”اپنے بیان پر مافی مانگ لیں “ صحافی نے سی سی پی او لاہور کو مشورہ دیا تو لائن کاٹ گئے 

”اپنے بیان پر مافی مانگ لیں “ صحافی نے سی سی پی او لاہور کو مشورہ دیا تو لائن ...
”اپنے بیان پر مافی مانگ لیں “ صحافی نے سی سی پی او لاہور کو مشورہ دیا تو لائن کاٹ گئے 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )دو روز قبل موٹروے پر خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے ڈاکوﺅں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تاہم پولیس ابھی تک مجرموں کو قابو کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے ،اوپر سے لاہور کے سی سی پی او عمر شیخ نے اپنے افسوسناک بیان میں ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون کو ہی ذمہ دار ٹھہرا دیاہے اور اپنے متنازعہ بیان پر معافی مانگنے کی بجائے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے ہیں ، الٹا جب صحافی نے ان سے اپنے بیان پر معذرت کیلئے مشورہ دیا تو فون ہی کاٹ کر چلے گئے ۔

نجی ٹی وی چینل ” ہم نیوز “ کے پروگرام میں صحافی نے سی سی پی او سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے دنیا نیوز سے بات کرتے ہوئے تما ذمہ داری ہی متاثرہ خاتون پر ڈال دی جو کہ ایک ذمہ دار پولیس افسر کو زیب نہیں دیتا ۔ 

سی سی پی او نے صحافی کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ اللہ اس کا بھلا کرے گا ، میں نے یہی کہاہے کہ ہمیں اپنی بیٹیوں کو رات بارہ بجے اکیلے سفر نہیں کرنے دینا چاہیے ، یہ جنرل انفارمیشن ہے ، یعنی بات کرتے ہوئے یہ بتایا جائے کہ اس بچی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں نے اسے ذمہ دار قرار دیاہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ معاشرے میں ان چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے ، کیا آپ خیال نہیں رکھتے ؟ ہم سب رکھتے ہیں۔

عمر شیخ نے کہا کہ ہماری ہر چیز میں کوئی غلط پوائنٹس نکالے جاتے ہیں آپ بھی کوئی غلط ہی نکالیں گے ،میں یہ کہہ رہاہوں کہ اپنے بچوں کے ساتھ رات کو نکلنے کی تھیں تو وہ جی ٹی روڈ سے چلی جاتیں ،یہاں پر صحافی نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ایک ذمہ دار پولیس افسر کو یہ بیان زیب نہیں دیتا ، ایسے کرتے ہیں خواتین پر گھروں سے نکلنے پر پابندی لگا دیتے ہیں تاکہ جرائم مکمل ختم ہوں ،کیا بات ہوئی یہ کہ آپ نے اپنے ہی آئی جی کے بارے میں پہلے غیر ذمہ دارانہ بیان دیا جس پر آپ کو آن ایئر آ کر معافی مانگنا پڑی ، اب اس لوجک سے خالی بیان پر بھی آپ کو معافی مانگنے پر کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے ، آپ معافی مانگ لیں ۔

صحافی کی جانب سے جیسے ہی سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو اپنے بیان کو واپس لینے اور معافی مانگنے کا مشورہ دیا گیا تو انہوں نے کال کاٹ دی اور پھر شو چھوڑ کر چلے گئے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ وفاقی وزیر اسد عمر کی جانب سے سی سی پی او کے بیان کو غیر ذمہ دار قرار دیا گیاہے لیکن غیر قانونی نہیں جبکہ وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے اس معاملے پر خاموشی سادھ رکھی ہے اور منظر عام سے ہی غائب ہیں ۔

یاد رہے کہ لاہور کے نئے تعینات ہونے والے سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے نجی ٹی وی دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کے دوران واقعہ کا ذمہ دار خاتون کو ہی قرار دیدیا۔انہوں نے کہاکہ کہانی یہ ہے کہ یہ خاتون رات ساڑھے بارہ بجے گجرانوالہ جانے کیلئے ڈیفنس سے نکلی ہیں ، میں تو یہ حیران ہوں ، تین بچوں کی ماں ہے اور اکیلی ڈرائیور ہے ، آپ سیدھا جی ٹی روڈ کا راستہ استعمال کریں جہاں پر آبادی ہے اور گھر چلی جائیں ،اگر اس طرف سے آئیں ہیں تو کم از کم پٹرول چیک کر لیں ، اس راستے پر پٹرول پمپ نہیں ہوتے ، خیر یہ مسئلہ تھا ان کا۔جیسے ہی انہوں نے سیالکوٹ کا ٹول پلازہ کراس کیا ہے تو ذرا آگے جا کر رات ایک بجے پٹرول ختم ہو گیاہے۔

مزید :

قومی -