"تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ ریپ کیلئے خاتون کو شیشے توڑ کر گاڑی سے نکالا جائے" نوجوان نے انتہائی شرمناک بات کہہ دی

"تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ ریپ کیلئے خاتون کو شیشے ...

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) موٹروے زیادتی کیس پر جہاں پورا ملک افسردہ ہے اور مجرموں کی تلاش کا مطالبہ کر رہا ہے ایسے میں کچھ ایسی ذہنیت کے افراد بھی ہمارے ہی معاشرے میں موجود ہیں جو متاثرہ خاتون کو ہی قصور وار قرار دے رہے ہیں اور ریپ کے ملزموں کے حق میں طرح طرح کے دلائل دے رہے ہیں۔

ایسے ہی ایک نوجوان یہ بھی ہیں جن کی پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔ اس نے ایسے طریقے سے ریپسٹ کے حق میں دلائل دیے ہیں جیسے یہ کوئی بہت بڑا "ایکسپرٹ" ہے۔ 

 اس نوجوان نے ایک بحث کے دوران تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ " سب سے پہلے جس کا ریپ ہوا اس کی شوہر کے ساتھ لڑائی ہوئی تھی  اور دوسرا وہ پولیس کو کال کرتی، اس نے لاہور میں رشتے داروں کو کال کیوں کی، تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ناں کے ایک سے ،  جو ہوا برا ہوا پر قصور جو تھا وہ اس عورت کا تھا، خود ریپسٹ کبھی اتنا نہیں ہو سکتا کہ شیشے توڑ کر باہر گھسیٹ کے ریپ کرکے چلا جائے، تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ناں کے ایک سے۔"

جس پوسٹ پر اس نے یہ "انتہائی گھٹیا" تبصرہ کیا تھا وہ پوسٹ کرنے والی خاتون نے اس کی کرتوت کا سکرین شاٹ لے کر شیئر کردیا جس کے بعد یہ معافیاں مانگنے لگا۔ خاتون نے نوجوان کی جانب سے بھیجا جانے والا معافی نامی بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔

اس نوجوان نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا " ہانیہ اللہ کے واسطے وہ پوسٹ ڈیلیٹ کردو، میں معافی مانگتا ہوں سب سے اور اللہ سے بھی ، مجھے نہیں پتہ کہ یہ بکواس میرے منہ سے کب نکل گئی، برائے مہربانی اور پیجز والے بھی شیئر کردیں گے اس لیے ڈیلیٹ کردو، میرے بھائی اور سارا خاندان فیس بک چلاتا ہے، اللہ نبی کے واسطے پوسٹ ڈیلیٹ کردو"

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اخلاق سے گرا ہوا تبصرہ پیش کرنے والے نوجوان کو سبق سکھانے کے اس طریقے کو خوب پسند کیا جارہا ہے۔ بعض صارفین نے تو یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس کی اصل آئی ڈی بتائی جائے تاکہ 4 حرف ان کے اصل مستحق تک ایمانداری سے پہنچائے جاسکیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -علاقائی -پنجاب -لاہور -