” مجھے بالکل بھی حیرانی نہیں ہو گی اگر پتا چلے کہ مخبری ہوئی ہے کیونکہ ۔۔“ موٹر وے پر زیادتی کا نشانہ بننے والی متاثرہ خاتون نے اپنی فیملی کو کیا تفصیلات بتائیں ؟ خاتو ن صحافی نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا 

” مجھے بالکل بھی حیرانی نہیں ہو گی اگر پتا چلے کہ مخبری ہوئی ہے کیونکہ ۔۔“ ...
” مجھے بالکل بھی حیرانی نہیں ہو گی اگر پتا چلے کہ مخبری ہوئی ہے کیونکہ ۔۔“ موٹر وے پر زیادتی کا نشانہ بننے والی متاثرہ خاتون نے اپنی فیملی کو کیا تفصیلات بتائیں ؟ خاتو ن صحافی نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )تین روز قبل موٹروے پر خاتون کے ساتھ بچوں کے سامنے درندہ صفت دو افراد نے جنسی زیادتی کی جس کے بعد وہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جنہیں پولیس اب تک تلاش نہیں کر پائی ہے تاہم یقین دہانی کروائی جارہی ہے کہ وہ بہت ہی قریب پہنچ چکے ہیں اور جلد ہی انہیں گرفتار کر لیا جائے گا ۔

نجی ٹی وی  ” اب تک “ کی صحافی اور اینکر پرسن ” فریحہ “ نے  متاثرہ خاتون کے اہل خانہ سے واقعہ پر بات چیت کی  جس کا  کچھ احوال  انہوں نے ٹویٹر پر جاری پیغام میں شیئر کیا تھا تاہم اب خاتون صحافی نے اس معاملے پر متاثرہ خاتون کی جانب سے اہلہ خانہ کو بتائی گئی مزید تفصیلات بھی شیئر کر دی ہیں ۔

 سینئر صحافی فریحہ نے بتایا کہ ”متاثرہ خاتون کی جانب سے پہلے ایمرجنسی نمبر 130 پر کال کی گئی اور ان سے بات کرتے ہوئے اپنی لوکیشن بتائی ، انہوں نے خاتون کو مقامی نمبر لکھوا دیا اور کہا کہ یہاں پر کال کر کے مدد طلب کریں ، خاتون نے اس نمبر پر کال کی اور اپنی لوکیشن بتائی ، پھر مدد کا انتظار کرنے لگ گئی ۔“ 

”ظاہری سی بات ہے کہ ان کیلئے ہر چیز کو یاد کرنا مشکل ہے کیونکہ وہ صدمے سے دوچار ہیں ، انہوں بتایا کہ یہ ایک لمبا انتظار تھا ، خاتون کا خیال ہے کہ اس نے ایک گھنٹہ سے زائد انتظار کیا ، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ خاتون کی گاڑی کے شیشے خصوصی قسم کے ہیں جس کے باعث باہر کھڑے شخص کیلئے یہ جانچنا ناممکن ہے کہ وہ گاڑی میں اکیلی بیٹھی ہے ۔“

”جب اچانک یہ افراد سامنے آئے تو وہ سیدھے ہی گاڑی کی طرف بڑھے ، ان کے ہاتھ میں بندوق بھی تھی ، ان میں سے ایک نے خاتون کے دو سالہ بیٹے کو اٹھا لیا جب وہ اسے گھسیٹتے ہوئے لے جارہے تھے ، خاتون نے ایک مرتبہ وہاں سے بھاگنے کی کوشش بھی کی اور راستے میں گزرتی ہوئی گاڑی کو اشارہ کیا ،خاتون نے بتایا کہ اسے یقین تھا کہ گاڑی رک گئی ہے اور وہ سکون میں آ گئی ۔“

”لیکن بد قسمتی سے گاڑی سے کوئی مدد حاصل نہیں ہوئی ،اس موقع پر خاتون کو صرف اپنے بچوں کی فکر تھی اور وہ انہیں بچانے کیلئے کوشش کر رہی تھی ، کیونکہ انہوں نے بچوں کو بری طرح سے تشدد کا نشانہ بنایا تھا ، بچوں اور خاتون دونوں خون میں لت پت تھیں ، بچوں کے جوتے سڑک پر بکھرے پڑے تھے ۔“

”خاتون نے بتایا کہ جب انہیں جنگل بیابان میں گھسیٹا جارہا تھا تو اس وقت میں نے بچوں کو یہ یقین دہانی کروانے کی کوشش کی کہ میں ٹھیک ہوں جس پر مسلح افراد نے میرے سر پر بندوق سے مارا ۔خاتون مسلسل دعا پڑھ رہی تھیں اور بچوں سے بھی ایسا ہی کرنے کیلئے کہہ رہی تھیں ، بچے بھی دعا ہی مانگ رہے تھے ۔“

”جب ماں اور بچوں کو ایسے گھسیٹا جارہا تھا جیسے قربانی کے جانوں کو قربان گاہ لے جایا جاتاہے تو مسلح افراد کے ہاتھ سے وہ بیگ گر گیا جو انہوں نے خاتون سے لوٹا تھا ، بیگ میں خاتون کا سونے کا بریسلیٹ تھا جس کی قیمت پانچ لاکھ روپے تھی جبکہ ایک لاکھ روپے کیش کے علاوہ دیگر قیمتی اشیاءبھی موجود تھیں ، درندوں نے خاتون کو گن پوائنٹ پر رکھا اور وہ واپس وہ بیگ ڈھونڈ کر لائے ۔“

”خاتون نے بتایا کہ انہیں کوئی ڈر یا خوف نہیں تھا کہ پولیس ان تک پہنچ جائے گی ، اس وقت پولیس کو اطلاع دیئے تقریبا ڈیڑھ گھنٹا بیت چکا تھا ۔“ 

”خاتون نے کہاکہ ان مسلح افراد کے ارادے واضح تھے ، اگر  پتا چلے کہ ا ن کو مخبری کی گئی ہے تو وہ بالکل بھی حیران نہیں ہو ں گی ، انہوں نے جو کرنے کا منصوبہ بنایا تھا وہ اس پر مکمل طور پر پرُ اعتماد تھے .متاثرہ لڑکی کا موبائل فون اس چھینا جھپٹی کے دوران گاڑی کی سیٹ کے نیچے چلا گیا ، ڈاکوﺅں نے موبائل کا مطالبہ بھی نہیں کیا جو کہ بعد میں گاڑی کی سیٹ کے نیچے سے برآمد کیا گیا۔“

”خاتون نے ٹیلیفون کر کے اپنے فیملی فرینڈز کو بلایا جہاں وہ کھانے پر گئی تھی ، جب وہ اسے لینے پہنچے تو اسے پولیس اہلکاروں نے گھیر رکھا تھا ، وہ اسے میڈیکل کے بغیر جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے ، خاتون کے اہل خانہ اس معاملے پر خاموش رہنا چاہتے تھے ۔“

”خاتون کی فیملی نے شدید دباﺅ میں پولیس والوں سے درخواست کی کہ وہ اسے جانے دیں ، ان کی دوست نے بتایا کہ وہ ایک مرغی کی طرح ڈری ہوئی تھی ، اس کی آنکھیں پھٹی ہوئی تھیں اور وہ کانپ رہی تھی ، اس نے اپنی فیملی اور فرینڈز کو پہنچانے سے بھی انکار کر دیا ۔“

”پولیس مسلسل میڈیکل پر اصرار کر رہی تھی جو کہ پروفیشنل ضرورت بھی تھی ، لڑکی نے بتایا کہ اس سے وعدہ کیا گیا کہ رپورٹ کو صیغہ راز رکھا جائے گا لیکن خاتون کا دل اس وقت ٹوٹ کر رہ گیا جب اسے معلوم ہوا کہ اس کی شناخت لیک ہو گئی ہے ۔“

”خاتون نے ابھی تک کچھ بھی نہیں کھایا ، اس نے پہلے دن کچھ زیادہ بات نہیں کی ، لیکن اب وہ تھوڑی بہت بات کر رہی ہے ، وہ اس وقت بہت ہی مشکل وقت سے گزر رہی ہے ، اب پاکستانیوں کے اس مسئلے پر کھڑے ہونے کی ضرورت ہے ۔“

صحافی فریحہ نے کہا کہ میں نے لڑکی کو پیغام دیاہے کہ پورا پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے ، آپ کو کسی چیز پر بھی شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، ہم یقینی بنائیں گے کہ آپ کے ساتھ جن درندوں نے ظلم کیا انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، “۔

مزید :

قومی -