11 سالہ فلسطینی بچے کے رَیپ گانے نے دنیا کو تڑپا دیا

11 سالہ فلسطینی بچے کے رَیپ گانے نے دنیا کو تڑپا دیا
11 سالہ فلسطینی بچے کے رَیپ گانے نے دنیا کو تڑپا دیا
کیپشن:    سورس:   facebook/A21MiddleEastNews

  

یروشلم(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک ننھے فلسطینی گلوکار کی کی ویڈیوز ان دنوں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں اور لوگ اس کی گائیکی کے مداح بن چکے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے اس 11سالہ گلوکار کا نام عبدالرحمن الشنطی ہے جو ایک ریپر (مغربی گائیکی کی ایک قسم)ہے۔ اس کی جنگ پر گائی گئی نظموں کی ویڈیوز کے ذریعے فلسطینی علاقے کی تکالیف دنیا کے لاکھوں لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔ عبدالرحمن کی نظموں کا بنیادی موضوع امن اور انسانیت ہے۔ 

ایک ویڈیو میں عبدالرحمن الشنطی اپنے سکول کے باہر اپنے کلاس فیلوز میں گھرا ایک نظم گا رہا ہوتا ہے۔ ان سب نے سکول کے یونیفارم پہن رکھے ہوتے ہیں۔ عبدالرحمن کی یہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جسے مشہور برطانوی ریپر لوکی نے بھی شیئر کیا ہے۔ اس نظم کے بول کچھ یوں ہیں کہ ”میں آپ کو یہ بتانے کے لیے یہاں آیا ہوں کہ ہماری زندگیاں سخت کٹھن ہیں۔ ہماری سڑکیں ٹوٹی پھوٹی اور صحنوں میں بم برستے ہیں۔ہم یہاں زندگی اور موت کی کشمکش میں زندگی گزار رہے ہیں۔“ 

عبدالرحمن نے اپنے اس گیت کا نام ’غزہ کا پیامبر‘ رکھا ہے۔اگرچہ الشنطی کی مادری زبان عربی ہے تاہم وہ انگریزی میں بھی بڑی روانی اور عمدہ لہجے کے ساتھ گیت گاتے ہیں۔ عبدالرحمن کا کہنا ہے کہ اس نے انگریزی زبان پر یہ مہارت معروف امریکی ریپر زائمینم، ٹیوپک اور ڈی جے خالد کے گیت سن سن کر حاصل کی ہے۔اس کا کہنا تھا کہ ”میں اپنے گیتوں کے ذریعے باہر کی دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ غزہ میں زندگی کیسی ہے۔ میں بیرونی دنیا سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ غزہ کے بچے ان کے بچوں جیسی زندگی کیوں نہیں گزار سکتے۔“

مزید :

بین الاقوامی -