’یہ تمہارے آئی جی نے مجھے نہیں لگایا‘آئی جی آفس سے نکلتے ہوئے سی سی پی او لاہور کے کانسٹیبل کو گندے اشارے، سینئر صحافی نے حکومت اور سی سی پی او کا سارا منصوبہ بے نقاب کردیا

’یہ تمہارے آئی جی نے مجھے نہیں لگایا‘آئی جی آفس سے نکلتے ہوئے سی سی پی او ...
’یہ تمہارے آئی جی نے مجھے نہیں لگایا‘آئی جی آفس سے نکلتے ہوئے سی سی پی او لاہور کے کانسٹیبل کو گندے اشارے، سینئر صحافی نے حکومت اور سی سی پی او کا سارا منصوبہ بے نقاب کردیا
کیپشن:    سورس:   Twitter/@arifhameed15

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی عارف حمید  بھٹی  نے دعویٰ کیا ہے کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ آئی جی آفس سے نکلے تو انہوں نے وہاں باہر موجود ایک کانسٹیبل "اردلی" کو ہاتھوں سے گندے اشارے کیے اور گالیاں دے کر  کہا کہ ”اوئے تواڈے آئی جی نے نہیں لایا مینوں ، مینوں اُتے پی ایم نے لایا ، تے میں جو مرضی کراں" (آپ کے آئی جی  نے مجھے تعینات نہیں کیا، مجھے وزیراعظم نے تعینات کیا، میں جو کچھ کروں، میری مرضی)اس سے بھی غلیظ لفظ استعمال کیے گئے۔ وہ نجی ٹی وی چینل جی این این کے پروگرام میں گفتگو کررہے تھے ۔ 

عارف حمید بھٹی نے مزید بتایا کہ گزشتہ رات ان کا ایک جرم ان کے پاس آیا تھا ، میں نے تینوں افسران سے کہا کہ اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیں جس میں سی سی پی او کو ہاتھوں سے اشارے کرتا دیکھا جاسکے ، اس پر میزبان عمران خان نے استفسار کیا کہ  سی سی پی او آئی جی آفس سے نکلے تو کانسٹیبل کے سامنے ہاتھوں سے گندے اشارے کیے ؟ فوٹیج گواہ ہے ؟ جس پر بات جاری رکھتے ہوئے عارف حمید بھٹی کا کہناتھا کہ  مجھے وزیراعظم نے لگایا ہے ،  میرا جو کرنا ہے کرلے ۔ عمران خان کاکہناتھاکہ پھر تو آئی جی نے ردعمل دینا تھا جس پر عارف حمید نے کہا کہ آئی جی کو ری ایکٹ کروایا گیا، کیونکہ انہوں نے انعام غنی کو لگوانا تھا، سکرپٹ یہ تھا کہ عمر شیخ صاحب کو سی سی پی او لاہور لگوایا جائے گا، حالات ایسے بدتمیز کیے جائیں گے کہ آئی جی چھوڑ کر چلا جائے گا اور انعام غنی فوری طور پر آجائیں گے۔

عار ف حمید بھٹی کا مزید کہنا تھاکہ انعام غنی اعظم خان صاحب کے گاﺅں کے ہیں، ان کے بارے میں  400 صفحے کی ایک رپورٹ ہے ، وہ دو دفعہ سپر سیڈ  بھی ہوئے، پروموٹ نہیں ہوسکے، عمران خان صاحب کی خواہش تھی یہ آئی جی لگے لیکن ان کا ریکارڈ بہت گندہ تھا۔ کیپٹن شعیب کو اس حکومت نے اتنا ٹارچر کیا کہ وہ استعفیٰ دے دیں، وہ ایک اچھی شہرت کے حامل ہیں لیکن آج کل بدقسمتی ہے کہ اچھی شہرت کے حامل ہونا بھی ایک گالی ہے ،۔عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ  مزید میں کچھ  کہنا نہیں چاہتا لیکن عمرشیخ کی ایک تصویر بھی ہے جو بلر (دھندلی ) کرکے دکھائی جاسکتی ہے ۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں سے سنا اور کتابوں میں پڑھا تھا کہ پولیس عوام کی محافظ ہے لیکن لگتاایسا نہیں،  پولیس ڈاکو، چوروں اور ریپ کرنے والوں کو ڈیفینڈ کرنے کے لیے ہے۔سی سی پی او صاحب  کی ایک پوری ہسٹری ہے، یہ گفتگو انہوں نے پہلی نہیں کی، یہ ایک سکرپٹ کے ساتھ سارا کچھ ہوا ہے۔ سی سی پی او کو لگایا گیا اور  ان کو کہا گیا کہ مسلم لیگ ن کو توڑیں، بلدیاتی الیکشن جتوائیں، یہ سوال ہوئے اور اگر وہ حلفاً اس کی تردید کریں تو میں  معذرت کروں گا، منصوبہ بنایا گیا کہ اگر یہ سی سی پی او لگا رہا اور اوپر آئی جی دستگیر رہا تو یہ لوٹ مار ہونہیں سکے گی جو ہم کرانا چاہ رہے ہیں۔ شعیب دستگیر کو تبدیل کروانے کے لیے سی سی پی او سمیت پانچ لوگوں کی میٹنگ ہوئی جس کے بعد لاہور پولیس کا اجلاس بلایا گیا ، اس میں نازیبا الفاظ کا وہ استعمال کیا گیا جو ایک فیصد بھی میں نہیں کر سکتا، اجلاس میں لاہور کے ڈی آئی جی صاحبان اور ایس پی صاحبان  وہ سن رہے ہیں۔جس دن یہ آئی جی آفس گئے ، یہ سکرپٹ انہیں ایک ایڈوائزر صاحب   نے دیا۔ یہ اچانک نہیں ہوا، پہلے دن سمجھتے رہے کہ یہ اتفاقاً جوش خطابت میں گفتگو ہورہی ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -قومی -