یقین ہے سانحہ موٹروے کا حشر سانحہ ساہیوال یا ماڈل ٹاؤن جیسا نہیں ہو گا

یقین ہے سانحہ موٹروے کا حشر سانحہ ساہیوال یا ماڈل ٹاؤن جیسا نہیں ہو گا

  

تجزیہ،ایثار رانا

مجھے یقین ہے کہ سانحہ موٹر وے کا حشر سانحہ ساہیوال یاسانحہ ماڈل ٹاؤن جیسا نہیں ہو گامجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا۔مجھے یہ بھی یقین ہے کہ اگلے 48گھنٹوں میں مجرم گرفتار ہوں گے میں سمجھتا ہوں کہ ان مجرموں پر مقدمہ کھلی عدالت میں چلا کر سر عام سزا دی جائے۔ماضی کی روایات کی طرح گرفتار کر کے پولیس مقابلے میں نا اُڑا دیاجائے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آئی جی موٹر وے کلیم امام جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اگر خود استعفیٰ نا دیتے تو کم از کم موٹر وے کی اس حدود کے ذمہ داروں کو فارغ ضرور کرتے۔اسی طرح متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او،ڈی ایس پی اور ایس پی کو معطل کر دیا جاتا۔قوم اس وقت بیا نات سے بہلنے والی نہیں اسے انصاف بلکہ فوری انصاف چاہیے۔نئے آئی جی،سی سی پی او کی ساکھ کا امتحان ہے اسی طرح وزیر اعلیٰ بزدار کی ساکھ اس واقع سے مستحکم یا غیر مستحکم ہو گی۔یہاں میں ایک اہم بات کرنا چاہتا ہوں کہ میڈیا خدارا ریٹنگ اور نمبرون بننے کے چکر میں مظلوم خاندان کے زخموں پر نمک نا چھڑکے ایسا نا ہو کہ کوئی مائیک پکڑ کر اجمل قصاب کی طرح اس دکھی خاندان کا سوراغ لگانے نکل پڑے۔ان کے گھر کا کھوج لگا کر دروازے پر کھڑے ہو کر ”لائیو بیپر“نا دینے لگے۔متاثرہ بچوں کی تصاویر نا چلا دے،مظلوم خاندان کے چہرے نا آشکار کر دے۔اگر اس میڈیا نے ایسا کیا تو وہ ان مجرموں سے بھی زیادہ بد تر کردار کا مالک ہو گا۔  

تجزیہ ایثار رانا

مزید :

تجزیہ -