خواجہ سراؤں پر تشدد، قانون شکنی، معاشرتی امن کیلئے چیلنج، آر پی او ڈیرہ

      خواجہ سراؤں پر تشدد، قانون شکنی، معاشرتی امن کیلئے چیلنج، آر پی او ڈیرہ

  

 ڈیرہ غازی خان (ڈسٹرکٹ بیورورپورٹ، سٹی رپورٹر)ریجنل پولیس آفیسر محمد فیصل رانا نے ریجن کے چاروں اضلاع میں خواجہ سراؤں پر جسمانی سمیت ہر قسم کے تشدد کے مقدمات کی رپورٹ طلب کر لی۔ خواجہ سراؤں کو معاشرے میں وہی حقوق حاصل ہیں جو ہر قانون پسند شہری کو حاصل ہیں۔قانون میں خواجہ سراؤں کے حقوق واضح ہیں جن کی حفاظت(بقیہ نمبر42صفحہ6پر)

 پولیس کی اولین زمہ داری ہے۔۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پولیس افسران کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں ڈیرہ غازی خان۔مظفر گرھ۔لیہ اور راجن پور کے پولیس افسران نے شرکت کی۔۔آر پی او فیصل رانا نے کہا کہ اکثر قانون شکن عناصر خواجہ سراؤں کو معاشرے کا محکوم طبقہ سمجھتے ہیں ایسا سمجھنا بھی قانون شکنی ہے اور خواجہ سراؤں کو محکوم سمجھ کر ان کو تضحیک کا نشانہ بنانا اور ان  پر جسمانی تشدد سمیت انہیں کسی بھی قسم کے تشدد کا۔نشانہ بنانا بدترین قانون شکنی اور معاشرتی امن کو چیلنج ہے۔۔آر پی او نے ہدائت کی کہ جن اضلاع میں خواجہ سراؤں کی مدعیت میں مقدمات درج ہیں اور ان میں ملزمان کی گرفتاری نہیں ہوئی پولیس ایک ہفتہ میں ملزمان کو گرفتار کرے۔میرٹ پر تفتیش کر کے ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے۔۔آر پی او نے کہا کہ خواجہ سراؤں کو احساس تحفظ فراہم۔کرنا بھی پولیس کی زمہ داری ہے اگر کوئی خواجہ سرا آپنے اوپر تشدد سمیت خود کو تضحیک کا۔نشانہ بنائے جانے کی شکائت لے کر آئے تو پولیس تصدیق کے بعد نہ صرف فوری طور پر مقدمات درج کرے بلکہ ملزمان۔ کی فوری گرفتاری کو بھی یقینی بنایا جائے۔۔فیصل رانا نے کہا کہ تھانوں اور پولیس دفاتر میں خواجہ سراؤں کی عزت نفس کا چیال۔رکھا جانا لازمی اور ناگزیر ہے۔اس سلسلہ میں اگر بدسلوکی یا مس کنڈکٹ کی کوئی شکائت موصول ہوتی ہے اور انکوائری کے بعد شکائت سچ ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ  پولیس آفیسر کے خلاف محکمانہ قواعد و ضوابط کے تحت سخت کارروائی ہو گی۔۔آر پی او نے کہا کہ خواجہ سراؤں کو تضحیک اور تشدد کا نشانہ بنانے والے خود کو قانون سے بالادست اور طاقتور سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت میں قانون سب سے زیادہ طاقتور اور بالادست ہے قانون سے زیادہ طاقتور اور بالادست کوئی نہیں۔علاوہ ازیں علاوہ ازیں ریجنل پولیس آفیسر محمد فیصل رانا نے کہا ہے کہ بچوں کے ساتھ بدفعلی کر کے پورنو گرافی کے لئے ان کی فحش ویڈیوز بنانے والوں کو فوری گرفتار کیا جائے پورنو گرافی ایسا مکروہ دھندہ ہے جسے انٹر نیشنل ڈارک ویب اپنے ساتھ منسلک کر لیتا ہے اس کی روک تھام۔کے لئے بچوں۔ان کے والدین اور اساتذہ کرام۔کے ساتھ مل کر آگاہی مہم۔چلائی جائے۔ریجن کے چاروں اضلاع میں بچوں کے ساتھ بدفعلی اور اس مکروہ دھندے کی ویڈیو بنانے کے مقدمات کی تفصیلی رپورٹ میرے دفتر کو بھجوائی جائے اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی قطعی ناقابل۔برداشت ہو گی۔۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے بلائے گئے پولیس افسران کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تشدد

مزید :

ملتان صفحہ آخر -