فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش ناکام بنانا ہوگی

 فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش ناکام بنانا ہوگی
 فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش ناکام بنانا ہوگی

  

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بالکل درست کہا کہ ملک میں فرقہ واریت کی بنیاد پر تقسیم اور اختلافات دہشت گردی کے خلاف جنگ کیلئے مہلک ہو سکتے ہیں۔  اگر کسی قوم میں فرقہ پرستی، ذات پات، نسل یا مذہب کی بنیاد پر تفریق موجود ہوگی تو دشمن ضرور ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھائے گا۔یہ بات درست ہے کہ پاکستان کے سارے دشمن خواہ وہ بھارت میں ہوں یا کہیں بھی بستے ہوں ہماری اس کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ 

فرقہ واریت میں زیادہ قصور ہمارے لوگوں کا بھی ہے کہ خوامخواہ دوسرے فرقے کو برا بھلا کہنا اور ان سے لڑنا جھگڑنا۔ جبکہ معلوم بھی ہے کہ یہ بھارتی سازش ہے اور اس کا مقصد ہی وطن عزیز میں بدامنی پیدا کرنا ہے۔ وطن عزیز میں امن وامان کو مد نظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ پہلے ملک کو اندرونی سازشوں سے پاک کیا جائے اور بیرونی سازشوں کے لئے ملک میں موجود آلہ کاروں کے خلاف سخت سے سخت آپریشن کیا جائے۔ملک میں چھپے ہوئے دشمنوں کے آلہ کار، سہولت کاروں سے سختی سے نمٹا جائے۔ اس میں کسی مصلحت سے کام نہ لیا جائے۔ چاہے وہ کوئی عالم ہے یا کوئی سیاسی شخصیت، سب کے ساتھ ایک جیسا ہی سلوک کرنا چاہیے  اس کے ساتھ ساتھ تمام فرقوں کے مذہبی تنظیموں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

اس سے بھی انکار نہیں کہ بعضعلمائے کرام نے جذبات کو ہوا دی۔ یوں ملک میں امن و امان کا مسئلہ بنا۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ کا المیہ رہا ہے کہ ہر دور میں مختلف سازشیں پروان چڑھتی رہیں ہیں۔اسلام دشمن قوتوں اور مفاد پرستوں نے ہمیشہ امت کی وحدت و اتحاد میں تفرقہ ڈالنے کے لئے مختلف حربوں سے کام لیا۔ان حربوں میں سب سے زیادہ مسلکی یا فرقی منافرت کا حربہ زیادہ کامیاب رہا۔ شعیہ سنی، بریلوی، دیوبندی اختلافات مسلمانوں کو اتحاد اور اخوت سے دور لے جاتے ہیں۔ 

ہمارے دشمنوں نے فرقہ وارانہ منافرت پھیلا کر دہشت گردی کو فروغ دیا۔ کسی ایک فرقے کو اتنا بھڑکایا کہ وہ دوسرے فرقے پر چڑھ دوڑا۔ بات جب بڑھ جاتی ہے تو مساجد اورمدارس محفوظ نہیں رہتے۔ ان میں بے گناہ اور معصوم طلباء و نمازیوں کو بھی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ کاروباری لوگوں کی دکانوں کو بھی نذر آتش کر دیا گیا، مسجد کو بھی آگ لگا دی گئی۔ایسے  حالات و واقعات کو دیکھ اور سن کر یوں محسوس ہوتا کہ  شاید ہم پر دوبارہ جاہلیت کا دور مسلط کر دیا گیا ہے۔ 

اس وقت منبر و محراب سے اچھی باتیں اچھے القاب نکالنے کی سخت ضرورت ہے۔ اب تک پاکستان ساری دنیا میں مذہب کے نام پر بہت بدنام ہو چکا ہے۔ اس میں خود غرض، مفاد پرست اور پاکستان کے دشمنوں کے آلہ  کار بننے والے لوگوں کا بہت حصہ ہے۔ ہمیں اشتعال انگیز منافرت پھیلانے والوں کو اپنی صفوں سے نکالنا ہو گا۔ تمام علمائے کرام کی ذمہ داریاں ہیں کہ وہ دشمن کا آلہ کار بننے والے جوشیلے ورکروں کو اشتعال میں آنے سے باز رکھیں۔

پاکستان بہت عظیم اور سخت جان ملک ہے کہ اس کو کھانے و الے بہت زیادہ، جبکہ اس کا خیال ر کھنے والے بہت کم، اس کو اجاڑنے والے بے شمار، لیکن سنبھالنے والے گنتی کے لوگ، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کی دھرتی پر موجود اولیائے کرام،بزرگان دین، نیک بندوں اور بہادر سپوتوں کی وجہ سے ابھی تک قائم و دائم ہے۔ پاکستان کو قائم رکھنے میں لاکھوں شہیدوں کی قربانی کا بڑا حصہ ہے۔ اگر سیاست دانوں کی وجہ سے ملک کو نقصان ہوا تو تاریخ سیاست دانوں کو معاف نہیں کرے گی۔

ہماری سکیورٹی فورسز کی کارکردگی نے ملک دشمن عناصر اور بھارت کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشتگردی کا مزید کھیل نہیں کھیل سکتے۔ پاکستانی عوام یہاں دہشتگردی قتل و غارت گری کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وطن کی سلامتی و بقاء  کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔آئیے عہد کریں گہ وطن دشمنوں کیلئے ارض پاک کو تنگ کر دینگے۔ہم پاکستان کے استحکام اور سلامتی کے لئے ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار ہیں۔ علما اور مشائخ نے اتحاد امت کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے۔ وحدت امت ہمارا نصب العین ہے۔ ملک دشمن عناصرکے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے۔تحریک پاکستان کی طرح استحکام ودفاع وطن کیلئے علما کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے

اگر انسان اپنی زندگی کے سلسلے میں قرآن کی شکل میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کو نظر انداز کرے اور پھر اس کو یہ توقع بھی ہو کہ اس کی دنیاوی یا اخروی زندگی ہر لحاظ سے کامیاب ہوگی تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -