسائل و ترجیحات کی کشاشش نے ا سکا سارا سانچہ اور ڈھانچہ برباد کر کے ر کھد یا ہے جرائم لوٹ مار بھتوں ڈا کوں  اور دہشت گردی نے صنعت و تجارت تباہ کردی ہیں اور انسانی زندگی کو غیر محفوظ بنادیا ہے نتیجہ یہ ہے کہ کراچی سے اربوں کا سر مایہ ملک سے باہر منتقل ہو چکا ہے اور بہت سی صنعتیں دوسرے شہروں اور ملکوں میں منتقل ہو چکی ہیں سید تابش الوری نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے جو آہستہ آہستہ مفلوج ہو رہی ہے اسے ہر حال میں  متحرک موثر او ر محفوظ رکھنا ہو گا وقت آگیا ہے کہ لاوارث اور تباہ حال کراچی کو اپنی تحویل میں لیکر اسے ملک کا دوسرا دارالخلافہ بنادیاس طرح نہ صر ف کراچی کے مالی بوجھ اور نا اہلی کے الزام سے آزاد ہوجائیگی بلکہ کراچی کے قریب نئے صنعتی زون اور نئے شہر بسا کر کراچی کی قربت و وسعت کے سارے فائدے اپنی جھولی میں ڈال سکے گی  سید تابش الوری نے کہا کہ دو دارلخلافے کوئی حیرت کی بات نہیں دنیا میں اسوقت ایک درجن سے زائد ایسے ممالک ہیں جہاں دو بلکہ دو سے بھی زائد دارالخلافے موجود ہیں کراچی میں پہلے ہی بہت سے سرکاری اور غیر سر کاری بڑے بڑے اداروں کے ہیڈ کوارٹرز مو جود ہیں کچھ اور بڑے ادارے وہاں منتقل ہو جائیں گے تو کار کردگی زیادہ موثر ہو جائیگی۔

تجویز

مزید :

ملتان صفحہ آخر -