پنجاب پولیس کے افسران کا سی سی پی او لاہور کیخلاف کارروائی، عہدہ سے ہٹانے کا مطالبہ 

پنجاب پولیس کے افسران کا سی سی پی او لاہور کیخلاف کارروائی، عہدہ سے ہٹانے کا ...

  

 لاہور، کراچی (نیوز ایجنسیاں) پنجاب پولیس کے 50سے زائد افسران نے سبکدوش ہونیوالے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کیخلاف توہین آمیز ریمارکس دینے پر کیپٹل سٹی پولیس آفیسر عمر شیخ کیخلاف تادیبی کارروائی اور فوری تبادلے کا مطالبہ کردیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق 50افسران نے مشترکہ طور پر دستخط شدہ ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں عمر شیخ کو شعیب دستگیر کیخلا ف نامناسب الفاظ استعمال کرنے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ سی سی پی او عمر شیخ کیخلاف کارروائی کے خواہاں افراد میں سپرنٹنڈنٹ پولیس کے علاو ہ لا ہو ر میں تعینات سینئر پولیس افسران شامل ہیں۔تمام افسران سنٹرل پولیس آفس میں جمع ہوئے تھے اورسبکدوش ہونیوالے آئی جی پولیس کیخلاف سی سی پی او کے ریما ر کس پر احتجا ج کیا۔ غیر معمولی اجتماع میں ایس ایس پیز اور ایس پیز کے علاوہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کے عہدے کے اعلی پولیس افسران اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل بھی شامل تھے۔ذرائع نے بتایا یہ اعلامیہ وہاں موجود تمام پولیس افسران کی رضامندی سے تیار کیا گیا تھا اور سی سی پی او کیخلاف کارروائی کیلئے نئے آئی جی پی کے ریکارڈ پر اپنا احتجاج لانے کیلئے اس پر دستخط کیے گئے۔اعلامیے کے مطابق عمر شیخ نے دوسرے سینئر افسران کے دفاتر کے بارے میں بھی قابل اعتراض اور توہین آمیز انداز میں بات کی کیونکہ ان کی رائے میں شعیب دستگیر نے ان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالی تھی۔50 سے زائد پولیس افسران کے مشترکہ بیان میں کہا گیاکہ عمر شیخ پر آئی جی پی کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے اپنے ارادے کو ظاہر کیا، بے ضابطگی کا ارتکاب کیا، افسران کو آئی جی پی کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے کیلئے اکسانے سے اجاگر کیا۔ اگر سی سی پی او کیخلاف تادیبی کارروائی نہ کی گئی تومحکمہ پولیس کے نظم و ضبط کو مشکلات کا سامنا ہوگا، پولیس کے کمانڈ کا ڈھانچہ خراب ہوجائیگا اور جونیئر افسران سینئر افسران کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کریں گے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ لاہور کے سی سی پی او عمر شیخ کو فوری طور پر ان کے موجودہ عہدے سے ہٹایاجائے اور قواعد کے تحت ان کیخلاف تادیبی کارروائی شروع کی جائے۔دوسری طرف ایسوسی ایشن آف فارمرانسپکٹرز جنرل آف پولیس (اے ایف آئی جی پی)کی ایگزیکٹو کمیٹی ے پنجاب میں آئی جی پیز کے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر بار بار تباد لوں پر تحفظات اور گڈ گورننس کی ناقابل تردیدوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے گزشتہ روز ہوننیوالے اجلاس میں واضح کیا گیا کہ پچھلے دو سال کے دوران پنجاب میں 4آئی جی پولیس کے تبادلے کیے گئے، جس میں ایک آئی جی کی اوسط مدت ملازمت محض ساڑھے چار ماہ بنتی ہے، ایسی بے قاعدگیوں سے نظم و ضبط کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے،ڈپا رٹمنٹ کی کارکردگی پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں، ادارہ کو اندر سے غیر یقینی اور کمزور کرنے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔اجلاس میں ایسوسی ایشن کے صدر افتخار رشید، نائب صدر شاہد ندیم بلوچ، افضل علی شگری، سید محب اسد، مسعود شاہ، ڈاکٹر شعیب سڈل اورسعود گوہر نے شرکت کی۔ 

پنجاب پولیس مطالبہ

مزید :

صفحہ اول -